انڈین فوج میں 97000 خالی آسامیاں، پاکستان اور لداخ کی سرحد تک سنگین چیلنجز کے باوجود فوج میں بھرتیاں کیوں نہیں ہو رہیں؟
معاملے کی تفتیش کرنے والے اے ایس آئی وریندر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پون نے اسی سکول کے میدان میں ایک درخت سے لٹک کر خودکشی کی جہاں وہ فوج میں بھرتی ہونے کے لیے دوڑ لگایا کرتے تھے۔۔
وریندر سنگھ نے بتایا: ’تالو گاؤں کے رہائشی پون پچھلے کئی سالوں سے فوج میں بھرتی ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔ انھوں نے میڈیکل سے لے کر فٹنس تک کی تمام رکاوٹوں کو عبور کر لیا تھا۔ لیکن کووڈ کی وجہ سے نئی بھرتیاں نہیں ہوئیں۔ اس دوران ان کی عمر فوج میں بھرتی کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد سے زیادہ ہو گئی جس کی وجہ سے انھوں نے خودکشی کر لی۔‘
‘جہاں سے پون کی لاش برآمد ہوئی، زمین پر ایک نوٹ ملا جس میں لکھا تھا کہ ‘پاپا جی، اس جنم میں فوجی نہیں بن سکا۔ اگر میں اپنا اگلا جنم لوں گا تو پھر یقینی طور پر فوجی بنوں گا۔’
اس خودکشی کی خبر کے سامنے آنے کے بعد عام آدمی پارٹی سے لے کر کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے مرکزی حکومت پر سوال اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔
لیکن اپوزیشن لیڈروں کی تنقید کے درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان ورون گاندھی نے بھی اس معاملے پر ٹویٹ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ جس گراؤنڈ میں، میں نے قوم کی خدمت کا عزم لیا تھا، وہاں آخری الفاظ لکھے تھے ‘باپو اس جنم میں نہیں بن سکا، اگلا جنم لیا تو فوجی ضرور بنوں گا’۔
‘عمر کی حد گزر جانے کے باعث ڈپریشن ان نوجوانوں کو اندر سے توڑ رہا ہے، حکومت ان محنت کش نوجوانوں کی فریاد کب سنے گی؟’
https://twitter.com/varungandhi80/status/1519965837687369729
دوسری جانب کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان رندیپ سرجے والا نے اس معاملے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے۔
انھوں نے لکھا ہے کہ ‘کاش مودی جی بے روزگاری کی بے بسی کو جان سکتے! مارچ 2020 سے فوج میں بھرتی بند ہے! پہلے ہر سال 80,000 بھرتیاں ہوتی تھیں، اب سب بند ہو گئی ہیں۔ فوج میں 1,22,555 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ کیا سن سکیں گے اس نوجوان کی آخری درخواست!’
https://twitter.com/rssurjewala/status/1519921103140966401
لیکن یہ پہلی بار نہیں ہے کہ فوج میں بھرتیوں کے ملتوی ہونے کی وجہ سے حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
فوج میں بھرتی کے متعلق احتجاج
اس خبر کے آنے سے تقریباً تین ہفتے قبل یعنی پانچ اپریل کو سینکڑوں نوجوانوں نے دہلی کے جنتر منتر پر فوج میں بھرتیاں کھولنے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کیا تھا۔
اس دوران نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے مظاہرین میں سے ایک نے کہا کہ پچھلے دو سالوں سے کوئی بھرتی نہیں ہوئی ہے۔
اسی احتجاج میں حصہ لینے والے ایک اور شخص سندیپ فوجی نے کہا کہ ‘ہم یہاں بھرتی ریلیاں کھولنے کا مطالبہ کرنے آئے ہیں اور عمر میں دو سال کی نرمی بھی چاہتے ہیں۔ جو نوجوان فوج میں شامل ہونا چاہتے تھے وہ مختلف مقامات پر جمع ہوئے ہیں، فٹنس ٹیسٹ دیا لیکن تحریری امتحان ملتوی ہوتا رہا۔’
واضح رہے کہ انڈین فوج میں ابتدائی سطح کی بھرتیوں کے لیے ملک بھر میں مختلف مقامات پر ریلیاں یعنی دوڑ کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔
ان ریلیوں میں زیادہ تر دیہی پس منظر سے آنے والے نوجوان حصہ لیتے ہیں۔
ہریانہ، راجستھان، اتر پردیش، بہار اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں کے دیہی علاقوں میں نوجوانوں کا ایک طبقہ فوج میں بھرتی ہونا چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ طویل تیاری کرتا ہے۔
ایسے میں بھرتی بند ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں رہنے والے نوجوان احتجاج میں حصہ لیتے نظر آئے۔
پارلیمان کے ایوان بالا میں سوالات
اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بھی سوالات پوچھے گئے ہیں۔ ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 21 مارچ کو راجیہ سبھا میں بتایا تھا کہ بھرتی کا عمل کورونا کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
کیا نریندر مودی انڈین فوج کے اہلکاروں کی تعداد میں کمی کر رہے ہیں؟
انڈین فوج میں مسلم رجمنٹ کی حقیقت کیا ہے؟
انڈین فوج میں افسران کی کمی کتنا بڑا چیلنج ہے؟
مرکزی وزیر دفاع (ریاستی چارج) اجے بھٹ نے راجیہ سبھا میں کووڈ کی مدت کے دوران بھرتیوں سے متعلق معلومات دی ہیں۔
انھوں نے 21 مارچ 2022 کو بتایا کہ سنہ 2020-21 میں 97 بھرتی ریلیاں ہونی تھیں جن میں سے صرف 47 بھرتی ریلیاں ہی ہو سکیں۔ اور 47 بھرتی ریلیوں میں سے صرف چار ریلیوں کے لیے مشترکہ امتحان لیا جا سکا۔
