قلابازیاں
قارئین 22 کروڑ تو ہماری ٹوٹل قوم ہے جس میں 78 فیصد یعنی 18 کروڑ کا تو سیاست اور سیاسی جلسوں سے کوئی لینا دینا اور سروکار بالکل نہیں ہے اور سب سیاسی پارٹیاں دعوی کرتی ہیں کہ 22 کروڑ پبلک ان کے ساتھ ہے۔
سال 2013 میں صرف 1 کروڑ لوگوں میں یہ سیاست کے بیکٹیریا پائے جاتے تھے۔
پھر سال 2018 میں 2 کروڑ لوگوں میں یہ سیاست کے جرثومے پائے جانے لگے
سال 2022 میں ان سیاسی مریضوں کی تعداد 4 کروڑ ہو گئی ہے جو کہ اتنی خطرناک اور پریشان کن نہ ہے کہ کوئی انقلاب برپا کر دے ۔
سیاسی پارٹیوں کے جلسوں جلوسوں میں صرف سپیشل مخصوص جنونی سپورٹروں کا ہجوم ہوتا ہے جو ہر جگہ ڈویژن کی سطح تک تقریباً ایک ہی قسم کا ہوتا ہے۔
قارئین!
سمجھدار لوگ تو گراؤنڈ میں کرکٹ میچ دیکھنے تک نہیں جاتے۔ صرف شوقین اور پہلی بار جانے والوں کی تعداد ہی زیادہ ہوتی ہے
دوسری اہم بات لوگوں کو اس طرح کے سٹیج ڈراموں میں صرف انٹرٹینمنٹ کے لیے ہی جمع کیا جاتا ہے اس سے ووٹ بنک نہیں بڑھتے اور پھر حکومتیں ان سٹیج ڈراموں سے نہیں ملتیں اور نہ ہی گرتی ہیں۔
ثبوت آپ کے سامنے ہے کہ دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو حکومت میں فیڈر چوسنی اور پیمپر کے ہمراہ لانے والے بھی اس کو نہ مسلسل چلا سکے اور نہ ہی گرنے سے بچا سکے کیونکہ پہلے تو صرف اس کے جھوٹے وعدوں، مکر فریب، ڈراموں اور مہنگائی کے عفریت سے پبلک نالاں ہوئی پھر اس کی پالیسیوں اور طور طریقوں سے اس کے آبا و اجداد بھی متنفر ہو گئے اور پھر آخرکار اس کے غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے عالمی قوتیں ناراض ہوئیں اور پھر وہی ہوا جو اس سے پہلے دوسرے وزراء اعظم کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ کچھ کو تو صرف حکومتوں سے اتارا گیا اور کچھ کو اس دنیا سے سفر کرا دیا گیا ۔
مغرب کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا جیسے بیانات دینے والے کو مغرب نے ٹریلر تو دکھا دیا ہے شاید اب فلم دیکھنا نصیب ہو کہ نہ ہو!
قارئین!
بڑے کہہ گئے ہیں کہ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں اور اللہ کو فرعونیت تکبر اور غرور پسند نہیں بلکہ عاجزی پسند ہے۔ درخت کو جب پھل لگتا ہے تو وہ جھک جاتا ہے اور کیکر ہمیشہ اکڑا رہتا ہے اس لیے کاٹ دیا جاتا ہے۔
ان سیاسی تجربوں اور چپقلشوں کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاتھوں الگ ہونے والا ملک بنگلہ دیش ہم سے دگنا ترقی یافتہ ہے۔ ہمارا ایک روپیہ بنگلہ دیش کے صرف 47 پیسے کے برابر ہے۔ ہم 1 ہزار دیں تو بنگالی 470 ٹکا ملتے ہیں۔ یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔
ہم آپس میں حکومت کے لیے دست و گریباں ہیں اور بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں دنیا کے نمبر 1 ایکسپورٹر چائنہ کے بالکل برابر پہنچا ہوا ہے۔
بنگالی کسی بھی کام، محنت اور مزدوری کو عار نہیں سمجھتے اور ہمارے پاکستانی ویلے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور گلی محلے میں بحث و مباحثے اور نفرت انگیز جملوں اور لڑائیوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔
ہماری جی ڈی پی اس وقت 260.00 بلین امریکن ڈالر ہے اور بنگلہ دیش کی 420.00 بلین امریکن ڈالر ہے۔
ہماری دنیا میں کوئی عزت نہ ہے کیونکہ ہم ہر ملک سے ہر ماہ بھیک مانگتے ہیں اور پھر بڑے اکڑ اکڑ کر اسے بھیک قرض یا امداد نہیں سپورٹ یا پیکیج کا نام دیتے ہیں
اللہ ہمیں انسانی عناد، بغض، تکبر، فرعونیت سے محفوظ رکھے اور عاجزی و انکساری عطا فرمائے اور ملک کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہونے کی توفیق عطا فرمائے جس میں ہم سب کے برابر حقوق ہوں اور جہاں ہم سب پاکستانی بھائی گروپس میں بٹنے اور سیاسی دشمنیوں و لڑائیوں کی بجائے متحد و مومن بھائی اور اچھے مسلمان پاکستانی شہری اور ایک قوم بن کر ملک کی ترقی کا سفر طے کریں۔ آمین


