جذبات کی عکاسی۔۔۔بولتی قبریں


میں نے دونوں ہاتھوں میں مٹھائیاں دبا کر ، دانتوں کو دانتوں پر جما کر زبان کو قید کر رکھا تھا۔ اگرچہ خود سے آدھی عمر چھوٹی بہن کی زبان سے کردار کشی کی گولیوں نے میرے دل پر ایسے وار کیا کہ جیسے چہرہ غم کی بہاروں سے داغ دار ہو اور ہر اس اپنے کی جانب سے الگ طرح کے رنگین جملے اور طعنے جسم کو چیر روح کو چھلنی کر رہے ہوں۔ رات گئے کمرے میں آرام کرتے تنہائی میں جب دن بھر کے طعنوں کی گونج سنائی دینے لگی تو کانوں پر ہاتھ رکھ دیے اور اپنا گزرا دن برا خواب سمجھ کر اگلے دن کی راہ تکنے لگی۔

پہلے بہت بولا کرتی تھی ہر سوال کا جواب زبان کی نوک پر ہوتا مگر اب اندر خاموشی سی ہے جیسے کوئی مردہ دفن ہو میری ذات میں، چار سے پانچ سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے اپنی ثابت قدمی کے لیے مگر شاید میری چاہت کسی کی ذاتی انا اور دکھاوے کی نظر ہو گئی شاید ”میں“ سے نکل کر باہر آنا اتنا مشکل ہے کے دل کے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ اب تو بس فرض ہی قرض ہے ہر اپنوں پر جسے لوٹانا ہے خواہشات نے دم توڑ دیا اندر ہی کہیں دل مردہ اور جسم قبرستان ہوا۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کے آپ کا لہجہ، اخلاق اور آپ کی سوچ کتنی اچھی ہو نہ ہی یہ قابل قدر رہ جاتا ہے کہ آپ نے تمام عمر دوسروں کے لیے کیا کچھ کیا، کب کب قربانی دی، کہاں کہاں صبر کیا کس طرح خود سے پہلے دوسروں کے لیے سوچا ہو آپ کی سمجھداری کی مثال ہی کیوں نہ قائم ہو ماضی میں پھر بھی وہ ایک فیصلہ وہ ایک چاہت وہ ایک خواہش جس کے لیے آپ صرف خود کے لیے سوچتے ہوں اپنی خواہش کو ترجیح دے جاتے ہیں۔ عمومی طور پر آپ کے اپنے ماضی کا ہر مثبت فعل بھلا دیتے ہیں اور باقی رہ جاتا ہے تو بس وہ ایک عمل جو شاید دوسروں کی نظر میں اچھا نہ ہو براہو غلط ہو مگر آپ کے زاویے سے وہ آپ کے لیے بہتر ہو جس نے آپ کی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کی ہو۔

اکثر و بیشتر امتحان میں بھی اسی چیز کے نمبر کاٹے جاتے ہیں جہاں غلطی کی گئی ہو باقی کے نمبرز نہیں کاٹے جاتے جس کی وجہ سے آپ عارضی امتحانات میں پاس ہو جاتے ہیں۔ مگر رشتوں میں لیے جانے والے زندگی کے اہم امتحانات میں ایک غلطی کے نتیجے میں پوری زندگی کے صفحے کو سرخ رنگ کے قلم سے بھر دیا جاتا ہے اور آپ کو زندگی کے امتحان میں فیل قرار دے دیا جاتا ہے ہر انسان مختلف تجربات سے گزرتا ہے سیکھتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔

وقت بدلتا ہے حالات بدل جاتے ہیں ساتھ چلنے والے لوگ بھی جو نہیں بدلتا وہ ہے انسان کا عقیدہ، ایمان اس کے مذہب کے اصول جن کی خلاف ورزی کرنے کی سخت ممانعت ہے مگر ہر وہ فیصلہ جو آپ کے ایمان کے دائرے میں ہو آپ صرف اس لیے قصور وار بن جائیں کیونکہ آپ کے اپنے اس فیصلے پر رضامند نہ ہوں اور آپ کی مخالفت میں وہ اس قدر آگے چلے جائیں کے اپنی ذاتی ناپسندیدگی کی آگ میں جلنے لگیں اور آپ کی فکر کرنے کے نام پر اپنی ضد، غصے اور انا کو پروان چڑھانے لگیں۔

یہاں تک کے آپ کی قربانی کے باوجود بھی ان کے اندر پلنے والی نفرت کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو اور وہ آپ کی ذاتی زندگی کو اپنی ملکیت سمجھنے لگیں۔ کسی کی پسند یا فیصلے پر اظہار غصہ، نا پسندیدگی یا مخالفت الگ چیز ہے مگر اپنی نا پسندیدگی کو اپنی ضد بنا کر کسی کی ذات کی تضحیک کرنا، اس کے خلوص پر شک کرنا، اس کی محنت اور پرواہ جو شاید اس نے پہلے بھی ہمیشہ کی ہو اس پر انگلی اٹھانا، اس پر سوتے جاگتے طعنوں کے تیر چلا کر اس کے سینے کو چھلنی کرنا سراسر غلط ہے۔ وہ شخص جس کو آپ نے پیدا کیا ہو یا پھر اس سے آپ کا خونی یا جذباتی رشتہ ہونے کے باوجود بھی وہ آپ سے لڑ رہا ہو تو ذرا سوچیں وہ خود سے کتنا لڑ رہا ہو گا اس کے اندر کی جنگ نے اسے اندر سے پہلے ہی توڑ رکھا ہو گا اور آپ کی ذاتی مخالفت و تلخیوں نے باہر سے۔

Facebook Comments HS