https://twitter.com/ANI/status/1511241616337477634
اس کے ساتھ ساتھ سنہ 2021-22 میں 87 ریلیاں منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جن میں سے صرف چار ریلیاں ہی منعقد کی جا سکیں۔ اور ان میں سے کسی بھی دوڑ کے کامیاب امیدواروں کا امتحان نہیں لیا جا سکا۔
پہلے دو سالوں کے اعداد و شمار دیتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ سنہ 2018-19 میں 53,431 اور 2019-20 میں 80,572 فوجی بھرتی کیے گئے ہیں۔
اس طرح سے 2018 سے 2022 تک گذشتہ چار سالوں میں مرکزی حکومت کی طرف سے فوج میں کل 1,34,003 بھرتیاں کی گئی ہیں۔
انڈین فوج میں اب بھی 97 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں۔ اور 2022-23 کے حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
انڈین فوج میں 97 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں
انڈین فوج میں اسامیوں کی کل تعداد 1229559 ہے جس میں سے 97,177 آسامیاں ابھی خالی پڑی ہیں۔ اور یہ اس دور کے اعداد و شمار ہیں جب انڈین فوج کو اروناچل پردیش سے لے کر پاکستان اور لداخ کی سرحد تک سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزارت دفاع نے ان آسامیوں کو جلد سے جلد پر کرنے کے لیے گذشتہ چند سالوں میں کتنی بھرتیاں کی ہیں۔
وزارت دفاع کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد، بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ انڈین فوج ہر سال مختلف مراکز میں بھرتی ریلیاں نکال کر فوجیوں کو بھرتی کرتی ہے۔
پچھلے سات سالوں میں کتنی آسامیاں پر ہوئیں؟
وزارت دفاع سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے گذشتہ سات سالوں میں سالانہ اوسطاً 60 ہزار فوجی بھرتی کیے۔
ایسی صورت حال میں 2013-14 میں 54186 فوجی، 2014-15 میں 31911، 2015-16 میں 67954، 2016-17 میں 71804، 2017-18 میں 52447 اور 2017-18 میں 56201 اہلکار بھرتی کیے گئے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب انڈین فوج میں جوانوں کی سطح پر اتنی زیادہ آسامیاں خالی ہیں تو کیا حکومت کئی سالوں سے تیاری کرنے والے نوجوانوں کو اضافی موقع دینے پر غور کر رہی ہے؟
کیا حکومت ایک اور موقع دے گی؟
اجے بھٹ نے اس سوال کے جواب میں کہا ہے کہ انڈین فوج اور فضائیہ نے ایسی کسی تجویز پر غور نہیں کیا ہے۔ تاہم انھوں نے بتایا کہ بحریہ میں ملازمت کے خواہشمند افراد کو چھ ماہ کا اضافی وقت دیا گیا ہے۔
اس سے قبل بی بی سی کے نمائندے سوتک بسواس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ انڈیا اپنی فوج پر امریکہ اور چین کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ خرچ کرنے والا ملک ہے اور دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کرنے والا ملک ہے۔ (نریندر مودی کی حکومت اب ملکی دفاعی ساز و سامان کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے) انڈیا کے پاس جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کا بھی وافر ذخیرہ ہے۔
محکمہ دفاع کے ذرائع کے حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت ایک مقررہ مدت کے لیے فوجیوں کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے، جسے ‘ڈیوٹی کا تین سالہ ٹور’ بھی کہا جاتا ہے۔
فوج کا سائز کم کرنے کی بات
نریندر مودی بذات خود فوج میں اصلاحات کے حامی ہیں۔ ماضی میں انھوں نے ایسی 'فورسز کی ضرورت کے بارے میں بات کی ہے جو چست، موبائل اور ٹیکنالوجی سے لیس ہو، نہ کہ صرف انسانی بہادری پر منحصر ہو۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انڈیا کو 'تیزی کے ساتھ جنگیں جیتنے والی صلاحیتوں کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمارے پاس زیادہ دیر تک جاری رہنے والی لڑائیوں کی آسائش نہیں ہے۔‘
فوج کا سائز کم کرنے کی سب سے زیادہ حوصلہ افزا وکالت ایک انتہائی معزز ریٹائرڈ افسر کی طرف سے آتی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے ایک حالیہ تبصرے میں کہا کہ فوج میں ایک لاکھ سے زیادہ اہلکاروں کی موجودہ کمی اصلاحات لانے کا ایک اچھا موقع ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل پناگ کا کہنا ہے کہ ’21ویں صدی کی افواج کو جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی سے لیس، چست اور فوری رد عمل دینے والی مسلح افواج کی ضرورت ہے۔ بطور خاص برصغیر کے تناظر میں اس کی زیادہ ضرورت ہے جہاں جوہری ہتھیار بڑے پیمانے پر روایتی جنگوں سے باز رکھتے ہیں۔’
وہ کہتے ہیں کہ انڈیا کے پاس ‘بڑی فوج ہے جہاں ہم معیار کی تلافی کے لیے مقدار کے استعمال پر مجبور ہیں۔ ایک ترقی پذیر معیشت کے طور پر انڈیا کے دفاعی اخراجات میں ‘تیزی سے اضافہ نہیں ہو سکتا’ اور اس لیے اسے فوجی اہلکاروں کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

