آخر سود ہے کیا؟ وفاقی شرعی عدالت کا تازہ ترین فیصلہ – دوسری قسط
اس سلسلے کی پہلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
فیصلے کا تعین کردہ نکتہ نمبر 1 وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار و سماعت سے متعلقہ ہے جو کہ خالصتاً ایک آئینی اور قانونی بحث ہے، عام آدمی کے لئے شاید اتنی دلچسپی کا باعث نہ ہو۔ اور چونکہ آئین پاکستان کے تحت، کسی بھی قانون بارے یہ فیصلہ کرنا کہ وہ قرآن و سنت کے خلاف ہے یا نہیں، یہ اختیار وفاقی شرعی عدالت کے پاس ہے، اس لیے اس نکتہ بارے یہ فیصلہ کیا گیا کہ آئین کے مختلف آرٹیکلز کے تحت وفاقی شرعی عدالت کو اختیار سماعت حاصل ہے۔
تعین کردہ نکتہ نمبر 2 انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں ’ربا‘ کی تعریف بیان کی گئی ہے کہ قرآن و سنت کے مطابق ربا ہے کیا؟ اور مسلمان فقہاء اور اسکالرز نے ربا کی کیسے تشریح کی ہے۔ اور یہ ایک بنیادی اعتراض بھی تھا کہ لفظ ربا کی تعریف قرآن میں بیان نہیں کی گئی ہے اور اسے محض قیاس کیا گیا ہے۔ اس کا ایک جواب تو یہ دیا گیا کہ قرآن میں اور بھی بہت ساری بنیادی اصطلاحات کو ڈیفائن نہیں کیا گیا جیسا کہ لفظ صلوٰۃ۔
قرآن کوئی لغت کی کتاب نہیں۔ لیکن اسکالرز اس بات پر متفق ہیں کہ لفظ ربا کا معنی ”زیادہ ہونا، بڑھنا اور بلند ہونا“ ہے (ابن فارس) ۔ الم اور دی کے مطابق ”قرض کی مقدار میں مہلت دینے کے بدلے میں بڑھوتی کرنا“ ربا ہے۔ ابن العربی کے مطابق عربوں کے ہاں معروف ربا یہ تھا کہ کوئی شخص دوسرے کو ایک مقررہ وقت تک قرض کا معاملہ کرتا۔ پس جب وہ وقت گزر جاتا تو وہ کہتا کہ کیا تم قرض ادا کرو گے یا تمہارے اوپر رقم بڑھا دی جائے، پس ربا یہی بڑھوتری ہے۔
ابن العربی کے مطابق اللہ پاک نے اس بڑھوتری کو حلال جاننے والے لوگوں کے اس خیال کو رد کیا اور واضح کیا کہ جب مہلت ختم ہو جائے اور قرض دار کے ہاں ادائیگی کے لیے کچھ نہ ہوتو اس پر نرمی کرتے ہوئے آسان مدت تک مہلت دی جائے۔ (فیصلے میں مختلف اسکالرز کی ربا سے متعلقہ تقریباً 100 سے زائد ڈیفینیشنز لکھی گئی ہیں )
قرآن میں 12 آیات ’ربا‘ سے متعلقہ ہیں جو کہ سورۃ البقرۃ، آل عمران، النساء اور الروم میں ہیں۔ شراب کی طرح ’ربا‘ بھی یک دم ختم کرنے کی بجائے بتدریج حرام قرار دیا گیا۔ لہذا ان تمام آیات کو اکٹھا ہی پڑھنا اور سمجھنا ہو گا، نہیں تو ربا کے مکمل مفہوم کو سمجھنے میں غلطی ہو سکتی ہے۔ ربا سے متعلقہ سب سے پہلی آیت سورۃ الروم کی آیت نمبر 39 ہے۔ ”اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی“ ۔
سید ابو الاعلیٰ مودودی کے مطابق ”سورہ الروم کا نزول جس زمانے میں ہوا ہے اس وقت قرآن مجید میں سود کی حرمت کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ یہ اعلان اس کے کئی برس بعد ہوا ہے۔ قرآن مجید کا طریقہ یہ ہے کہ جس چیز کو بعد میں کسی وقت حرام کرانا ہوتا ہے اس کے لیے وہ پہلے ذہنوں کو تیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ شراب کے معاملے میں بھی پہلے صرف اتنی بات فرمائی گئی تھی کہ“ وہ پاکیزہ رزق نہیں ہے۔ ”(النحل: 67 ) پھر فرمایا کہ“ اس کا گناہ اس کے فائدے سے زیادہ ہے ” (البقرۃ: 219 ) پھر حکم دیا کہ“ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔ ”(النساء: 43 ) پھر بعد میں اس کی قطعی حرمت کا فیصلہ کر دیا گیا۔
اسی طرح سود سے متعلقہ پہلی چند آیات میں صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا گیا ہے کہ یہ وہ چیز نہیں ہے جس سے دولت کی افزائش ہوتی ہو، بلکہ حقیقی افزائش زکوٰۃ سے ہوتی ہے (الروم: 39 ) (النساء: 160۔ 161 ) ۔ کچھ عرصے بعد مدینہ میں غزوہ احد کے بعد سود در سود کو منع کیا گیا۔ ”اے ایمان والو! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ“ ۔ (آل عمران: 130 ) اور سب سے آخر میں سورۃ بقرۃ کی آیت 275 سے لے کر 279 تک ہر قسم کی سود خوری کی شدت سے ممانعت کا اعلان کیا گیا ہے اور اسے خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے مترادف قرار دے دیا گیا۔ (قاضی ثناء اللہ پانی پتی کے مطابق آیت ربا کا شمار سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیات میں ہے۔ )
قرآن و سنت کی روشنی میں مختلف اسکالرز کی بیان کردہ تعریفوں کے بعد ربا کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی ”ربا النسیئۃ“ یا ”ربا القرآن“ ، اور یہ وہ قسم ہے جو عرب قبائل میں اسلام سے بھی پہلے رائج تھی یعنی ایسا لین دین جس میں قرض پر سود ہو۔ اس لیے اسے ”ربا الجاہلیۃ“ یا ”ربا القرض“ بھی کہہ دیتے ہیں۔
دوسری قسم ”ربا الفضل“ کہلاتی ہے جسے خود رسول اکرم نے منع فرمایا۔ اس لیے اسے ”ربا السنہ“ بھی کہتے ہیں۔ اس سے مراد وہ مخصوص اضافہ ہے جو بالکل ایک ہی قسم کی چیزوں کے تبادلے کے سلسلے میں ہوتا ہے۔ یہ بارٹر تجارت سے متعلق ربا ہے جو اس زمانے میں نہ صرف عرب میں رائج تھا بلکہ پوری دنیا میں اس پر عمل کیا جاتا تھا۔ وہ چھ اشیاء جن کے تبادلے پر ربا منع تھا وہ یہ تھیں :سونا، چاندی، گیہوں، جو ، کھجور اور گندم۔ انہیں ”اموال ربویۃ“ بھی کہتے ہیں۔ ان اجناس کا اگر تبادلہ کیا جائے تو برابر برابر ہونا چاہیے، اور نقد دست بدست ہونا چاہیے۔ اس میں کمی و بیشی کی گئی یا ادھار کیا گیا تو وہ ربا میں شمار ہو گا۔
اس میں یہ بات قابل غور تھی کہ ان چھ چیزوں کی خصوصیت ہے، یا ان کے علاوہ اور بھی کچھ چیزیں ان کے حکم میں ہیں اور اگر ہیں تو ان کا ضابطہ کیا ہے۔ تو حضرت عمر فاروق نے فرمایا: ”آیت ربا قرآن کی آخری آیتوں میں ہے اس کی پوری تفصیلات بیان فرمانے سے پہلے رسول کریم ﷺ کی وفات ہو گئی اس لیے اب احتیاط لازم ہے، ربا کو تو چھوڑنا ہی ہے جس صورت میں ربا کا شبہ بھی ہو اس کو بھی چھوڑ دینا چاہیے“ ۔
عہد رسالت اور عہد صحابہ میں ہر قسم کے قرض پر اضافہ وصول کرنا ’ربا‘ کہلاتا تھا اور اسے حرام سمجھا جاتا تھا۔ قرض خواہ کسی عام صرفی/ذاتی ضرورت کے واسطے لیا گیا ہو یا کسی تجارتی یا پیداواری ضرورت کے لیے۔ جیسا کہ عرب قبائل کا باہم قرض لینا دینا مذکور ہے۔ یہ اجتماعی قرضے ہوتے تھے کیونکہ عرب قبائل کی حیثیت مشترک سرمایہ کی کمپنیوں جیسی تھی، جن کے ذریعے قبیلے کے افراد مشترکہ تجارت کیا کرتے تھے۔ لہذا یہ قرضے شخصی ضروریات کے بجائے تجارتی اغراض کے لئے ہی ہوا کرتے تھے (تفسیر ابن جریر) ۔
اسی طرح حضرت زبیر بن العوام لوگوں کی امانتیں اس شرط پر اپنے پاس رکھتے تھے کہ انہیں یہ قرض قرار دے دیا جائے تا کہ اسے تجارت میں لگا کر اس سے نفع حاصل کیا جا سکے (البخاری) ۔ ہند بنت عتبہ نے حضرت عمر کے زمانے میں تجارت کی غرض سے بیت المال سے قرض لیا، اور بلاد کلب میں جا کر اس سے تجارت کی (الطبری) ۔ یہ اور اسی طرح کے اور واقعات عہد رسالت اور عہد صحابہ میں تجارتی قرضوں کو ثابت کرتے ہیں۔ (مزید تفصیلات اگلے کالمز میں تعین کردہ نکتہ نمبر 5 کے تحت آئیں گی۔ )
لہذا ہر قسم کے قرضے /مالیاتی لین دین (ذاتی، تجارتی، صنعتی، پیداواری وغیرہ) پر ہر قسم /شکل کا ربا/سود (اصل رقم سے زائد رقم چاہے اس کا تعین پہلے سے ہو یا نہ ہو اور جو بغیر کسی عوض کے ہو) حرام ہے۔ شرح سود کم ہو یا زیادہ، ربا امیر غریب سب کے لئے حرام ہے۔ قرض کا مقصد بدلنے سے ربا حلال نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح پارٹیوں کی قانونی حیثیت (قانونی اثخاص/کمپنیاں ) تبدیل ہونے سے بھی ربا حرام ہی رہے گا۔
(جاری ہے۔ )


