مولانا فضل الرحمن کے گاؤں عبد الخیل میں گزرے لمحات
عبد الخیل ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع مولانا صاحب مدظلہ کا آبائی گاؤں ہے مجھے کبھی وہاں جانا نصیب نہیں ہوا عید کے موقع پر مولانا فضل الرحمان صاحب فیملی سمیت وہیں ہوتے ہیں عید پر رش لگا رہتا ہے کارکنوں کا ہجوم ہوتا ہے دور دور سے کارکن ملاقات کے لئے آرہے ہوتے ہیں صرف ایک دید کے لئے کئی سو کلو میٹر طے کر کے آتے ہیں، میں ہجوم میں ملاقات کے حق میں بالکل بھی نہیں!
اس بار عزیز دوست اسلامک رائٹرز فورم کے چیئرمین طیب اکبری ایڈووکیٹ کا بلاوا آیا تھا سو اس کے بلاوے کا پاس رکھنا میری مجبوری تھی، عید کے تیسرے دن دو اور دوستوں کی معیت میں باری تعالٰی کا نام لے کر پشین سے عبد الخیل کے لئے رخت سفر باندھا، شام آٹھ بجے تحصیل پہاڑ پور کے نواحی گاؤں عبد الخیل میں طیب اکبری ایڈووکیٹ کے دولت کدے پر پہنچے گرد آلود ہواؤں اور بارش نے مل کر استقبال کیا، حال و احوال جاری تھی، اس دوران جمعیت طلبہ اسلام کے بانی رہنما ڈاکٹر عبدالحکیم اکبری صاحب مہمان خانہ تشریف لائے، ویلکم کہا، خوشی کا اظہار کیا کافی دیر گپ شپ چلتی رہی مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ کی سوانح اور جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی سیاست پر گفتگو ہوئی، مشر اکبری صاحب کے ساتھ مجلس کافی دلچسپ رہی ہماری جمائیاں دیکھ کر طیب اکبری صاحب کو ہماری شکم کی بیٹری لو ہونے کا خیال آیا، بعض اوقات جمائیاں نیند کی نہیں بھوک کی علامت بھی ہوتی ہے،
چند ہی منٹوں میں دسترخوان بچھا، کھانا کھایا، ارشد اکبری صاحب نے کہا کہ سلوان محمود ( فرزند کبیر سینیٹر مولانا عطا الرحمن) چائے پینے آرہے ہیں کچھ ہی دیر بعد وہ آئے اس کے ساتھ علیک سلیک ہوئی سلوان محمود کے ساتھ پرانی شناسائی ہے اس دوران ”رفیق سفر“ کو فرزند قائد جمعیت حفظہ اللہ انس محمود اور برادر عامر اقبال (مولانا فضل الرحمان کے داماد ہے ) کی واٹس ایپ کال موصول ہوئی کہ یہاں گھر آجائیں، میزبان طیب اکبری کو بتایا کہ قائد جمعیت کے گھر جاتے ہیں!
انس محمود اور عامر اقبال کہتے ہیں ہم آپ کے انتظار میں ہے عامر اقبال خصوصی طور پر ڈی آئی خان سے عبد الخیل ہمارے لئے تشریف لائے تھے، طیب اکبری بھی ساتھ ہو لیا اس دوران سلوان محمود نے صبح ناشتے کی ذمہ داری اپنے سر لی بارہا منت کے باوجود وہ اپنی اس ضد کو پوری کرنے میں کامیاب رہے قائد جمعیت کے گھر پہنچ کر انس محمود اور عامر اقبال نے استقبال کیا مہمان خانہ جاکر پتہ چلا اور بھی مہمان بھی تشریف فرما ہیں گفتگو کیا تھی؟
موجودہ نئی حکومت اور اس کے سامنے چیلنجز اور اگلے الیکشن پر ہر ایک اپنی رائے پیش کرتے رہے گھنٹہ، ڈیڑھ محفل جمی رہی ان کی دن بھر کی تھکاوٹ کو دیکھتے ہوئے مجلس برخاستگی کی ابتدا کر ڈالی مہمان خانہ سے نکلتے ہوئے انس محمود سے ہمارے جگر انجنئیر ضیاء الرحمن کا پوچھا انس نے کہا کہ یہاں کہیں ہو گا میں تلاش کرتا ہوں جانے سے پہلے ضیا گل اور مولانا لطف الرحمن چند دوسرے مہمانوں کے ساتھ پائے گئے حال و احوال پوچھنے کے بعد محسوس ہوا مجلس نجی سی ہے سو رخصت لینے کی پہل کی مگر ضیا گل نے بیٹھنے کا کہا وہاں بھی سیاسی بحث اور بلوچستان کی حکومت ہی موضوع رہی سیاسی گھرانا ہے باتیں بھی سیاست کی ہی ہوگی۔
مختصر وقت میں کافی ساری باتیں ہوئی ان کی محفل کو مزید ڈسٹرب کرنے کے لئے دل راضی نہ تھا مولانا لطف الرحمن اور انجنئیر ضیاء الرحمن سے رخصت لے کر گھر سے نکلے اور عجز و انکساری کی تصویر انس محمود اور عامر اقبال نے گاڑی تک آ کر وداع کیا طیب اکبری کے مہمان خانہ پہنچ کر شدت کی نیند ہمیں آغوش میں لینے کی منتظر تھی سونے سے پہلے یہ طے ہوا کہ بشرط حیات صبح نماز قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کی اقتدا میں ادا کی جائے گی نماز کے ساتھ ملاقات بھی ہو جائے گی حسب وعدہ صبح سب اسی وقت جاگ گئے صلاة الصبح مولانا فضل الرحمان کی اقتدا میں ادائیگی کے لئے مسجد پہنچے، نماز ادا کی کارکنان جمعیت کی کثیر تعداد موجود تھیں دعا ہوتے ہی کارکنان جمعیت قائد جمعیت پر ایسے ٹوٹ پڑے جیسے برسوں کا لاپتہ محبوب ملا ہو ملاقات کے ساتھ جبری سیلفیاں بھی چلتی رہیں۔
قائد جمعیت کے چہرے کے کیفیت پڑھتے ہی اندازہ ہوا کہ کارکنوں کی اس حرکت پر وہ راضی نہیں سو قائد جمعیت کو تکلیف سے بچانے کی خاطر ہم نے ہاتھ ملانے کی تکلف بھی نہیں کی محض دعا پر اکتفا کیا اور اس کے درازی عمر اور کامل صحت کی دعا کی یہاں سے سیدھا حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کے مرقد پر چلے گئے وہاں دعا ہوئی گھر پہنچ کر سلوان محمود ناشتہ سمیت پہنچ گئے اکبری صاحب کا بیٹھک مہمانوں سے کچا کچ بھرا تھا ناشتہ کر کے طیب اکبری صاحب سے نا چاہتے ہوئے بھی رخصت لی کوئٹہ کی طرف روانہ ہوئے برادرم عامر اقبال نے ظہرانے کی دعوت دی تھی کافی منت و سماجت کے بعد دیدار بہ مستقبل پر اس کو راضی کر کے ان سے بھی معذرت کر کے ہم نے عبد الخیل کی مردم خیز زمین سے واپسی کے سفر کا آغاز کر کے گھر کو روانہ ہوئے۔


