فتنہ گر کی فتنہ گری اور قوم کی تعمیر کا ادھورا پروجیکٹ

رہنما قوم کا چارہ گر ہوتا ہے، کردار ساز ہوتا ہے، بردبار اور تحمل مزاج ہوتا ہے۔ رہنما کی زبان قوم کی زبان ہوتی ہے، رہنما کا کردار قوم کا کردار ہوتا ہے۔ رہنما اپنے حسن کردار اور حسن عمل سے قابل تقلید رول ماڈل تخلیق کرتا ہے۔ رہنما قوم کی امید اور حوصلہ ہوتا ہے۔ اگر نیت صاف اور جذبہ قوم کی تعمیر کا ہو تو پھر رہنما اٹھائیس برس بے گناہ جیل میں گزار کر بھی نیلسن منڈیلا بن جاتا ہے اور اگر مطمح نظر اقتدار، خودنمائی، دروغ گوئی، دھوکہ، فریب اور سازش ہو تو پلیٹ میں رکھا اقتدار اور ہر طرح کی سہولت کاری کے باوجود رہنما صرف ساڑھے تین سال میں ہی خود ساختہ عظمت کے آسمان سے ناکامی، اور رسوائی کے پاتال میں آ رہتا ہے، اقبال نے کہا
نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
پہلا اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ رہنما کا ویژن اور نصب العین ہونا چاہیے اور اس کا براہ راست تعلق زمینی حقائق، عرق ریزی اور محنت سے ہے۔ قوم کے زمینی حقائق اور مسائل کے مکمل ادراک کے ساتھ ساتھ ان کے حل اور سلجھاؤ کا قابل قبول اور قابل عمل حل۔
منڈیلا نے زندگی برطانیہ کے پرتعیش ماحول میں ایک کھلنڈرے ’پلے بوائے‘ کی حیثیت سے نہیں گزاری تھی اور نہ وہ ریٹائر ہونے کے بعد ’لائم لائٹ‘ چھن جانے کے خوف سے سیاست میں کودا تھا، بلکہ کامیابی سے پہلے اسی کارزار سیاست میں سات دہائیوں کی صعوبتیں جھیلنے، بے لوث محنت اور اپنے خواب کے لیے جان تک دینے کی سچی لگن نے اس بوڑھے افریقی سردار کو ’نیلسن مدیبا منڈیلا‘ بنایا تھا۔
دوسری طرف ایک ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا حادثاتی حصہ ہونے، اور ایک پرتعیش مغربی زندگی گزارنے کے بعد ریٹائرڈ لائف میں اپنی خود ساختہ عظمت کا خراج وصول کرنے کی دھن میں مگن ایک ضدی اور ہٹ دھرم شخص ایک سوختہ نصیب قوم کے سر پر سوار ہو گیا کہ زبردستی اسے مسیح موعود تسلیم کیا جائے۔ رہنمائی اور رہبری کا یہ فارمولا کسی ایسے ملک میں ہی کام آ سکتا تھا جہاں فیصلہ سازی کا مرکز عوامی رائے کی بجائے براہ راست آمریت ہو یا بالواسطہ محلاتی سازشیں۔ ورنہ جن ممالک میں جمہوریت ہے وہاں پر اقتدار کے لیے قابلیت، تجربہ، خلوص، دیانت داری، محنت اور معیار کی سخت ترین چکی میں پس کر ہی اقتدار اعلیٰ نصیب ہوتا ہے اور اس کے بعد احتساب اور کارکردگی کی کڑی تلوار ایک ذرا سی غلطی پر آپ کو ہمیشہ کے لیے ان راہوں سے جدا کر دیتی ہے۔
جبکہ یہاں، اقتدار سے پہلے کہتا تھا کہ پچاس لاکھ گھر دوں گا، ایک کروڑ نوکریاں دوں گا جب اقتدار ملا تو فرمایا کٹے دوں گا، مرغیاں دوں گا اور انڈے دوں گا۔ اقتدار سے پہلے کہتا تھا گورنر ہاؤسز اور وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹیز میں تبدیل کر دوں گا، اقتدار ملنے کے بعد گورنر ہاؤس اور وزیراعظم ہاؤس کو تو یونیورسٹیز میں نہیں بدلا البتہ القادر روحانی یونیورسٹی کے نام پہ اربوں روپے کی زمین اور فنڈ ہڑپ کر گیا۔
اقتدار ملنے سے پہلے کہتا تھا کہ ہالینڈ کا وزیراعظم سائیکل پر دفتر جایا کرتا ہے جب اقتدار ملا تو ہیلی کاپٹر پر دفتر آنا جانا شروع کیا اور قوم کا ایک ارب روپیہ ڈکار لیا۔ اقتدار ملنے پہلے کہتا تھا کہ سڑکیں نہیں بناؤں گا قوم بناؤں گا، اقتدار ملنے کے بعد سڑکیں بھی نہیں بنائیں اور قوم کا یہ حشر کیا کہ کارکنوں کو بھیج کر روضہ رسول کے تقدس کو پامال کروایا، اقتدار سے نکلنے کے خوف سے آئین پامال کیا۔ ریاست کے اہم ترین ستون، پارلیمان کے تقدس اور روایات کو پامال کیا اپنے نا اہل ترین کارکنوں کے ذریعے سپیکر، ڈپٹی سپیکر، صدر پاکستان اور گورنر ہاؤس کو بے توقیر کروایا، آئین شکنی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ریاست کے اہم ترین اداروں فوج اور عدلیہ کے خلاف اپنی سرپرستی میں تاریخ کی مذموم ترین مہم چلوائی جو ہنوز جاری ہے۔
قوم کی تعمیر میں زبان و بیان اور سخن کی دلنوازی میں خودساختہ عظمت کے سب سے اونچے اور مہان سنگھاسن پر براجمان رہنما نے زبان اور بیان دونوں کو بے توقیر اور بے آبرو کیا بازاری اور لچر زبان کا کلچر عام کیا، قوم کی تعمیر تو خاک کرنی تھی، اپنی پارٹی کے ورکروں کی بھی وہ بیہودہ تربیت کی کہ کراچی کے فیصل واوڈا، اللہ کے بعد عمران کو سب سے معتبر مانتے ہیں۔ شاید جو کچھ سیکھا وہی کچھ سکھایا؟ لیکن اب اسی معیار کا زبان و بیان، ماننے والوں میں نیچے تک سرایت کر گیا ہے اور نتائج اب سالوں تک بھگتنا پڑیں گے۔
بہرحال عمران نیازی اور اس کے دو رتن، شیخ رشید اور فواد چوہدری کا یہ دعویٰ ہے کہ انہیں مزید وقت کے لیے اقتدار اور قوم کا مستقبل پچھلے انتظام کی طرح دوبارہ حوالے کر دیا جائے تاکہ وہ قوم کی نامکمل تعمیر کو مکمل کر سکیں۔ لیکن اس میں دو بڑی مشکلات ہیں پہلی یہ کہ عوامی نمائندے جو ان کے قریب رہے، کافی سارے انہیں چھوڑ چکے اور مزید انہیں عید کے بعد چھوڑ دیں گے، گمان غالب ہے کہ پارٹی میں قابل ذکر دو لوگ بچیں گے اور ایک اتحادی شیخ رشید، اس ضمن میں متحدہ قومی قیادت کو ان تمام لوگوں کو جو واپس آنا چاہتے ہیں اور اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں انہیں سیاسی دھارے میں شامل کر لینا چاہیے اور منحرفین کو بھی غیر مشروط اور بلا مطالبہ جمہوری اور سیاسی دھارے میں شامل ہونا چاہیے۔
دوسرا پروجیکٹ عمران خان، پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب تو ہے ہی، اب لانچ کرنے والوں کے لیے بھی ایک نشان عبرت اور ایک مستقل درد سر بن چکا ہے۔ اور وہاں سے بھی اپنی غلطیوں کو دوبارہ کبھی نہ دہرانے کا عزم مصمم اور ارادہ ہے اسی لیے اپنی زندگی کی آخری اننگز کے الم ناک انجام پر شیخ رشید کا نوحہ مزید پرسوز ہوتا جا رہا ہے۔ جناب جون ایلیا نے ان کی کیا خوب ترجمانی کی
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
رقص ہے رنگ پر ، رنگ ہم رقص ہیں
سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے

