’فرح خان بالکل بے قصور ہیں‘: عمران خان کا بشری بی بی کی دوست کا دفاع اور نیب کی وضاحت

منزہ انوار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


فرح خان، فرح گجر اور فرحت شہزادی۔۔۔ اب تک آپ یہ تو جان چکے ہوں گے کہ یہ تینوں نام ایک ہی خاتون کے ہیں جو سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی دوست بتائی جاتی ہیں۔

حالیہ کچھ عرصے میں فرح خان کا نام سوشل میڈیا سے لے کر جلسوں اور ٹی وی سکرینوں تک موضوعِ بحث رہا ہے مگر ان کی وجہ شہرت صرف سابق خاتونِ اول کی سہیلی ہونا نہیں بلکہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ناراض اراکین کی جانب سے اُن پر لگائے جانے والے بدعنوانی کے الزامات ہیں۔

ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد گذشتہ ماہ (28 اپریل) نیب کی جانب فرح خان کے خلاف نامعلوم ذرائع آمدن کی مدد سے اثاثے بنانے، منی لانڈرنگ جیسے الزامات کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تاہم فرح خان نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور انھیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

گدذشتہ روز سوشل میڈیا اور نجی ٹی وی چینلز پر ایسی خبریں چلیں کہ گوجرانوالہ میں فرح خان سے منسوب ہاؤسنگ سکیم کے خلاف سرکاری اداروں نے ایکشن لیا ہے اور سوسائٹی کا دفتر سیل کر دیا گیا ہے۔ ان خبروں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ کارروائی نیب کی جانب سے کی گئی ہے۔

تاہم نیب کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نجی چینلز اور سوشل میڈیا پر چلنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر ایسی کوئی کارروائی ہوئی ہے تو وہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی ہو گی۔‘

عمران خان: ’فرح بالکل بے قصور ہے‘

چند روز قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے فرح خان کے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں کیا پتا فرح کون ہیں۔‘

مگر گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے فرح خان کا دفاع کیا۔ انھوں نے نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جو آپ نے فرح خان پر کیس ڈالا ہے، یہ کسی کو بھی پہلے دکھائیں کہ کوئی کیس بن سکتا ہے؟‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پہلے تو کہا گیا کہ انھوں (فرح) نے نامعلوم ذرائع آمدن کی مدد سے اثاثے بنائے ہیں، یہ (قانون) صرف عوامی عہدہ رکھنے والی شخصیت پر لاگو ہوتا ہے۔ وہ کون سی کوئی ایم این اہے یا پبلک آفس ہولڈر تھیں؟ وہ تو گذشتہ 20 سال سے ریئل اسٹیٹ کا کام کرتی ہیں۔‘

عمران خان نے اسے انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’فرح کا کیا قصور ہے؟ بشری بیگم بہت کم لوگوں سے ملتی ہیں۔۔۔ ان میں سے وہ سب سے زیادہ جس سے ملتی ہیں وہ فرح خان ہے۔ یہ کنکشن ہے۔‘

عمران خان نے مزید کہا ’نقصان مجھے پہنچانا چاہتے ہیں لیکن میرے خلاف کچھ ملتا نہیں ہے، بشری بیگم پر کیا ملنا وہ تو گھریلو عورت ہے ان کا تو کوئی بزنس یا بینک اکاؤنٹ نہیں ہے، لہذا اُن کی دوست کو پکڑ لیا۔‘

انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’فرح بالکل بے قصور ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ انھیں صفائی کا پورا موقع دیا جائے اور اس معاملے کی پوری سنوائی ہو۔‘

’خان صاحب فرح خان کا دفاع کیوں کر رہے ہیں‘

سابق وزیِر اعظم کی نجی چینل کے ساتھ اس پریس کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر کئی افراد یہی پوچھتے نظر آتے ہیں کہ ملک کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان، فرح خان کا دفاع کیوں کر رہے ہیں؟

اظہر جاوید پوچھتے ہیں کہ ’فواد چوہدری فرح بی بی کو پہچاننے سے انکاری اور عمران خان کہتے ہیں فرح بے قصور ہیں، کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔‘

وقار احمد میمن نے ٹویٹ کیا ’پی ٹی آئی قیادت کل تک کہتی رہی کہ ہم فرح خان کو نہیں جانتے، اب آپ ہی دیکھ لیں کہ دفاع میں کوئی اور نہیں بلکہ سابق وزیراعظم و پارٹی چیئرمین عمران خان خود میدان میں آ گئے۔‘

یہ بھی پڑھیے

نیب کا فرحت شہزادی کے خلاف منی لانڈرنگ، نامعلوم ذرائع آمدن کے الزامات پر تحقیقات کا فیصلہ

’مردوں کے لیے بہت اچھی مثال ہے اور خان صاحب ویسے بھی آئیڈیل ہیں‘

عمران خان کی بشریٰ بی بی سے شادی کی تصدیق

بشریٰ بی بی کی بشارت

محسن حجازی پوچھتے ہیں کہ ’خان صاحب خود فرما رہے ہیں کہ خاتون نہ پارٹی عہدیدار نہ سرکاری عہدیدار اور نہ ہی خان صاحب کی رشتہ دار، بیس سال سے کاروبار میں ہے تو کسی بھی عام شہری کے خلاف تو کوئی بھی محکمہ جاتی کارروائی ہو سکتی ہے، اتنی اعلیٰ ترین سطح پر خان صاحب اُن کا دفاع کیوں کر رہے ہیں؟‘

بلال احمد نامی صارف نے انھیں جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’کیونکہ اس خاتون کی مبینہ کرپشن کو خان صاحب اور ان کی اہلیہ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔‘

ان سب سنجیدہ سوالات کے برعکس کچھ صارفین اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

ایسے ہی ایک صارف طارق پوچھتے ہیں ’عمران خان نے فرح کی صفائی دیتے ہوے فرمایا کہ وہ رئیل اسٹیٹ کا کام کرتی ہیں اور انھوں نے تین سال میں اربوں کمائے ہیں۔ خان صاحب! جب اس کام میں اتنی کمائی تھی تو آپ نے ہمیں مرغیوں اور انڈوں پر کیوں لگا دیا؟ کچھ مرغیاں بلیاں کھا گئیں جو باقی بچیں بلیوں سے وہ ہم خود کھا گئے۔‘

’یہ نیب کا دائرہ اختیار ہے‘

سابق وزیر اعظم کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں نیب کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ نیب قانون کے مطابق کسی بھی پبلک آفس ہولڈر یا اس کے اہلِخانہ(قانونی وارثین) کے خلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات اکھٹے کرنے کی شکایت پر انکوائری یا تفتیش کا قانون کے مطابق آغاز کر سکتا ہے۔

نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ فرح خان کے شوہر احسن جمیل گجر 1997 سے 1999 بطور چیئرمین ضلع کونسل گجرانوالہ میں قومی عہدہ پر فائز رہے لہذا آئین و قانون کے مطابق سابقہ عہدیدار یا ان کے اہلِخانہ کے خلاف کرپشن و مالی بدعنوانی میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی شکایات پر اقدامات نیب کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

اس سے قبل 28 اپریل کو نیب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ فرح خان کے اکاؤنٹ میں گذشتہ تین برسوں کے دوران 84 کروڑ 70 لاکھ روپے جمع کرائے گئے جو کہ ان کے آمدن کے معلوم شدہ ذرائع سے مطابقت نہیں رکھتے۔

اعلامیے کے مطابق ’یہ رقم ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی اور اسے جمع کرائے جانے کے بعد فوراً نکال لیا گیا۔‘

نیب کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میڈیا کی کئی رپورٹس میں بتایا گیا فرحت شہزادی (فرح خان) مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے رکھتی ہیں۔ ان کے انکم ٹیکس رٹرنز سے پتا چلا ہے کہ ان کے اثاثے نامعلوم وجوہات کی بنا پر سال 2018 کے بعد سے بہت زیادہ بڑھے ہیں۔‘

نیب کے مطابق فرح خان نے اس عرصے کے دوران کئی بیرونی دورے کیے ہیں۔ وہ نو مرتبہ امریکہ اور چھ بار متحدہ عرب امارات جا چکی ہیں۔

فرح خان کا مؤقف

فرح خان کی جانب سے آٹھ اپریل کو ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب دیا گیا تھا جس میں انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے اوپر عائد تمام الزامات کی تردید کرتی ہوں۔‘

اپنے بیان میں فرح خان نے کہا کہ ’میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی کبھی سرکاری معاملات میں مداخلت کی۔ میرے بزنس کے بارے میں میرے شوہر پہلے ہی وضاحت دے چکے ہیں۔‘

فرح خان نے اپنے خلاف نیب انکوائری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم تحقیقات سے چھپیں گے، نہ بچیں گے۔‘

سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نیب کی انکوائری ٹیم کے سامنے ذاتی طور پر اور اپنی قانونی ٹیم کے ذریعے پیش ہوں گے۔‘

اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی حمزہ شہباز نے حلف اٹھایا، 80 کی دہائی کی سیاست شروع کر دی گئی اور گوجرانوالہ میں ہماری ہاؤسنگ سوسائٹی کے دفتر کو سیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ انھوں نے اسے انتقام کے لیے طاقت کا بے جا استعمال قرار دیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24052 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments