آئیں مدرز ڈے پر ہر ماں اور دھرتی ماں کو یاد کریں


کیا آپ جانتے ہیں
جب عورت حاملہ ہوتی ہے
تو وہ کن آزمائشوں سے گزرتی ہے
کبھی اسے متلی ہوتی ہے
کبھی وہ قے کرتی ہے
کبھی اس کے کمر میں درد ہوتا ہے
کبھی اس کا سر پھٹنے لگتا ہے
کبھی اس کا پاؤں بھاری ہوتا ہے کبھی سر
کبھی اسے نقاہت ہوتی ہے کبھی تھکاوٹ
کبھی اس کو دن کے وقت چین نہیں آتا
کبھی راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے
پھر درد زہ ہوتا ہے
اور بچہ پیدا ہوتا ہے

اور کبھی وہ پیٹ میں ہی مر بھی جاتا ہے
اسقاط بھی ہو جاتا ہے
بچہ صحتمند پیدا ہو تو
ماں بچے کو پالتی ہے
اسے دودھ پلاتی ہے
گرمی سردی سے بچاتی ہے
اس کا خیال رکھتی ہے
اسے جوان کرتی ہے

اور ساری عمر دعائیں دیتی رہتی ہے
خوشحالی کی دعائیں
کامیابی کی دعائیں
کیا آپ جانتے ہیں
ماں ایک عورت کا نام ہی نہیں
ایک ذہنی اور قلبی کیفیت کا نام بھی ہے
وہ کیفیت جس سے
انسان دوسرے انسانوں کا خیال رکھتا ہے
محبت کرتا ہے
پیار کرتا ہے
یہ کیفیت

استانیوں میں بھی پائی جاتی ہے نرسوں میں بھی
شاعروں میں بھی پائی جاتی ہے فنکاروں میں بھی
اور ساری دنیا کے مسیحاؤں میں بھی
جو انسانیت کے لیے ساری عمر قربانیاں دیتے رہتے ہیں
کیا آپ جانتے ہیں
یہ دھرتی بھی ہماری ماں ہے
جس کی کوکھ سے ہم پیدا ہوئے
اور ایک دن مرنے کے بعد
وہ ہمیں اپنی آغوش میں چھپا لے گی
آئیں مدرز ڈے پر ہم سب
ہر ماں اور دھرتی میں کو یاد کریں
کئی برس پہلے
جب میری ماں زندہ تھی
میں نے ان کے لیے ایک آزاد نظم لکھی تھی
آپ بھی سن لیں
۔ ۔

۔ بوڑھی آنکھیں
۔ ۔
میری ماں کی بوڑھی آنکھیں
ان آنکھوں میں جب بھی جھانکا
خوابوں کے ویرانے دیکھے
ویرانے بھی ایسے جن میں
ہر اک حسرت خار بنی تھی
ہر اک خواہش سوکھی ٹہنی
برسوں کی معصوم امنگیں
پژمردہ مرجھائی کلیاں
امیدوں کے کنکر پتھر
بکھرے پڑے تھے

میری ماں کی بوڑھی آنکھیں
ان آنکھوں میں جب بھی جھانکا
ماضی کے آسیب ہی دیکھے
نسلوں کی بیکار کی محنت

میری ماں نے
سردی کی راتوں میں اکثر
ٹھنڈے پانی کے نلکے سے
کپڑے دھو کر ہاتھوں پر گٹے بھی ڈالے
گرمی کی اس دھوپ میں ہر دن
آگ جلا کر گھر والوں کی روٹی پکائی
اپنے چہرے کو جھلسایا
قربانی کی ریت نبھائی
لیکن اس قربانی کا حاصل
آہیں آنسو
حسرت کے گمنام جزیرے
ایسے جزیرے جن پہ تنہائی کا ڈیرا بسیرا
خواب ادھورا

بچوں سے اک اندھی محبت
میری ماں کی اندھی محبت
میرے پاؤں کی زنجیر بنی تھی
میں نے اس زنجیر کی خاطر
ہجرت کا اک زہر پیا تھا
ہجرت کا وہ زہر کہ جو اک
امرت بن کر شریانوں میں پھیل گیا تھا

میری ماں کی آنکھوں میں اب
محرومی کی دھول تو ہے پر
مایوسی کے خار نہیں ہیں
میری ماں نے زیست کے ہر اک چوراہے پر
ہمت کے کچھ پھول کھلائے
چاہت کے کچھ گیت سنائے
اس ہمت نے اس چاہت نے
دو کلیوں کا روپ سنوارا
ایک کلی ہے عنبر بیٹی
جس کی خوشبو
قریہ قریہ پھیل گئی ہے

ایک کلی ہے شاعر بیٹا
دنیا بھر کے انسانوں کو پیار کا تحفہ
میری ماں تم خوش قسمت ہو
تیری دونوں آنکھوں کے ان
خوابوں کے ویرانوں میں اب
خوشیوں کے دو پھول کھلے ہیں
۔ ۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail