پردے میں رہنے دو: ’اجنبی اداکار کے ساتھ رومانس کرنا مشکل ہوتا ہے‘


ہانیہ اور علی رحمان
پاکستان جیسے معاشروں میں کسی بھی نئے شادی شدہ جوڑے کو جو سوال سب سے زیادہ پریشان کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ’بچہ کب آئے گا؟‘ اور اگر شادی کو تھوڑا زیادہ وقت ہو جائے تو یہ سوال چہ مگوئیوں اور طعنوں میں بدلنے لگتا ہے۔ عموماً ان سوالوں کا نشانہ عورت ہوتی ہے لیکن لازم نہیں کہ اس کی وجہ بھی عورت ہی ہو، یہی موضوع لے کر آئی ہے عید پر ریلیز ہونے والی نئی پاکستانی فلم۔

پاکستان میں ٹیلی ویژن سے مقبولیت حاصل کرنے والے اداکار علی رحمان خان اور ہانیہ عامر کی فلم ’پردے میں رہنے دو‘ بالآخر عید پر ریلیز ہو گئی ہے۔ یہ فلم کووڈ کی پابندیوں کے تحت اب تک سینما کی زینت نہیں بن پائی تھی۔

دونوں مرکزی اداکاروں کا کہنا تھا کہ دو سال بعد مقامی سینما کھلنے جا رہے ہیں اس لیے کافی جوش و خروش ہے خاص طور پر جب پاکستانی فلمیں پیش کی جا رہی ہیں۔

لوگ یہ فلم کیوں دیکھیں؟

بی بی سی کے لیے براق شبیر سے بات کرتے ہوئے ہانیہ عامر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مختلف موضوعات پر فلمیں بنتی ہیں۔ اپنی فلم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ’یہ موضوع اس وقت پاکستان کے لیے بہت ضروری ہے، اس پر بات ہونی چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا ’ایسے موضوعات پر نہ تو ہر پروڈیوسر پیسہ لگانا چاہتا ہے اور نہ ہر اداکار ایسے کردار کرنا چاہتے ہیں اور نہ ڈائریکٹر ایسے منصوبوں کو وقت دینا چاہتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ لوگ شاید ایسی فلمیں دیکھیں یا نہ دیکھیں۔ کیونکہ مسائل پر بنی فلموں کا کچھ پتا نہیں ہوتا۔‘

ہانیہ عامر کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم ایسی فلموں کو سپورٹ نہیں کریں گے تو ہم وہی دیکھتے رہیں گے جو ہم آج تک دیکھتے آ رہے ہیں۔ ہمیں صرف ایسی ہی فلموں کو دیکھنے نہیں جانا چاہیے جن میں ایک مہندی، ایک شادی اور چار گانے ہوں۔ اگر ایسا ہی رہا تو ہم سینما میں کچھ بدل نہیں پائیں گے۔‘

ہانیہ عامر کے بقول اس فلم میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو حقیقت کے قریب ہیں۔ یہ کافی حساس موضوع ہے جسے خوبصورتی سے لکھا اور فلمایا گیا ہے۔

وہ مسائل جن پر بات نہیں کی جاتی

پردے میں رہنے دو

فلم کے موضوع کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اداکار علی رحمان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے معاشرے میں کئی ممنوعہ موضوعات ہیں جن پر بات نہیں کی جاتی، یہ فلم ان میں سے ایک کے بارے میں ہے، یہ کسی انسان یا تعلق کے بارے میں نہیں بلکہ ایک بیماری اور اس کے حل کے بارے میں ہے۔‘

ہانیہ عامر اور علی رحمان اس فلم میں ایک شادی شدہ جوڑے کی شکل میں دکھائی دے رہے ہیں۔

علی رحمان کے بقول اس فلم میں کامیڈی بھی ہے، ڈرامہ اور رومانس بھی ہے اور ان سب کے ساتھ ساتھ ایک پیغام بھی دیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس میں کیے جانے والے مزاح اتنے حقیقی ہیں کہ لوگوں کو یہ مانوس لگیں گے۔

’لوگ فلم دیکھیں تو کہیں کہ ہمارے گھروں میں بھی یہی ہوتا، ہمارے رشتہ داروں یا محلے والوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔‘

علی رحمان کا کہنا تھا ’ہم چاہتے ہیں کہ لوگ یہ فلم دیکھیں اور اس موضوع پر اپنے گھروں میں بات شروع کریں۔ یا کم از کم خود سوچیں کہ یہ ایک ٹیبو کیوں ہے؟ اسے ممنوع موضوع ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے۔‘

’اجنبی اداکار سے رومانس مشکل ہے‘

ہانیہ عامر اور علی رحمان کے بقول وہ دونوں حقیقی زندگی میں بہت اچھے دوست ہیں۔ ان دونوں نے پہلے فلم ’جانان‘ ایک ساتھ کی تھی اگرچہ اس میں دونوں کے کردار مرکزی نہیں تھے لیکن اب اس فلم ’پردے میں رہنے دو‘ میں دونوں مرکزی کرداروں میں نظر آئیں گے۔

ہانیہ عامر کے بقول چونکہ ان دونوں میں دوستی تھی اس لیے یہ فلم کرتے ہوئے انھیں کوئی مشکل نہیں ہوئی۔

ہانیہ عامر کا کہنا تھا ’پردے کے پیچھے دوستی اور آپ کے اس شخص کے ساتھ اطمینان کی وجہ سے سکرین پر زیادہ اچھی لگتی ہے، اس سے کافی مدد ملتی ہے۔ کسی ایسے شخص کے ساتھ رومانوی سین کرنا آسان ہے جسے آپ جانتے ہوں یا وہ آپ کا دوست ہو اور ملتے رہتے ہوں، بانسبت اس کے کہ کسی اجنبی سے ساتھ کریں۔‘

