جاب کوٹہ اور مذہبی اقلیتیں

پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں، کل آبادی کا تقریباً تین فیصد ہیں۔ جس میں ہندو، سکھ، مسیحی، بہائی اور پارسی شامل ہیں۔ ملک کے قیام، دفاع اور صحت کے شعبوں میں تمام اقلیتوں نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا اور آج بھی ڈال رہے ہیں لیکن سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اقلیتوں کی حالت زار آج تک پسماندہ ہی ہے، آئین پاکستان اقلیتوں کو برابری کے حقوق اور بھرپور تحفظ فراہم کرتا ہے۔
2009 میں پیپلز پارٹی اور محروم شہباز بھٹی کی کوششوں سے حکومت نے سرکاری ملازمتوں میں پانچ فیصد کوٹہ مختص کیا لیکن بارہ سال گزرنے کے بعد آج بھی جاب کوٹہ کی افادیت پر کئی سوالیہ نشان ہیں۔
فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سات سالوں میں اقلیتوں کی کل 545 نوکریاں پانچ فیصد اقلیتی کوٹہ کے تحت مشتہر کی گئیں، جس پر 281 امیدوار کامیاب ہوئے اور 264 آسامیاں خالی رہ گئیں، جو کہ کل آسامیوں کا تقریباً 48 فیصد ہیں۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن کا ریکارڈ بھی اس حوالے سے زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ 2016 سے 2020 تک کامیابی کا تناسب محض 14 فیصد تک ہی رہا ہے، جبکہ پی ایم ایس کے مقابلے میں اقلیتی کوٹہ کی آسامیاں خالی ہی جاتی رہی ہیں۔
خیبرپختونخوا میں بھی صورت حال اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے، جہاں تقریباً 50 فیصد آسامیاں خالی ہیں۔ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی، سڈل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں اقلیتی کوٹہ کے تحت 30 ہزار سے زائد آسامیاں خالی پڑی ہیں۔
اس طلب و رسد میں فقدان کی کئی ایک وجوہات ہیں، جن میں سے بڑی وجہ پروفیشنل اور ٹیکنیکل کالجز میں تعلیمی کوٹے کا نہ ہونا ہے، ایک طرف نوکریاں تو مل رہی ہیں، لیکن مارکیٹ میں اہل اقلیتی امیدواران کا فقدان ہے۔ جس کی ایک وجہ اقلیتی طالبہ و طالبات کا سکول و کالجز سے ڈراپ آؤٹ کی شرح کا زیادہ ہونا ہے۔ ایک مقامی این جی او کے کیے گئے سروے کے مطابق صوبائی دارالحکومت پشاور میں محض 3 فیصد اقلیتی طلبہ و طالبات ہی ماسٹر لیول تک پہنچ پاتے ہیں، جبکہ پچاس سے ساٹھ فیصد طلباء مڈل میں ہی تعلیم کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں، جبکہ خواتین میں یہ تناسب مزید خراب ہے۔
اس تناظر میں ضروری ہے کہ اقلیتوں کے لیے پروفیشنل، میڈیکل اور انٹر لیول تک کوٹہ مختص کیا جائے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ دوسرا سول سوسائٹی اور حکومت مل کر اقلیتی کمیونٹی میں آگاہی سیشنز کا انعقاد کیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ کوٹہ کی افادیت اور اپنے اس جائز حق سے مستفید ہو سکیں۔
تیسرا حکومتی سطح پر ضرورت ہے کہ حکومت جاب کوٹہ کو بطور پالیسی نافذ کرے اور محض نوٹیفکیشن کی حد تک محدودیت کو ختم کیا جائے اور اداروں کو جاب کوٹہ پر عمل درآمد کرنے کا پابند بنایا جائے اور غفلت کی صورت میں ان کے کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی جائے۔
جاب کوٹہ کی افادیت پر بارہ سال گزرنے کے بعد اب بھی کئی سوالیہ نشانات ہے، جس کی ایک وجہ جاب کوٹہ کے ساتھ تعلیمی کوٹے کا نہ ہونا ہے۔ جن کہ تدارک کے لیے ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر پانچ فیصد تعلیمی کوٹے کو نافذ کرے، اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کریں اور بڑے پیمانے پر کوٹے سے متعلق آگاہی مہم چلیں، تاکہ اس آئینی حقوق کے ثمرات صحیح معنوں میں عام پبلک تک پہنچ سکیں۔

