اردو ادب اور طنز و مزاح کا ذکر ہو تو میرے استاد محترم ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کا تذکرہ نہ ہو ایسا میرے نزدیک نا انصافی ہوگی۔ ان کی ادبی، تحقیقی، تنقیدی اور علمی شخصیت کا اندازہ اسی بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ آج میں ان کا ادنیٰ سا شاگرد ان کی کتاب ”زاویے“ پہ اپنا زاویہ پیش کر رہا ہوں۔ اردو ادب کا ایک بہت بڑا سرمایہ ان کے اندر چھپا ہے جو وہ اپنے تجزیہ کو خاص کتابی شکل میں منظر عام پر لا کر دوسروں کو اس سے مستفید کروا رہے ہیں۔

چند دن قبل ان کی کتاب ”زاویے“ جو تحقیق اور تنقید کے حوالے سے اہم ادبی شاہکار ہے شائع ہوئی۔ 22 مارچ 2020 کی شام ان کی رہائش گاہ پر ادبی ملاقات ہوئی، اور بطور تحفہ کتاب عنایت کی۔ اس کتاب کا تجزیاتی مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ دور حاضر کی اہم ضرورت ہے۔ ”اقبال اور فینٹسی“ کے نام سے موضوع بیان کیا جو موقع کی ضرورت بھی ہے۔ اقبال، معاشرہ، فینٹسی، ماضی، حال اور مستقبل کا گٹھ جوڑ ادب اور سماج عمدہ تصویر کشی کی ہے۔ جو کہ معاشرہ، حالات اور دور حاضر کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ استاد محترم فرماتے ہیں :

” تہذیب کوئی بھی ہو، لوگ جس زمانے کے بھی ہوں، وہاں اذہان و قلوب کی کی تسکین کے لیے بعض اوقات ناقابل یقین کہانیاں یا ماورائی دنیا تراشنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔“

اقبال نے بھی اس معاشرے کو تراشنے ضرورت محسوس کی، اس کی کانٹ چھانٹ کر کے تہذیب کو نئی راہوں سے متعارف کروایا، جو مختلف انداز، استعاروں اور تشبیہوں پر مشتمل ہے۔ آپ یہ تو جانتے ہوں گے اقبال جرمن شاعر گوئٹے کی بلند پایہ تصنیف ”فاؤسٹ“ سے بے حد متاثر دکھائی دیتا تھا۔ دوسری جانب جے کے رولنگ کی مشہور زمانہ ناول سیریز ”Harry Potter“ یہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی جس نے نئی نسل کو اپنی زلفوں کا اسیر بنایا۔ اقبال نے اپنے کلام کو قبول عام اور بقائے دوام پر بٹھانے کی کوشش کی اور شعری محاسن کو زیادہ کام میں لایا۔

انہوں نے بچوں کے لئے جو بھی نظمیں لکھیں اس پر مکالمہ، فینٹسی کا درجہ غالب ہے۔ اقبال کی آنکھ نے وہ تصور کی کلیاں چاروں طرف بکھیر دیں جس کا رنگ نسل در نسل آج بھی غالب اور نمایاں ہے۔ پھر مزاح اور معاشرہ کی نسبت پر بات کریں تو یہ بھی حقیقت کسی سے عاری نہیں، اس سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ الطاف حسین حالی نے کچھ یوں کہا:

میں بچا تیر حوادث سے نشانہ بن کر
آڑے آئی مرے تسلیم، سپر کی صورت

اشفاق احمد ورک کا اسلوب بالکل سادہ مگر عمدہ تحریر پر مبنی ہے، انہوں نے ادب کی دنیا میں طنز و مزاح کے ذریعے انسان کی زندگی میں نشیب و فراز خوشی و غم، ابتدا ہی سے موجود ہیں ان پر قلم نگاری کی۔ انہوں نے ان دکھوں کو ساگر میں بٹھا بٹھا کر بہانے کی کوشش کی۔ دوسروں کی خوشیوں کے دروازے پر کھڑا، محبوب کے آنچل کو سنوارنے کی کوشش کی۔ کبھی دکھوں کے عوض دیوار حیات پھلانگ گیا، تو کبھی محبوب کے آنچل کا سہارا لے گیا۔ اس کام میں ان کے الفاظ کا انتخاب بڑا ہی عمدہ انداز میں بیان کرنا، ترتیب دینا اور قرطاس پر مجسم کرنا میرے نزدیک کسی بڑے معجزے سے کم نہیں۔

لوگ یہ بھی کہتے نظر آئے ہیں کہ غم آنسوں میں جھلملاتے اچھے لگتے ہیں، میں تو کہتا ہوں کے قہقہے کے پیچھے گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اور دنیا بھر میں کامیابی کا سہرا لئے آنسوؤں اور مسکراہٹوں کے آنگن میں تخلیق ہوتا ہے۔ میرے استاد ڈاکٹر ملک فیاض احمد لکھتے ہیں :

” زخموں پر مرہم پٹی کرنا مزاح کہلاتا ہے۔“

یہی مذکورہ لب لباب اس کتاب کی صورت میں محترم استاد اشفاق احمد ورک کی زبانی ملتا ہے۔ آج کل لوگوں کے جو زخم اور واضح نشان ہے ان پر مرہم پٹی کرنے کا کام اور خدمت سرانجام دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں مختلف شخصیات، ادیبوں، شاعروں کا حوالہ دے کر اپنی خدمت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ میرے نزدیک اس خدمت کا کوئی ثانی نہیں، جیسا کہ ایک عنوان ”اردو میں نثری تحریف“ میں بھی وضاحتی بیان دیتے ہوئے کہتے ہیں :

لفظ ”پیروڈیا“ سے پیروڈی لفظ اخذ ہوا ہے، جو یونانی زبان سے ہے۔ قدیم یونان میں سنجیدہ نغموں کو مضحکہ خیز کر کے پیش کرنے کے عمل کو اس کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔

15 دسمبر 2019 کی شام ایف سی کالج لاہور یونیورسٹی کمرہ نمبر 102 میں کلاس جاری تھی ان دنوں آلودگی کے اعتبار سے لاہور دنیا کا گندا ترین شہر تھا۔ محترم استاد سے سوال کیا گیا اس کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے ایک جملہ سنجیدگی کو مضحکہ خیز بنا کر اس کی حقیقت بیان کر دی جو مزاح کی بہترین مثال، وہ فرماتے ہیں :

” پاکستان میں موسم خراب نہیں بلکہ ذہن خراب ہیں۔“
اور ساری کلاس قہقہے سے گونج اٹھی۔

میرے نزدیک یہی بہترین پیروڈی اور ان کی کتاب پر میرا زاویہ ہے۔ یہاں پر ان کا اسلوب، فن تحریر عمدہ مگر سادہ لفظوں کا مجموعہ ہے اس سے ان کے تحریر نہ صرف لفظوں سے خوبصورت بلکہ مفہوم اور پس منظر سے بھی لبریز ہے۔ ان کے اسلوب اور فن میں مہارت کا اندازہ آپ خود ہی مزید دیکھ لیں کتاب میں موجود عنوان ”تدریس اردو میں درپیش مسائل“ میں اپنے ملکی اور تدریسی نظام پر خوب مزاح کا سماں باندھ دیتے ہیں۔ جو ان کی شخصیت اور فن کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

” یہ وہی بات ہے کہ امیر کا بچہ کوئی انوکھی حرکت کرے تو فیشن بن جاتی ہے اور غریب کا بچہ کرے تو جرم۔“

یہ المیہ کچھ چھپا ہوا نہیں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ فیشن زیادہ جبکہ جرم اس سے بھی زیادہ بن چکے ہیں۔ دیکھا جائے تو پوری دنیا کے ممالک آج تہذیب یافتہ، ترقی یافتہ، چاند اور مریخ پر جا چکے ہیں مگر افسوس ہم زبان، رنگ و نسل کی تفریق غریب اور میر کا متضاد لیے جنت میں ”حوریں“ لینے کے طلبگار ہیں۔ جو صورتحال آج میرے معاشرے میں بن چکی ہے میرا ذاتی کہنا ہے :

” جنت میں“ حوریں ”نہیں بلکہ“ ہورے ”ملیں گے۔“

زبان کے لحاظ سے دیکھیں تو اردو وہ زبان ہے جس سے ہماری تہذیب، تاریخ، معاشرتی، مذہبی، جذباتی، سماجی، خاندانی زندگی وابستہ ہے۔

جسٹس آنند نرائن ملا لیتے ہیں :
گو لاکھ ہو رنگت پھولوں میں، خوشبو جو نہیں تو کچھ بھی نہیں
اس ملک میں چاہے ہن برسے، اردو جو نہیں تو کچھ بھی نہیں

مختصر یہ کہ ”زاویے“ کتاب ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نہ صرف تحقیق و تنقید مضامین کا مجموعہ ہے بلکہ یہ حقیقی اثاثہ جو معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر پل پل کی خبر سے آگاہ کر رہا ہے۔ یہ وقت ضرورت کی کنجی ہے جس کا اسلوب جاندار، چلتے دل کی دھڑکن، اور معاشرے کی کوکھ سے لکھنے والے حالات و واقعات پر کھڑی نظر رکھتے ہوئے ان سے آگاہی فراہم کرتا ہے۔