علی رحمان بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کافی عجیب لگتا ہے کہ آپ کسی ایسے انسان سے رومانس کریں جسے آپ بالکل نہیں جانتے، اور ان سے بالکل کوئی کیمسٹری نہیں ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

میرے ہم سفر: ’لوگ کہتے ہیں میری آنکھیں بولتی ہیں‘

نعمان اعجاز: ’اگر آپ میرے مذاق کو نہیں سمجھ سکتے تو پھر یہ میرا مسئلہ نہیں‘

’عورتوں کے کردار طاقتور کے بجائے گہرے ہونا ضروری ہیں‘

’تیری راہ میں‘: ‘ایمان جیسی بہو ہر ساس چاہتی ہے‘

’اگر آپ ایک دوسرے کو نہیں جاتنے تو یہ تاثر بنانے میں ہی وقت لگ جاتا ہے۔ وہ بھی نروس ہوتے ہیں اور ہم بھی نروس ہوتے ہیں۔‘

علی رحمان کا کہنا تھا شادی شدہ اداکاروں کے ساتھ اور بھی مشکل ہے۔ ’آپ کو احترام کے دائرے میں رہنا ہوتا ہے، اگرچہ آپ کو پھر بھی یہ آن سکرین تعلق بنانا پڑتا ہے تاہم دوستوں کے ساتھ یہ آسان ہو جاتا ہے۔‘

ہانیہ عامر کا کہنا تھا کہ اس فلم کے ٹریلر پر انھیں کافی اچھا ردعمل ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اچھی بات یہ ہے کہ کسی نے منفی ردعمل نہیں دیا اور جس نقطۂ نظر سے ہم نے دکھانے کی کوشش کی ہے لوگوں سے بھی اسے ایسے ہی لیا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر مداحوں سے جڑے رہنا

پردے میں رہنے دو

ہانیہ عامر اپنے سوشل میڈیا اپ ڈیٹس کی وجہ سے اکثر ہی ہیڈ لائنز میں رہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اچھا لگتا ہے کہ میں اپنے مداحوں کے ساتھ بات کرتی رہوں۔‘

’مجھے ایسے لوگ پسند ہیں جو کسر نفسی سے کام لیتے ہیں، اپنے مداحوں سے جڑے رہتے ہیں اور بہت بہادری سے بتاتے ہیں کہ میرے زندگی میں یہ مسئلہ ہے اور شاید آپ کی زندگی میں بھی ہو۔ مجھے یہ چیز پسند ہے، اس لیے میں بھی چاہتی ہوں کہ اپنے مداحوں سے جڑی رہوں۔‘

’لوگ مجھ سے باتیں اور مسائل شیئر کرتے ہیں، میں انھیں حل بتاتی ہوں، جب لوگوں کو بتاتی ہوں کہ میں مداحوں سے بات کرتی ہوں تو انھیں یقین نہیں آتا۔ میں شاپنگ پر جاتی ہوں تو لوگوں سے ملتی ہوں۔ ان کے ساتھ بیٹھ جاتی ہوں۔‘

ہانیہ عامر کا کہنا تھا کہ ’ہر انسان اپنی جنگ خود چُنتا ہے۔ اب شہرت ملی ہے تو اسے صرف لے کر بیٹھ تو نہیں جاؤں گی۔ اگر میں کوئی ویڈیو لگاؤں گی تو اچھی بات ہے، چار لوگ اس سے کچھ سیکھ جائیں گے۔ میں صرف یہ کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔‘

’میں نے اپنی جنگ خود چُنی ہے، کئی لوگ اس سے اتفاق نہیں کریں گے، لیکن میں یہ نہیں چاہتی کہ وہ اپنے نظریات چھوڑ کر میرے نظریات پر یقین شروع کر دیں میں چاہتی ہوں کم از کچھ اسے سمجھ جائیں۔‘

تاہم ہانیہ عامر کہتی ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر مواد ڈال کر اس سے لاتعلق ہو جاتی ہیں کیونکہ ان کے بقول ’اگر آپ کمنٹس بھی پڑھنے بیٹھ جائیں گے تو یہ آپ کی ذہنی صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہو گا۔‘

ان کی نسبت علی رحمان سوشمل میڈیا پر زیادہ متحرک نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے حقیقی زندگی میں لوگوں کے ساتھ رہنا اور وقت گزرانا پسند ہے۔ جیسا کہ ملنا ملانا اور کھیل کھیلنا۔ میں ایسے ماحول میں بڑا ہی نہیں ہوا جس میں سوشل میڈیا پر بات کی جاتی ہے۔‘

’ہاں بحیثیت اداکار مجھے ضرورت ہے کہ میں مداحوں کو اپنے بارے میں اپ ڈیٹ کروں لیکن میرا خیال ہے کہ اب ناظرین بھی مجھ سے مایوس ہو چکے ہیں۔‘

فلم کی پروموشن کے لیے اصل شادی میں بن بلائے شرکت

فلم کی پروموشن کے لیے ہانیہ اور علی رحمان ایک اصلی شادی کہ فنکشن میں بھی گئے۔

اس موقع پر دولہا دلہن اور ان کے خاندان کے افراد کو ان کے بارے میں علم نہیں تھا۔ ان کے بقول پہلے تو لوگ حیران ہوئے کہ یہ ہیں کون، تاہم بعد میں سب خوش ہوئے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24047 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments