نوجوانوں کی کردار سازی اور ہمارے رہنما

وہ ایک پنجاب کے پسماندہ ضلع اور متوسط طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ لیکن اس کے خواب بہت اونچے تھے اور ان خوابوں کے حصول کے لیے وہ ہر طرح کے غلط یا صحیح اقدام لینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی۔ ہمیشہ اس کی نظر کسی شارٹ کٹ رستے پر ہوتی، تاکہ وہ اس کی پیروی کرتے ہوئے جلد از جلد اپنے خوابوں کی تعبیر کر سکے۔ پھر اچانک اسے عامر لیاقت کے ساتھ شادی کا موقع مل گیا۔ اس نے بنا کچھ سوچے سمجھے، بنا عامر لیاقت کے ماضی اور کردار کی جانچ پڑتال کیے فوراً مال و دولت کی ہوس میں اس کے ساتھ بیاہ رچا لیا۔ گو وہ کچھ سستی شہرت اور چند تحائف تو لینے میں کامیاب ہو گئی، مگر اب اسے خلع جیسے ناگوار عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
یہ کہانی صرف ایک دانیہ عامر کی کہانی نہیں ہے۔ بلکہ اس جیسی اور بھی بہت ساری دانیاں صرف دولت اور سستی شہرت کے چکر میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے لیے تیار رہتی ہیں۔ چلیے ان دانیوں کو چھوڑیے، اپنے دیس کے نوجوانوں کو بھی اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے کچھ اس سے ملتے جلتے شارٹ کٹس ہی چاہیں۔ وہ بھی کسی انہونے چمتکار کے ذریعے فی الفور بیٹھے بٹھائے دنیا جہاں کی دولت سمیٹنا چاہتے ہیں۔ اور دیس کے نوجوان لڑکے لڑکیاں ایسا چاہیں بھی کیوں نا۔
ہمارے بڑوں نے ان کے سامنے کیا مثالیں پیش کی ہیں۔ مملکت خدا داد کے سیاستدان جس طرح ٹکے ٹکے کی خاطر اپنا ایمان اور سیٹیں بیچتے پھرتے ہیں، نوجوان تو پھر اس سے غلط پیغام ہی لیں گے۔ جس طرح اس ملک میں عدالتوں میں انصاف برائے فروخت ہے اور حق سچ پر ہوتے ہوئے بھی بڑے معاوضوں کے بنا انصاف نہیں ملتا، تو پھر نوجوان غلط راستہ ہی اپنائیں گے۔ جب نوجوان نسل یہ دیکھے گی کہ جرائم پیشہ افراد اور قبضہ مافیا دنوں میں اپنی سلطنتیں تعمیر کرتے جا رہے ہیں اور پڑھے لکھے ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے در بدر روزگار کی تلاش میں اپنی عزت نفس مجروح کرتے پھر رہے ہیں، تو پھر وہ یقیناً شارٹ کٹس کی طرف ہی جائے گی۔
جب نوجوان دیکھیں گے کہ سول سروس کے ذریعے ان کا کوئی عزیز رشتہ دار یا محلے دار دنوں میں امارت کی منزلیں طے کرتا جا رہا ہے، تو پھر مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے والوں کے عزائم سماج سیوا نہیں بلکہ سماج کو لوٹنے اور نوچنے کے ہوں گے۔ جب معاشرے کے ٹرینڈ سیٹر ہی بچوں کو یہ پیغام دیں گے کہ بیٹا اگر زندگی میں آگے نکلنا ہے تو کوئی شارٹ کٹ ڈھونڈو، تو پھر دانیہ عامر جیسی دانیاں اور عامر لیاقت جیسے دانے ہی معاشرے کی عکاسی کریں گے۔
جب ریاست و حکومت ہی نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے جائز راستے بند کر دے اور اگر کوئی دیوانہ اپنی ذات برادری سے لڑ جھگڑ کر اپنا کاروبار کرنے کی سعی کر ہی بیٹھے، اور سارے حکومتی و ریاستی ادارے اسے سہولتیں مہیا کرنے کی بجائے اس سے اپنا حصہ لینے پہنچ جائیں، تو اس کا کاروبار کس طرح بڑھ سکتا ہے۔
جب صحافی برادری کے بڑے بڑے نام چھوٹے چھوٹے لفافوں کی وجہ سے عوامی رائے جان بوجھ کر ایجنڈے کے تحت بنانا اور تبدیل کرنا شروع کر دیں گے، تو ایسے معاشرے میں نوجوان بے راہ روی کا شکار ہی ہوں گے
انہیں پھر یقیناً شارٹ کٹس کی ہی تلاش رہے گی، چاہے اس کے لیے انہیں اپنی، اپنے خاندان کی، سارے معاشرے کی، حتی کہ اپنے دیس کی ہی عزت کو داؤ پر کیوں نہ لگانا پڑ جائے۔
وطن عزیز کے رہنماؤں، اساتذہ، سول سرونٹس، فوجی قیادت، صحافی برادری اور معاشرے کے دوسرے تمام اہم ستونوں کو نوجوانوں کے لیے اپنے اعلیٰ کردار کے ذریعے بہترین مثالیں پیش کرنا ہوں گئیں، تا کہ مملکت خدا داد پاکستان کا نوجوان، شارٹ کٹس ڈھونڈنے کی بجائے محنت و عظمت کے راستے پر گامزن ہو سکے۔

