قاسم علی شاہ کی پولیس افسران سے گفتگو


پولیس کی تربیت میں قاسم علی شاہ صاحب کا کردار بےمثال ہے۔ آپ کو جب بھی پولیس کے تربیتی اداروں میں بلایا گیا آپ نے ہمیشہ نہایت خوشی سے اس دعوت کا خیر مقدم کیا۔وہ اس معاشرے کی پولیس کو ایک مثالی پولیس دیکھنا چاہتے ہیں، ایسی پولیس جو ایمانداری اور محنت میں بے مثال ہو، جو نظم و ضبط کے دامن کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہو اور جو خدمت خلق کے اعلی ترین جذبے کی اہمیت سے آگاہ ہو۔ انھی بلند مقاصد کے حصول کے لیے وہ پولیس کی تربیت میں ہمیشہ پیش پیش نظر آتے ہیں۔
وہ باقاعدگی کے ساتھ پولیس کے تربیتی اداروں میں جاکر زیر تربیت جوانوں کو کردار سازی، لیڈرشپ، سکلز ڈویلپمنٹ، پازیٹیو تھنکنگ، سٹریس مینجمنٹ سمیت بہت سارے دیگر اہم اور اخلاقی موضوعات پر بلامعاوضہ ٹریننگ فراہم کرتے ہیں۔وہ ایک مشکل دور میں پولیس کے مورال کو بلند کرنے کی جہد میں لگے ہوئے ہیں۔
شاہ جی کی انھی کاوشوں کی ایک کڑی ہے کہ گزشتہ روز قاسم علی شاہ صاحب پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ لاہور تشریف لائے اور 500 سے زائد پولیس افسران سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے دل موہ لینے والی گفتگو کی۔ ان کی گفتگو کے کچھ خوبصورت جملے ملاحظہ فرمائیں۔
ہمارے بیشتر مسائل ہماری "انا” کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
اگر ہمیں کامیابی کی طرف قدم بڑھانا ہے تو ہمیں اپنی انا کو مینیج کرنا سیکھنا ہوگا۔
آپ کس رینک یہ ہیں اس سے زیادہ اہمیت کی حامل یہ بات ہے کہ آپ لوگوں کے لیے کتنے فایدہ مند ہیں۔
اپنی انا کو مجروح ہونے سے بچانا یہ بھی آپ کی اپنی ذمہ داری ہے۔
جب جھوٹی انا انسان کے دل و دماغ پہ قابض ہوتی ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے ارد گرد کے لوگوں سے بے خبر اور بے تعلق ہوجاتا ہے۔
جھوٹی انا والے شخص کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھ بیٹھتا ہے، کسی دوسرے کی بات کو توجہ سے سننے اور سمجھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔
جھوٹی انا کا پہریدار چھوٹی چھوٹی بات پہ خود کو اور دوسروں کو تکلیف میں مبتلا کرتا دکھائی دے گا۔
جھوٹی انا رشتوں کو کمزور کر کے رکھ دیتی ہے، سچے دوست روٹھ جاتے ہیں، رشتہ دار کنی کترانے لگے جاتے ہیں اور انسان تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔
جذباتی طور پر کمزور انسان کی علامت یہ بھی ہے کہ وہ فضول قسم کی انا کے خول میں خود کو قید کر ڈالتا ہے، وہ خود ہی قیدی اور خود ہی پہریدار بن بیٹھتا ہے۔
جھوٹی انا کو آپ دو دھاری تلوار بھی کہہ سکتے ہیں جو کسی بھی آزاد پنچھی کے پر کاٹ کے رکھ دیتی ہے اور کٹے پروں کے ساتھ بھی بھلا کوئی اڑ سکتا ہے
دنیا کے ہر مذہب کی ہر عبادت کا بنیادی مقصد انسان کی جھوئی انا کو ختم کرنا رہا ہے۔
نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ یہ سب عبادات انسان کو عاجزی و انکساری کا درس دیتی ہیں۔
درویشی و فقر کے پہلے ہی زینے پہ جھوٹی انا کی گردن مروڑنا پڑتی ہے۔
فقیر بدلہ نہیں لیتا، فقیر کسی کو طعنہ نہیں دیتا،
آپ دنیا کے ہر مذہب کی عبادت گاہ کے اندر بیٹھے "سچے عبادت گزاروں” کی نگاہوں کو جھکا ہوا اور آوازوں کو مدھم پاؤ گے۔
اگر برس ہا برس کی عبادت وریاضت کے بعد بھی آپ کی انا کا بت پورے قد و قامت کے ساتھ کھڑا ہے، تو یہ رونے کا مقام ہے۔
یاد رکھیں دعائیں حاصل کرنے کا بہترین مقام اور موقع بد دعاؤں میں بھی تبدیل ہوتے زیادہ دیر نہیں لگتی۔
سٹریس مینجمنٹ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جھوٹی انا کے خول سے باہر آجاؤ، عاجز و منکسر المزاج بن جاؤ، خاکساری اپناؤ، بدلے لینا چھوڑ دو، ضدیں لگانا چھوڑ دو، مسکرانا شروع کر دو۔
اپنے بیوی، بچوں، بہن بھائیوں سے بہترین سلوک کرو اور والدین سے نظریں جھکا کے بات کرو۔
ہر لمحہ کچھ نہ کچھ نیا سیکھتے رہو، کتاب سے دوستی لگاؤ۔
یہ عہدہ و اختیار، کرسی و اقتدار، جبہ و دستار تھوڑے سے وقت کے لیے انسان کو عطا ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کے بہترین استعمال کی وجہ سے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں اور ان کا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے جبکہ کچھ ان کے غلط استعمال کی وجہ سے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے روسیاہ ٹھہرتے ہیں۔
تمام انبیاء کرام کی محبت کا میدان انسانوں کے دل ہوا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
Facebook Comments HS