ننھے پھول اور والدین کے غلط رویے


میں نے بہت سی ماؤں کو دیکھا ہے کہ وہ دوسروں کے سامنے اپنے بچوں کی برائی کرتی ہیں۔ مجھے حیرت جب ہوتی ہے جب اچھی خاصی پڑھیں لکھی مائیں بھی ایسا کرتی ہیں۔ کیا کوئی جان سکتا ہے کہ ان کا یہ عمل ان کے بچوں کے لئے کتنا خطرناک ہے۔ اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں تو تھوڑی دیر کے لیے اپنے آپ کو اس بچے کی جگہ رکھیں اور تصور کریں کہ بھری محفل میں آپ کی ماں آپ کی وہ سب برائیاں بیان کر رہی ہے جو آپ سب سے چھپانا چاہتے ہیں جبکہ آپ بھی اس محفل میں موجود ہیں اس وقت آپ کی ذہنی حالت کیا ہوگی آپ کا کانفیڈنس لیول کس حد تک گر جائے گا۔

یہی حالت اس بچے کی ہوگی یا شاید اس سے بھی بری کیوں کہ تصور اور حقیقت میں کچھ تو فرق ہوتا ہے نا۔ جب مجھے کسی معاملے میں سمجھ نہیں آتا کہ میں اپنے بچے کو کیسے ٹریٹ کروں تو میں تھوڑی دیر کے لئے اپنے آپ کو اس کی جگہ رکھ کر دیکھتی ہوں کہ میں اس کی جگہ ہوتی تو میں اپنی والدہ سے کیا توقع کرتی۔ اگر آپ چھوٹی ہوتی اور آپ سے کوئی قیمتی چیز ٹوٹ جاتی تو آپ کی کیا خواہش ہوتی؟ کیا آپ چاہتی کہ آپ کو بری طرح ڈانٹ دیا جائے؟ یا یہ کہہ کر بات ختم کردی جائے کہ آئندہ خیال رکھنا کیونکہ ڈانٹنے سے وہ چیزے جڑ تو نہیں جائے گی البتہ ایک چیز اور ٹوٹ جائے گی آپ کے بچے کا ننھا سا دل۔

بچے غلطیاں کرتے ہیں اور غلطیوں ہی سے سیکھتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ بچوں کو اپنی غلطیاں ماننا سکھائیں اور یہ وہ جب ہی سیکھیں گے جب بڑے اپنی غلطیاں ماننے میں عار محسوس نہیں کریں گے۔ ایک بچے کی آبزرویشن کسی بڑے کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ آپ یہ ہرگز نہ سمجھیں کہ وہ کھیل میں مصروف ہیں اور انہیں نہیں معلوم ہو گا کہ گھر میں کیا ہو رہا ہے انہیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ غلطی بابا کی تھی اور انھوں نے سارا الزام مما کے سر ڈال دیا اور مما نے بلاوجہ چھوٹے بھائی کو ڈانٹ دیا تو اس سے آپ اپنے بچے کو کیا میسج دیتے ہیں کہ اپنے سے کمزور کے ساتھ آپ کا کیا رویہ ہونا چاہیے۔

یہی کہ اپنی غلطی جہاں تک ہو سکے دوسروں پر ڈال دیں اور جب آپ کو غصہ آئے تو اپنے سے چھوٹے پر نکالیں۔ ہم والدین ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے بچوں سے سوری نہیں کہہ سکتے خاص طور سے والد جو اپنی غلطی ماننے یا سوری کہنے کو منصب باپ کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اگر آپ سوری کہیں گے اور اپنی غلطی مانیں گے اس وقت آپ ایک عظیم باپ بن سکیں گے۔ اس وقت آپ عملی طور پر اپنے بچے کو سکھائیں گے کہ سوری کہنے سے کوئی چھوٹا نہیں ہو جاتا اور آگے جاکر آپ کے بچے میں بھی اپنی غلطی ماننے کا حوصلہ آئے گا جب وہ اپنی غلطی ماننے گا تو اس سے سیکھے گا بھی۔

بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم بلاوجہ بچوں پر زیادہ غصہ کر جاتے ہیں یہاں تک کہ بچوں پر ہاتھ بھی اٹھاتے ہیں اور یہ ہمارے لئے کوئی خاص بات نہیں ہوتی لیکن یہ بچے کے لئے بہت ہی تکلیف دہ ہوتا ہے اگر اس کا کوئی قصور ہو گا بھی تو اب وہ اس کے بارے میں نہیں سوچے گا بلکہ وہ مستقل اس بے عزتی والی ڈانٹ اور اس مار کے بارے میں سوچے گا جو اس کو آپ کی طرف سے ملی۔ اس کے دل میں بغاوت کے احساسات ابھریں گے جو بعد میں بڑوں سے بدتمیزی کی صورت میں ظاہر ہوں گے پھر آپ پریشان ہو کر سوچیں گے کہ آپ کا بچہ اتنا بدتمیز کیسے ہو گیا۔

اول تو آپ ایسا نہ ہونے دیں اور اگر خدانخواستہ آپ اپنے بچے کو مارتے ہیں یا اتنے سخت طریقہ سے ڈانٹ دیتے ہیں جبکہ معاملہ اتنا بڑا نہیں تھا تو یہ سوچ کر مطمئن نہ ہو جائیں کہ میں اس کی ماں ہوں یا باپ ہوں ڈانٹ دیا تو کیا ہوا ہمارے والدین بھی ہمیں ڈانٹ مار لیتے تھے کیوں کہ پہلے کا دور اور تھا اس دور کے بچے اور ہیں اس وقت اگر آپ اپنے بچے سے سوری کہیں اور مانیں کہ بیٹا مجھ سے غلطی ہوئی مجھے آپ کو اس طرح نہیں ڈانٹنا چاہیے تھا۔ آپ تصور نہیں کر سکتے کہ آپ کے بچے پر اس کے کتنے مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور اس کے اندر بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوالہ پیدا ہو گا۔

بچوں کو کبھی بھی دوسروں کی مثال دے کر نہ سمجھائیں کہ دیکھو فلاں بچہ کتنا ذہین ہے اس کے امتحان میں کتنے اچھے نمبر آئے ہیں اور ایک تم ہو نکمے کے نکمے۔ ایسا کہنے سے آپ کا بچہ کبھی بھی اس بچے کی طرح نہیں بنے گا بلکہ ایسا ضرور ہو سکتا ہے کہ آپ کا بچہ اس بچے سے نفرت کرنے لگے اور اس کے ذہن میں یہ بات مضبوطی کے ساتھ بیٹھ جائے گی کہ اس کے اندر کوئی کمی ہے وہ کبھی دوسرے بچوں کی طرح اچھا نہیں پڑھ سکتا اس لیے وہ کچھ اچھا کرنے کی کوشش ترک کر دے گا۔ بچے کو اس کی ہی مثال سے سمجھائیں کہ تم نے پہلے بھی اچھا کیا تھا تمھارے نمبر بہت سے بچوں سے اچھے تھے اب تم اور بھی اچھا کر سکتے ہو۔ تمھارا کام بہت اچھا ہوتا ہے تم اس کو بہترین بنا سکتے ہو وغیرہ وغیرہ۔

تمام والدین اپنے بچے کو نیک اور بہترین انسان بنانا چاہتے ہیں لیکن اگر کوئی پوچھے کہ آپ نے اپنے بچے کو بہترین انسان بنانے کے لیے کیا منصوبہ بندی کی ہے اور گھر کے روز مرہ معاملات میں آپ اس مقصد کو کس حد تک سامنے رکھتے ہیں؟ کیا آپ نے اپنے بچے کو بتایا کہ آپ اسے کیسا انسان بنانا چاہتے ہیں؟ کبھی آپ نے پیرنٹ ٹیچر میٹنگ میں ٹیچر سے تعلیمی کارکردگی کے ساتھ ساتھ بچے کی اخلاقی کارکردگی کے بارے میں بھی پوچھا کہ آپ کے بچے کا ٹیچر اور دوسرے طالب علموں کے ساتھ کیسا رویہ ہے۔ میرے خیال سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جس نے ان سب باتوں کا خیال کیا ہو۔

بچے قدرت کا انمول تحفہ ہی نہیں بلکہ قدرت کی طرف سے دی گئی عظیم ذمہ داری ہیں۔ تحفہ تو آپ کی ملکیت ہوتا ہے آپ جیسا چاہیں استعمال کریں لیکن یہاں آپ کی مرضی نہیں چلے گی بلکہ آپ نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہے اور اس سلسلے میں آپ کا پہلا اقدام یہ ہونا چاہیے کہ آپ خود سے وعدہ کریں کہ بچوں پر ہاتھ نہیں اٹھائیں گے۔ انسان طاقت کا استعمال وہاں کرتا ہے جب وہ اپنی تدبیروں سے ہار جاتا ہے بچے پر ہاتھ اٹھانے کا مطلب اپنی ہار تسلیم کرنا ہے یعنی آپ اس کے سامنے بے بس ہوچکے ہیں اس لئے بچے کی کمزوری اور اپنی طاقت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اگر آپ بچے کو مارتے ہیں تو آپ میں اور ایک جاہل میں کوئی فرق نہیں۔

مار بچے میں خوف پیدا کرتی ہے اور خوف ہمیشہ اچھی صلاحیتوں کو کھا جاتا ہے۔ خوف سے بچے میں نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں جن سے وہ ساری زندگی نکل نہیں پاتا۔ بچے بھی چاہتے ہیں کہ ان کی عزت کی جائے۔ مار سے وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ اس کے برعکس بچے کو دوست بنا کر آپ اس کی بہتر تربیت کر سکتے ہیں۔ بچے سے ایسا رویہ رکھیں کہ وہ اپنے مسائل آسانی سے آپ کو بتا سکے۔ بعض والدین اس لئے بھی بچوں کو مارتے ہیں تاکہ ان کی سربراہی قائم رہے، بچے ان سے دب کر رہیں اور ان کی بڑائی کو تسلیم کریں اس طرح والدین اپنی نفسیاتی ضرورت کو پورا کرتے ہیں یہ ایک قسم کا تشدد ہی ہے جو انسانیت کے خلاف ہے۔ مار پیٹ سے بچے کے اندر منفی رجحانات پیدا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ باغیانہ رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ مار پیٹ سے بچے میں اعتماد ختم ہو جاتا ہے وہ کام کرنے سے ڈرتا ہے اور یہ حالت بڑے ہونے کے بعد بھی رہتی ہے۔ اپنے بچوں کو اپنا دوست بنائیں، ان کی عزت کریں تاکہ وہ بھی دوسروں کی عزت کرنا سیکھیں۔

Facebook Comments HS