کینسر کو حواس پر طاری نہ کرنے والا شخص جو زندگی ہنستے کھیلتے گزار رہا ہے

روی پرساد - بی بی سی ہندی


زندگی اور موت کے درمیان صرف ایک تجربے کا فرق ہے۔ ہم زندگی گزارتے ہوئے جو تجربہ حاصل کرتے ہیں اس کی وضاحت کرنے کے قابل ہیں کیونکہ ہماری سانس چل رہی ہوتی ہیں۔

موت کے تجربے کی کہانی ان کہی رہ جاتی ہے کیونکہ سانسیں باقی نہیں رہتیں۔ دنیا کے پاس موت کا تجربہ نہیں ہے، بس موت آتی ہے اور ہم بے جان ہو جاتے ہیں۔

دوسرے ہماری موت کی کہانی سُنا سکتے ہیں لیکن وہ نہیں بتا سکتے کہ موت کے بعد کیا ہوتا ہے یا یہ تجربہ کیسا ہے؟

ہاں کبھی کبھی ہمارا معاشرہ ایسی کہانیاں سُناتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص مر گیا تھا لیکن چند گھنٹوں کے بعد اس کی سانسیں لوٹ آئیں۔ ’جب وہ دوبارہ زندہ ہوا تو اس کے ناخنوں میں عروہ چاول کے دانے، سرخ سندور یا پھول تھے۔‘ ایسی کہانیاں انڈیا کی ریاست بہارکے دیہاتوں میں اکثر سُننے کو ملتی ہیں۔

لیکن مبینہ طور پر زندہ ہونے والے لوگوں میں سے کسی نے بھی کبھی موت کے تجربے کی کہانی نہیں بتائی۔

موت ڈراونی ہوتی ہے۔ ہم مرنا نہیں چاہتے۔ جینا چاہتے ہیں؟ انڈیا جیسے ملک میں زیادہ تر لوگ 70 سال کی اوسط عمر پوری کر ہی لیتے ہیں۔ ایسے میں اگر آپ کی عمر 50 سال سے کم ہو اور موت نے آپکو ہیلو کہہ دیا تو کیا ہو گا؟

میری عمر اب 46 سال ہے۔ جنوری 2021 میں جب مجھے کینسر کی تشخیص ہوئی تو کچھ ہی دن پہلے میں نے اپنی 45ویں سالگرہ منائی تھی۔ مجھے ہلکی ہلکی کھانسی اور بخار تھا۔

ڈاکٹر کے پاس گئے تو کچھ ابتدائی ٹیسٹوں کے بعد پتہ چلا کہ مجھے پھیپھڑوں کا کینسر ہے۔ سی ٹی سکین پر سیاہ فلم پر سفید چمکیلے دھبے دکھائی دے رہے تھے۔

اس وقت مجھے دیکھنے والے ڈاکٹر نشیتھ کمار نے کہا کہ یہ آخری سٹیج کا کینسر ہو سکتا ہے۔ کینسر کے ٹیومر اور لمف نوڈس دکھائی دے رہے تھے۔

اس وقت تک یہ سب صرف تصویروں میں تھا۔ پھر مجھے کینسر اور اس کے سٹیج کی تصدیق کے لیے مزید کئی ٹیسٹوں سے گزرنا پڑا۔

کینسر دنیا کی ان خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے جس میں عام آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اگر اسے کینسر ہے تو اس کی جان داؤ پر لگی ہے۔ اسے اب مرنا ہے اور یہ موت کسی وقت بھی آ سکتی ہے۔

تاہم کینسر کے حوالے سے میڈیکل سائنس میں مسلسل تحقیق ہو رہی ہے اور بہت سے اچھے علاج جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’کینسر کے علاج کے ٹوٹکے‘ آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں

دوران حمل کینسر کی تشخیص ’میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی‘

کینسر اور سیکس: ‘مجھے مدد مانگتے ہوئے شرم آتی تھی‘

اماوس کی رات والا اندھیرا

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر کینسر کو ابتدائی سٹیج پر پکڑ لیا جائے تو اس کا علاج ممکن ہے۔ بہت سے لوگوں کا کامیاب علاج بھی ہوا ہے۔

لیکن علاج کے بعد دوبارہ کینسر ہونے کے امکان، اس کی وجہ سے ہونے والی اموات اور کینسر کے علاج کے دوران ہونے والے مضر اثرات کے بارے میں خوف اس سے ڈرنے کی چند معقول وجوہات ہیں۔

یہ علاج مہنگا بھی ہے۔ بہرحال کینسر کی تشخیص کے اگلے ہی دن جب میں علاج کے لیے ممبئی پہنچا تو میری آنکھوں کے سامنے اماوس کی رات والا اندھیرا تھا۔

وہاں کے مشہور ٹاٹا میموریل ہسپتال کی ڈاکٹر دیویانی نے میرے کچھ ٹیسٹ کروائے۔ جس میں موٹی اور باریک سوئیوں کے لگنے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور مجھے بھرتی کر لیا گیا۔

اگلے چند دنوں میں بائیوپسی سمیت دیگر اہم ٹیسٹ کے بعد ڈاکٹر نے بتایا کہ میرا کینسر فائنل سٹیج یعنی چوتھے یا آخری مرحلے میں ہے۔ میں پھیپھڑوں کے کارسنوما میٹاسٹیٹک کا مریض ہوں۔

یہ وہ حالت ہے جب کینسر کے سیلز جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں کینسر کا علاج اکثر مریض کے علاج کے لیے مفید نہیں ہوتا۔

باقی بچی زندگی

چوتھے مرحلے کو فائنل یا ایڈوانس کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد ڈاکٹر مریض کا علاج مختلف طرح سے کرتے ہیں یعنی ایسا علاج جس میں بیماری ٹھیک نہ ہو لیکن مریض کو پہنچنے والی تکلیف کم سے کم ہو اور اس کی عمر زیادہ سے زیادہ دنوں، مہینوں یا سالوں تک بڑھائی جائے۔

ایسے میں مریض سے پوچھنے پر ڈاکٹر مریض کی بقیہ اوسط عمر کے بارے میں بھی بتاتا ہے تاکہ وہ اپنا منصوبہ بنا سکے۔

یہ وہ وقت ہوتا ہے جب کینسر کا مریض موت کے خوف کے درمیان اپنی باقی زندگی کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ میرے مطابق، یہ ایک اچھی صورت حال ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہونا ہے۔

میں پچھلے سوا سال سے اس صورتحال کی گواہی دے رہا ہوں۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے مجھے بتایا تھا کہ میں کبھی صحت یاب نہیں ہو سکوں گا اور میرے پاس گننے کے لیے مہینے یا چند سال باقی ہیں۔

لیکن میرے علاج کے لیے کئی تھیراپیز ہیں جو مجھے اس دوران ٹھیک رکھیں گی۔

کیموتھراپی اور ٹارگٹڈ تھراپی

ڈاکٹر دیویانی کے بعد اب میڈیکل بورڈ نے مجھے اپنے مرض کے ماہر ڈاکٹر کمار پربھاس اور ان کی ٹیم کے پاس بھیجا تھا۔

میں فروری 2021 سے ان کی تجویز کردہ کیموتھراپی اور ٹارگٹڈ تھراپی لے رہا ہوں۔

اب میرے روزمرہ کے معمولات میں ہر 21ویں دن ہونے والی کیمو تھیراپی، کیموتھراپی کے ہر چار سیشن کے بعد یعنی تین ماہ میں ممبئی میں میرے ہسپتال کی او پی ڈی میں چیکنگ اور اگلے تین ماہ کے لیے دوائیوں کی شیڈولنگ شامل ہے۔

جب بھی میں ممبئی سے رانچی واپس آتا ہوں، میں ممبئی کے اپنے اگلے سفر کی منصوبہ بندی شروع کر دیتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ ممبئی کا ہسپتال ہر تین ماہ کے لیے میری سانسوں کی لیز میں اضافہ کرے گا۔ میں کچھ اور سال جینا چاہتا ہوں، یہ سوچ کہ زندگی کے مزید چند سالوں میں میں اپنی اہم ترین ذمہ داریاں نبھا سکوں گا۔

میں ایسا سوچتا ہوں اور خوشی محسوس کرتا ہوں۔

سپورٹ سسٹم

خاتمے اور امید کے درمیان کی اس حالت میں اگر میں چاہوں تو موت کے خوف کو گھبراہٹ میں بدل کر اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی خراب کر سکتا ہوں۔

لیکن میں اوپر والے کا شکر گزار ہوں کیونکہ میں نے خوف کو صرف ایک لفظ کے طور پر لے کر اپنی باقی زندگی کو مزید خوشگوار اور یادگار بنانے کا راستہ منتخب کیا ہے۔

میں اپنی بیوی سنگیتا، بیٹے پرتیک اور اپنے تمام دوستوں کا بھی شکر گزار ہوں۔ وہ یا تو اس راستے پر میرے ساتھی ہیں یا اگر میں اس راستے پر چلوں تو اس کا سپورٹ سسٹم بنے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیے

چھاتی کا کینسر: دیسی ٹوٹکوں سے شاہین کی چھاتی میں سوراخ ہو گیا

کیا مردوں کو بھی چھاتی کا کینسر لاحق ہو سکتا ہے؟

جب ٹی وی ناظر نے رپورٹر کو دیکھ کر ان میں کینسر کی تنبیہ کی

حال ہی میں ہم علاج کے لیے ممبئی میں تھے۔ 20 کیمو اور ڈیڑھ سال ٹارگٹڈ تھراپی کے بعد یہ میرا پانچواں فالو اپ تھا۔

سی ٹی سکین اور میری او پی ڈی کے درمیان چار راتوں اور پانچ دنوں کا وقفہ تھا۔ میں نے ان دنوں کو کینسر کے خدشات سے دور تفریحی مقام گوا میں گزارنے کا سوچا۔

سارے جسم پر بے شمار زخم

بیوی کو گوا چلنے کی تجویز دے کر اور سی ٹی سکین کروانے کے بعد ہم ہسپتال سے سیدھا ایئرپورٹ چلے گیے۔ ’چند گھنٹوں کے بعد ہم گوا میں تھے۔ پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ میں کینسر کے خوف کو دہشت میں بدلنے کے خلاف ہوں۔‘

میں ان لوگوں کے خلاف ہوں جو موت کی سچائی سے اپنا منہ موڑ لیتے ہیں۔ جس لمحے ہم پیدا ہوئے، اسی لمحے یہ طے ہو چکا تھا کہ ہمیں مرنا ہے۔ پھر جو بات یقینی ہے اس کا خوف کس بات کا؟ میں اس خوف کو ہوا کا جھونکا بنانے کے لیے گوا گیا تھا۔

میں جانتا تھا کہ ٹارگٹڈ تھراپی کے مضر اثرات کی وجہ سے میرے پورے جسم میں بے شمار زخم ہیں۔ ان میں درد ہوتا ہے۔ لیکن میں اس درد کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔

ہم نے اپنی چار راتیں گوا میں مزے سے گزاریں۔ بس اتنا یاد رکھا کہ دوائیں وقت پر لینا ہیں۔ اس کے علاوہ میرا کینسر کہیں نہیں تھا۔ ہم کھنڈرات میں گئے۔ گرجا گھروں اور مندروں میں بھی گئے۔

تمام ساحلوں پر تفریح کی۔ سمندر میں نہائے، راتوں کا بڑا حصہ سمندر کے کنارے گزارا، ڈسکو گئے اور خوب کھایا۔

موت اگر ہنستے ہوئے آئے تو…

جب ہم گوا میں بحیرہ عرب کی نیلی لہروں کے اوپر پیرا سیلنگ کے لیے جانے والے تھے تو میری بیوی نے پوچھا، ’اگر اوپر ہوا میں آپ کی سانس رک گئی تو؟ اس نے شاید اس لیے پوچھا کہ مجھے پھیپھڑوں کا کینسر ہے۔

میرا جواب تھا، ‘اگر ہنستے ہوئے آ جائے تو اس سے بہتر موت نہیں ہو سکتی۔ خیر میں ابھی مرنے والا نہیں، مجھے کچھ نہیں ہو گا۔’

ہم نے ہنستے ہوئے پیرا سیلنگ کی۔

اب ہم پہاڑوں پر جانے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ کیونکہ، ہم جانتے ہیں کہ موت کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ تجربہ صرف زندگی کا ہوتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی اس تجربے کی کہانی سُنے۔ تاکہ کسی کا خوف دہشت میں نہ بدلے۔

آپ اس طرح کینسر کے ساتھ بھی جی سکتے ہیں دوستو۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24061 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments