سندھ اک سیکولر دھرتی
سندھ اک سیکولر دھرتی رہی ہے جو اپنی گود میں صدیوں سے مختلف دھرم، ثقافت اور عقیدوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پناہ دیتی آئی ہے۔ تاریخی زاویے میں اگر ہم دیکھیں تو موھن کے دڑے کے دراوڑے رہواسیوں سے لے کر انگریزوں تک مختلف قبیلوں نے مختلف دور میں سندھ پہ اپنا راج قائم کیا ہے۔ ان میں عرب، خلجی، مغل، کلہوڑے اور آخر میں انگریزوں نے یہاں غالباً اک صدی سے زیادہ حکومت کی۔
سندھ صدیوں سے محبت، مذہبی رواداری، یک جہتی، امن اور استحکام کا ثبوت دیتی آئی ہے جس کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ یہاں مختلف دھرم، کلچر اور زبان کے لوگ اک ساتھ پیار اور محبت سے رہ رہیں ہیں۔
سندھ پر مختلف دؤر میں مختلف حکومتیں رہیں ہیں جو اپنا اثر رسوخ چھوڑ گئی ہیں۔ یہ سبب ہے کہ یہاں ہر شہر تاریخی عمارتوں، جگہوں اور پس منظروں سے بھرا ملے گا۔
سندھ کا تاریخی شہر اڈیرو لعل ولیج جو کہ سندھ کے ضلع اور تحصیل مٹیاری میں واقع ہے وہاں مندر اور مسجد آج بھی ساتھ ہیں جو کہ صدیوں پھلے بنائی ہوئی ہے۔ اس کے متعلق مختلف مفروضے اور رائے سنے جاتے ہیں لیکن اس کے آثار درویش اڈیرو لعل کے دور سے ملتے جلتے ہیں۔ جہاں آج میں صبح ہوتے ہی ہندو بھائی گھنٹیاں بجا کر پوجا کی سامگری جلاتے اور بھجن کیرتن کرتے اور دوسرے طرف مسلمان بھائی صبح کی اذان کے ساتھ اپنے عبادت کرتے۔ ایسی بہت ساری مثالیں سندھ میں ہر جگہ پائی جاتی ہے۔
مذہبی تہواروں کے دن تو بہت ہی خاص اہمیت رکھتے ہیں
ہندو بھائیوں کے تہوار جیسے کہ ہولی میں سب محبت اور پیار کے رنگوں میں رنگے ملیں گے اور گلہ ڈنڈے کھیلتے ہوئے محبت کا اظہار کرتے ہیں اور دیپاولی پہ اک دوسرے میں مٹھائیاں تقسیم کرتے ہوئے محبت کا اظہار کرتے ہیں اور دوسرے طرف مسلم تہوار چاہے وہ عیدالفطر ہو یا عیدالاضحی ہو سب آپس میں ہونٹوں پہ مسکراہٹیں بکھیرے ہوئے عید کی شب کامنائیں دیتے ملیں گے۔
یہاں تک نہیں عیسائی بھائیوں کے ساتھ میری کرسمس ہو یا ایسٹر ہو سب ساتھ خوشیاں مناتے ہوئے ملیں گے۔
سندھ کو صوفیوں کے دھرتی بھی کہا جاتا ہے، جس میں سندھی زبان کے بڑے شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی، سچل سرمست، صوفی شاہ عنایت کا بڑا رسوخ رہا ہے۔ ان کے سارے زندگی پیار، محبت، رواداری اور امن کے درس پہ مبنی ہے۔
کارونجھر کی قدیم پہاڑیوں میں قدیمی ہندوؤں اور جین مت کے مندروں کے ساتھ ساتھ مسجدیں بھی ملیں گی جو کہ اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ یہاں صدیوں سے مسلمان اور ہندو امن، پیار اور محبت کے ساتھ رہتے آ رہیں ہیں۔
اس مذہبی رواداری اور یک جہتی کے روایت کے آج کے نوجوان برقرار رکھتے آ رہے ہیں۔ ہر سال کی طرح بھی اس ماہ رمضان کے ستائیسویں روزے کے افطار کا اہتمام ٹندوالھیار سندھ کے ضلع سے تعلق رکھنے والے نوجوان ساتھیوں نے کیا جس میں تقریباً دو سو کے قریب مسلم، ہندووں عیسائی اور سکھ بھائیوں نے شرکت کی یہ مذہبی رواداری کی اعلیٰ مثال ہے۔ ایسے بیشتر شہروں میں مثالیں پائی جاتی ہے۔ جیسے حفیظ بنارسی صاحب کے اشعار میرے ذہن میں رقص کر ہیں کہ،
سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا
اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا!


