مووی ریویو – گھبرانا نہیں ہے


مصنف: محسن علی۔ ثاقب خان

ڈائریکٹر: ثاقب خان
کاسٹ: صبا قمر، زاہد احمد، سید جبران، نئیر اعجاز، افضل خان ریمبو

کہا جاتا ہے کہ کسی کو رلانا دنیا کا سب سے آسان کام ہے لیکن کسی کے لبوں پہ مسکراہٹ کی کلیاں کھلانا کوئی آسان کام نہیں اور اگر ہنستے ہنستے بہت سے اہم معاملات کو بھی سامنے لے آیا جائے تو گویا سونے پہ سہاگہ والی بات ہو جاتی ہے۔ یہی کچھ کیا ہے اس سال کی بہترین پاکستانی فلم ”گھبرانا نہیں ہے“ نے۔

فلم آغاز ہی سے دیکھنے والے کے ذہن میں ’آگے کیا ہو گا‘ اور یہ کیسے ہوا جیسے سوالات پیدا کرتی ہے جو کسی بھی کامیاب اور بہترین فلم کا خاصہ ہوتا ہے۔ فلم کی کہانی کی بنت بے حد خوبصورتی کے ساتھ کی گئی ہے اور کوئی بھی سین ایسا نہیں جس کو دیکھ کر یہ احساس ہو کہ اس سین کی فلم میں کوئی جگہ نہیں بنتی تھی۔ فلم کے سبھی کردار اپنے کردار کے حساب سے وہی زبان اور لب و لہجہ استعمال کرتے نظر آتے ہیں جو ان کو حقیقی کرداروں میں ڈھال دیتا ہے اور فلم دیکھنے والے کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ صرف ایک فلم دیکھ رہے ہیں بلکہ وہ حقیقت میں اپنے ارد گرد نظر آنے والے کرداروں کو سکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔ ہر آنے والا ڈائیلاگ نپا تلا اور موقع کے عین مطابق ہے جو دیکھنے والوں کے لطف میں اضافہ کرتا نظر آتا ہے۔

اگر ڈائریکشن کی بات کی جائے تو ہر ہر سین ڈائریکٹر کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ثاقب خان کی محنت ہر جگہ دکھائی دیتی ہے کسی بھی اچھی فلم میں ڈائریکٹر کا رول بہت اہم ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے جو اچھے ایکٹرز سے بہترین کام لیتا ہے۔ فلم میں کرداروں کے منہ سے ادا ہوئے برجستہ ڈائیلاگ اور بہترین اداکاری دیکھنے والوں کے دلوں کو موہ لینے کی خاصیت رکھتی ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ثاقب خان پاکستانی فلم انڈسٹری میں ڈائریکٹر کے طور پر ایک بہترین اضافہ ہیں اس فلم کو دیکھنے والا یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ اس ڈائریکٹر کی پہلی فلم ہے بلکہ وہ ایک منجھے ہوئے فلم ڈائریکٹر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

فلم کے ہیرو زاہد احمد پاکستانی ڈراموں کی جانی مانی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی اداکاری سے اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے اس فلم میں بھی زاہد احمد بڑی خوبصورتی سے اپنا کردار نبھاتے نظر آتے ہیں۔ بے شک فلم کے ہیرو زاہد احمد ہیں لیکن سید جبران کی ایکٹنگ بھی سالوں تک لوگوں کے لیے یادگار رہنے والی ہے۔ کوئی بھی فلم ولن کے بغیر مکمل نہیں ہوتی اس فلم کے ولن نئیر اعجاز ایک بے حد دلچسپ روپ میں سامنے آئے ہیں نئیر اعجاز سالوں سے اپنی اداکاری کا لوہا منواتے چلے آرہے ہیں یہ فلم ان کے کیریuر میں ایک بہترین اور یادگار اضافہ ثابت ہوگی۔

اب بات کرتے ہیں اس فلم کی جان، حسن کی پری اور اداکاری کی کوئین صبا قمر کی۔ ٹی وی کی سکرین ہو یا سینما کا پردہ جب صبا قمر کا خوبصورت، دلکش، حسین چہرہ سکرین پر ابھرتا ہے تو دیکھنے والے اردگرد سے بیگانہ ہو جاتے ہیں، اس فلم میں بھی جب فلم کے آغاز میں صبا قمر ایک بہت ہی خوبصورت روپ میں سکرین پر نظر آتی ہیں تو سینما ہال تالیوں سے گونج اٹھتا ہے یہ لوگوں کے دلوں میں ان کے پیار کے اظہار کا بہترین طریقہ ہے۔ صبا قمر ہر کردار کو اس طرح نبھاتی ہیں کہ گویا وہ کردار بنا ہی صبا کے لیے ہو یہی وجہ ہے کہ آج تک انہوں نے جو بھی کردار ادا کیے ہیں سبھی لوگوں کی انگلیوں پر ہیں کیونکہ ان کا ہر کردار ان کی خوبصورت اداکاری کی بدولت یاد رکھنے کے قابل ہے۔

صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ہمسایہ ملک انڈیا اور باقی دنیا میں بھی ان کے بے شمار فین موجود ہیں۔ صبا قمر اتنی خوبصورتی اور فل انرجی کے ساتھ ڈائیلاگ بولتی ہیں کہ سننے والے کو لگتا ہے ”گویا یہ بھی میرے دل میں تھا“ اس فلم میں بھی ان کی یہ خوبی ابھر کر سامنے آئی ہے۔ فلم کی سٹوری صبا قمر کے کردار زوبی کے گرد گھومتی ہے اس لحاظ سے صبا قمر کی ذات پر ذمہ داری بڑھ جاتی ہے اور فلم دیکھنے والا ہر شخص یہ بات سمجھ اور کہہ سکتا ہے کہ صبا نے اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی سمجھا اور نبھایا ہے۔ اس فلم میں ہر روپ میں اپنے حسن کا جادو جگاتی یہ قاتل حسینہ ایک اور کامیابی اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔

فلم ”گھبرانا نہیں ہے“ پاکستانی فلم بینوں کے لیے ایک امید بھرا پیغام بھی ہے کہ اب پاکستان میں بھی اچھی فلمیں بننا شروع ہو چکی ہیں۔ فلم میں ٹیم ورک دکھائی دیتا ہے اور بلا شبہ اس فلم کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے کہ انہوں نے اس فلم کی صورت میں پاکستان کی عوام کو عید کا بہترین تحفہ دیا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

حمیرا گلزار خان کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments