فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ
(اس مضمون میں پنجابی جملے استعمال کیے گئے ہیں جن کا ترجمہ موجود نہیں۔ پنجابی سمجھنے والے افراد ہی اس مضمون سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں)
اس ضلع کے بہت معصوم بھولے بھالے لوگ اپنے رہن سہن اور انداز و اطوار میں پنجاب کے بقیہ اضلاع سے انفرادیت رکھتے ہیں۔
ان کی زبان و بیان کا ایک مزے کا انداز ہے۔ وہ ہے ی کو ج سے بدلنے والا۔
اوہ یار میری گل سن کو اوہ جار میری گل سن۔
یونس چوہدری کو جونس چوہدری۔
یقین کر کو جقین کر بھی کہا جاتا۔
یونس اور خالد میں تیسرے حرف پر موجود زبر کا ٹوبہ ٹیک سنگھ والے خیال نہی رکھتے اور اسے بغیر زبر کے انتہائی ساکن کر کے پڑھ لیتے ہیں۔
سو یونس کو جون س (Jones) اور خالد کو خال د (khald) کہتے ہیں۔
ہم گوشت کو گوشت بھی یہاں پر ہی کہتے ہیں۔ یہاں کے کچھ دیہی خاندانوں میں (سبھی میں نہیں) سالن کو دال کہا جاتا ہے۔ جیسے گوشت دی دال، گوبھی دی دال۔
باقی پنجاب بڑی بہن کو آپا/آپاں کہتا ہے مگر یہاں کے مقامی ”ہم“ کو آپاں کہتے ہیں۔ ہاسٹل میں اس ہر مذاق بہت بنتا جب میں کہتا آپاں چا پین چلیے (ہم چائے پینے چلیں) اور سیالکوٹ کے دوست بھناً کر کہتے
اوے کئیڑی آپاں؟ (اوئے کون سی آپا)
والد صاحب کے لیے یہاں کے زیادہ تر دیہی علاقوں میں ایک لفظ اور ہے وہ ”بڑھا“ ( اسے بوڑھا نہ پڑھا جائے ) ۔ خاص طور ہر یہ اپنے یا کسی کے والد کے لیے والد کی عدم موجودگی میں استعمال ہوتا۔
مثال:۔
”اوے ایم ایس سی کر لی ایم فل میں ایڈمشن کیوں نہی لیا؟
بس جار بڑھا نہیں من دا ”
مزے کے لوگ ہیں والد کیلیے ”بڑھا“ تو کہہ لیتے ہیں مگر ”بڈھی“ کا لفط بیوی کے لیے لگاتے۔ تاہم لفظ ”بڈھی“ کئی اور علاقوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اسی معنی میں مگر ٹوبہ ٹیک سنگ والے عورت کے لیے ”تیمی یا تیویں“ (ت کے نیچے زیر ) بکا لفظ بھی لگاتے۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دیہی علاقوں میں (خاص طور پر جٹ اور ارائیں فیملیز میں ) حرف تہجی ”و“ اکثر جگہ ”ب“ میں بدل دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم ”ویرا“ (بمعنی بھائی) نہی کہتے ”بیرا“ کہتے ہیں۔ ویری (دشمن) نہی بلکہ ”بیری“ کہتے ہیں۔ اسی طرح ویہڑا (صحن) کی جگہ ”بیڑا“ اور ”ویہڑی“ ( جوان گائے ) کو ”بیہڑی“ کہہ کے گزارا کر لیتے ہیں۔ پنجابی کا مشہور لفظ ”وٹ“ جس کے بہت سے مطالب ہیں اسے بھی ”بٹ“ پڑھتے ہیں، ”وادو“ (زائید) کو ”بادو“ اور ودھیا (بہترین) کو ”بدھیا“ کہتے ہیں۔
”چول ونڈی دے لئی جاؤ“ کی جگہ ”چول بنڈی دے لئی جاؤ“ زیادہ مستعمل ہے۔
اس بات کا تب تک اندازہ نہی ہوا جب تک زرعی یونیورسٹی کے جناح ہال میں نہی آ گیا۔ گو کہ فیصل آباد والوں کے لیے بھی یہ نارمل سی بات تھی مگر لاہور، گجرانوالہ، سیالکوٹ اور گجرات والے اس بات پر بہت ہنستے تھے۔
گجرانوالہ کے ایک دوست چیمہ صاحب گاہے بگاہے پوچھا کرتے۔
”عظیم کیہ حال اے“ ۔
اور میں اپنی دھن میں فوراً کہتا
”بیرے بہت بدھیا“ (بھائی بہت اچھا) ۔
مجھے ایک عرصہ سمجھ نہی آئی کہ اس میں قہقہہ لگا کے ہنسنے والی کیا بات ہے۔
چیمہ صاحب گجرانوالہ کے کسی گاؤں ہی کے رہنے والے تھے۔ جناح ہال میں چار کمرے چھوڑ کے ان کا کمرہ تھا۔ ایگارا نومی کے تھے۔ ایک دن کہنے لگے یار تمہارے اس accent نے ؓبی ایس کے سٹارٹ میں میری ”سی جی پی اے“ بہت کم کروا دی۔
پوچھنے پر بتایا کہ پہلے دوسرے سمیسٹر کی بات ہے۔ فائنل کے بعد رزلٹ پتہ کرتے پھر رہے تھے۔ کسی نے خبر دی کہ اسلامیات کا رزلٹ بھی نوٹس بورڈ پر لگ گیا ہے۔ اسلامیات کا ڈیپارٹمنٹ اولڈ کیمپس میں تمھاری باٹنی کے پاس تھا۔ وہاں اپنے کلاس فیلو کو بھیجا وہ رزلٹ دیکھ کر آیا۔
میں نے دور سے اونچی آواز میں پوچھا
” چوہدری کنًے نمبر آئے“
وہ دور ہی سے بولا
چیمہ صاحب تہاڈے بیی آئے آ۔ تسی ”بیی لے کے پاس ہو گئے ہو۔
میں بہت خوش ہوا کہ پیپر بس ایسا ہی تھا مگر شکر ہے بی گریڈ آ گیا۔
اگلا سمیسٹر شروع ہو گیا۔ ان دنوں اگلے سمیسٹر کے مڈ کے دنوں میں پچھلے سمیسٹر کی سی جی پی اے نوٹیفائی ہوتی تھی۔ سی جیی پی اے دیکھی تو خود کی کیلکولیٹ کئی ہوئی سے بہت کم تھی۔
کنٹرولر آفس جا کے پتہ کیا تو علم ہوا اسلامیات میں ”بی“ نہی ”ڈی“ گریڈ ہے۔
غصے میں اپنے اس دوست کے پاس آیا اور چلا کے کہا
یار تم نے غلط کیوں کہا۔ تم نے بی گریڈ بتایا جبکہ میرا ڈی ہے۔ پہلے پتہ ہوتا تو سر سے ریکویسٹ کر کے ایف کروا لیتا (ان دنوں کے عام رواج کے مطابق) تا کہ سمر میں انرول کروا لیتا۔
وہ دوست بڑی تسلی سے بولا
چیمہ صاحب بتایا تو تھا کہ تہاڈے بیی آئے آ۔ تسی ”بیی“ تے پاس ہو۔
جیسے ہی اس نے کہا مجھے یک دم احساس ہوا یار یہ تو ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے۔ وہ ویی (بیس) کو ”بیی“ کہہ رہا تھا۔
یعنی میرے صرف بیس نمبر آئے تھے۔
(عظیم سلطان)


