ایم ایس سی پاس خود کش بمبار


پہلا سوال:ایم ایس سی ڈگری کی حامل، تعلیم یافتہ لڑکی، جو دو بچوں کی ماں ہو، فلسفے اور تاریخ کی کتابیں پڑھتی ہو، ٹویٹر پر اپنے شوہر اور بچوں کے تصاویر پوسٹ کرتی ہو اور اسکول میں پڑھاتی بھی ہو، اگر خود کش جیکٹ پہن کر چار بے گناہ افراد کو ہلاک کردے تو کیا اس میں اور طالبان میں کوئی فرق ہو گا؟ دوسرا سوال:کیا مسلح جد و جہد، چاہے وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہو، آزادی کے لیے ہو یا کسی اعلی ٰ و ارفع نظریے کی بالادستی کی خاطر ہو، کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ تیسرا سوال: اگر مسلح جدوجہد کسی بھی اعتبار سے جائز فعل نہیں تو پھر کیا فرانز فانن اور چی گویرا کی تصاویر محض دیواروں پر آویزاں کرنے کی غرض سے لگائی جاتی ہیں؟ چوتھا سوال : معاشرے کا سب سے پسا ہوا طبقہ، جس کی کوئی شنوائی نہیں، جب اپنی مسلح جدوجہد میں عام شہریوں کو نشانہ بناتا ہے تو کیا اس فعل کی حمایت کی جا سکتی ہے؟ پانچواں سوال: کیا خود کش حملوں کے نتیجے میں ریاست مجبور ہو کر اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتی ہے یا الٹا اس طبقے پر زمین مزید تنگ کر دی جاتی ہے؟

کراچی یونیورسٹی میں خود کش دھماکہ ہوا، اس دھماکے کی ویڈیو فوٹیج بھی سامنے آ گئی، اس فوٹیج میں ایک برقع پوش عورت کو دیکھا جا سکتا ہے جو ایک وین کا انتظار کر رہی ہے، جونہی وہ وین قریب آتی ہے عورت خود کو دھماکے سے اڑا دیتی ہے، نتیجے میں وین میں سوار چار لوگ جاں بحق ہو جاتے ہیں، ہلاک ہونے والوں میں وین کے ڈرائیور سمیت تین چینی اساتذہ بھی شامل ہیں جو کراچی یونیورسٹی کے ’کنفیوشس سنٹر‘ میں تعینات تھے۔ دھماکے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی اور وجہ یہ بتائی کہ چین بلوچستان میں سی پیک کے نام پر بلوچی وسائل پر قبضہ کر رہا ہے جس کے خلاف وہ مزاحمت کر رہے ہیں اور یہ دھماکہ اسی ’مزاحمت‘ کا حصہ ہے۔ اس واقعے کے بعد جو رد عمل سامنے آیا اس میں ہر طبقہ فکر کے افراد نے، بشمول ان کے جو بلوچستان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہتے ہیں، دھماکے کی مذمت کی مگر ساتھ ہی اس قسم کے تبصرے بھی کیے کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ آخر کیوں ایک پڑھی لکھی لڑکی خود کش بمبار بننے پر مجبور ہوئی، اب بلوچوں پر مزید ظلم ہو گا، مزید افراد لاپتا ہوں گے، ریاست کو چاہیے کہ وہ بلوچستان کے بارے میں اپنی پالیسی کا گہرائی سے جائزہ لے، وغیرہ۔ یہیں سے وہ اوپر والے پانچ سوالات جنم لیتے ہیں۔

ہم لوگوں کو، جو لاہور، کراچی، اسلام آباد کے پر آسائش گھروں میں رہتے ہیں، یہ اندازہ ہی نہیں کہ بلوچستان میں زندگی کیسی ہے، ایک عام بلوچی شخص کیا سوچتا ہے، اس کو اپنے مستقبل کے بارے کس قسم کی نا امیدی ہے اور وہ ہماری ریاست کے اقدامات کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ کبھی کبھی جب میں بلوچستان کے وسائل، وہاں کے لوگوں کے حقوق، ان پر ہونے والے مظالم، انتہائی غربت اور پسماندگی میں زندگی گزارنے والے بلوچ عوام اور لاپتا افراد کے لواحقین کے بارے میں سوچتا ہوں تو کانپ اٹھتا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ ان تمام معاملات میں ہمیں بلوچ عوام کے نقطہ نظر کی سو فیصد حمایت کرنی چاہیے کیونکہ بلوچستان کا مفاد ہی پاکستان کا مفاد ہے۔ مگر اس غیر مشروط حمایت کے باوجود اس خود کش حملے کا جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا جو تیس برس کی شاری بلوچ عرف برمیش نے جامعہ کراچی میں کیا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اس حملے کا جواز تراشا جا سکتا ہے تو پھر طالبان کے خود کش حملوں کا جواز قبول کرنے میں کیا حرج تھا؟ شاری بلوچ کا خود کش حملہ محض اس وجہ سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ فلسفے کی کتابیں پڑھتی تھی اور طالبان کا حملہ محض اس وجہ سے ناجائز نہیں ہو سکتا کہ وہ ٹخنوں سے اونچی شلوار پہنتے تھے۔ مسلح جد و جہد بظاہر بہت رومانوی تصور ہے، چی گویرا سے لے کر نیلسن منڈیلا تک سب نے اپنے حقوق کے لیے بندوق اٹھائی، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نہتے شہریوں کا قتل عام شروع کر دیں، شاری بلوچ نے جن چار لوگوں کا قتل کیا، ان میں سے ایک غریب ڈرائیور تھا، جس کے بیوی بچے اب نہ جانے کس حال میں ہوں گے، اور باقی تین چینی باشندے، عام سیدھے سادے معصوم لوگ تھے جن کا سی پیک، گوادر، بلوچستان سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ میں نے شاری بلوچ کا ٹویٹر اکاؤنٹ دیکھا ہے، اس اکاؤنٹ کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے وہ انقلاب، مزاحمت اور مسلح جدوجہد جیسے تصورات سے بہت متاثر تھی، خود کش حملے سے دس گھنٹے پہلے اس نے معنی خیز انداز میں ’خدا حافظ‘ کی ٹویٹ کی جو کچھ یوں تھی ’رخصت اف اوران سنگت‘ ۔ ایک اور ٹویٹ میں اس نے لکھا کہ ’میں کہانی تو نہیں ہوں کہ صدا رہ جاؤں، میں نے کردار نبھانا ہے چلے جانا ہے۔ ‘ اسی طرح ایک ٹویٹ میں اس نے چند کتابوں کی تصویر دکھائی اور لکھا کہ انہیں پڑھنے کا ارادہ ہے، ان کتابوں میں کافکا، گیبرئیل گارشیا مارکیز اور رچرڈ ڈاکنز کی کتابیں شامل تھیں۔

ظاہر ہے کہ اس قسم کی لڑکی نے جب خود کش دھماکہ کیا تو بہت سے لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ بلوچستان کی محرومیوں کا ازالہ ضروری ہے اور سوچنا چاہیے کہ ایسی لڑکی نے انتہائی قدم کیوں اٹھایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان کی محرومیوں کا ازالہ ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس کے لیے ہمیں کسی تعلیم یافتہ خود کش بمبار کے حملے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے مگر یہ خود کش حملہ کسی طور درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خود کش بمبار چاہے آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ ہو یا مدرسے کا، اگر وہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنائے گا تو یہ جرم ناقابل معافی ہی کہلائے گا۔

جامعہ کراچی کے خود کش حملے سے بلوچ عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی، یہ بات لکھتے ہوئے مجھے سخت تکلیف ہو رہی ہے کیونکہ بلوچستان کے لوگوں کے لیے تو پہلے ہی حیات جرم ہے اور زندگی وبال ہے، اس حملے سے ان کی تکالیف بڑھ جائیں گی اور ان کی ’کاز‘ کو بھی نقصان پہنچے گا۔ لاپتا افراد کے لواحقین جب اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھا کر اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر خاموشی سے بیٹھتے تھے تو روح لرز جاتی تھی، یہ درجن بھر لوگ اپنی پردہ دار عورتوں اور معصوم بچوں کے ساتھ خالی خالی آنکھوں سے اپنے ارد گرد کھڑی پر شکوہ عمارتوں کو دیکھ کر سوال کرتے تھے کہ ان کے پیارے کس قانون کے تحت اور کس جرم میں اٹھائے گئے ہیں تو یہ سوال ہمارے چہرے پر ایک زناٹے دار تھپڑ کی طرح لگتا تھا۔ ہم لاکھ تاویلیں دیتے کہ یہ لوگ غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھے یا کسی دہشت گردی کے جرم میں مطلوب تھے، بات نہیں بنتی تھی، کیونکہ ملک کا آئین بہرحال انہیں اپنے قانونی دفاع کا حق دیتا تھا۔

بے شک بلوچستان سے متعلق پالیسیوں میں خرابی ہوگی اور وہ سب خرابیاں درست کرنا ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے مگر کیا اس خود کش حملے کی وجہ سے ریاست ان پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو جائے گی تو جواب ہے کہ نہیں، ریاستیں اس طرح خود کش حملہ آوروں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکتیں۔ سری لنکا کے صوبے جافنا میں تامل ٹائیگرز کی تحریک اس سے کہیں زیادہ متشدد تھی اور تامل باغیوں نے تو ریاست کے اندر ریاست بھی بنا رکھی تھی مگر اس کے باوجود وہ سری لنکا کی فوج کے آگے نہیں ٹک سکے، پاکستان تو اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مستحکم ہے۔ بلوچ مزاحمت کاروں کو یہ بات سوچنی ہوگی کہ وہ جس راستے پر چل رہے ہیں اس کا کوئی بھی نتیجہ ان کے مفاد میں نہیں نکل سکتا۔ خود کش حملے میں بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے والی لڑکی کے مقابلے میں اس معصوم بلوچ بچے کا احتجاج کہیں زیادہ پر اثر ہے جو اپنے لا پتا والد کی تلاش میں شاہراہ دستور پر اپنی ماں اور بہنوں کے ساتھ بیٹھا ہے۔ سو یہ فیصلہ اب ان مزاحمت کاروں کا ہے کہ انہوں نے کون سا راستہ اپنانا ہے!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 296 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments