عوامی مقامات پر پورن دیکھنے کی عادت: ’جب کسی کو لت لگ جاتی ہے، تو ’دماغ کا سوچنے والا حصہ اکثر آف لائن ہونے لگتا ہے‘

منیش پانڈے اور ریچل سٹون ہاؤس - نیوز بیٹ رپورٹر


 

Man on phone on bus

برونوین ریڈ لائبریری میں بیٹھی دوسرے طالب علموں کی طرح پڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ انھوں نے دیکھا کہ پاس ہی بیٹھا ہوا ایک شخص لائبریری کے کپمیوٹر پر پورنوگرافی دیکھ رہا ہے۔

انھوں نے ریڈیو 1 نیوز بیٹ کو بتایا کہ ’میں حیران رہ گئی اور مجھے صدمہ پہنچا۔ مجھے واقعی سمجھ نہیں آیا کہ میں کیا کروں۔‘

مانچیسٹر کی رہائشی اس 21 سالہ لڑکی کو لگا کہ شاید یہ کسی سے ایک مرتبہ ہو گیا ہو گا لیکن چند ہفتے بعد انھیں اسی لائبریری میں ویسا ہی تجربہ دوبارہ ہوا اور وہی شخص بیٹھا دوبارہ پورن دیکھ رہا تھا۔

برونوین کی طرح کئی اور لوگوں نے اسی طرح کے تجربے کے متعلق بات کی ہے جہاں لوگ عوامی مقام پر، جیسے بسیں اور ٹرینیں، بیٹھ کر پورن دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

A man watching porn on public transport

Emma Hermansson
یہ تصویر کسی نے بی بی سی کو دی ہے جو مانچیسٹر میں ٹرام میں بیٹھے ایک شخص کی ہے جو پورن دیکھ رہا ہے

حال ہی میں کنزرویٹیو پارٹی کے ایک ممبر پارلیمان نے دارالعوام میں اپنے فون پر پورن دیکھنے کے الزام کو تسلیم کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا پورن میں دلچسپی کی وجہ سے نہیں ہوا تھا بلکہ وہ دراصل ٹریکٹر کی ایک ویب سائٹ ڈھونڈ رہے تھے اور غلطی سے وہ پورن دیکھنے لگے۔

میڈیا واچ ڈاگ آفکوم کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی آدھی بالغ آبادی پورن دیکھتی ہے۔

یہ جاننے کے لیے کہ لوگ پرائیویٹ کے بجائے عوامی مقامات پر پورن کیوں دیکھتے ہیں، ہم نے سائیکوتھراپسٹ ڈاکٹر پاؤلا ہال سے بات کی، جنھوں نے لارل سینٹر میں سیکس اور پورنوگرافی کی لت پر بہت کام کیا ہے۔

پورن کی عادت

ایک ممکنہ وجہ جو ڈاکٹر ہال نے بتائی ہے اور جسے وہ اپنے کام کے دوران اکثر دیکھتی ہیں وہ پورنوگرافی کی لت ہے۔

انھوں نے نیوز بیٹ کو بتایا کہ ’ہمیں پتہ ہے کہ جب لوگ کسی چیز کے عادی ہو جاتے ہیں تو پھر خواہش کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘

’چاہے یہ شراب کی لت ہو یا جوئے اور گیمنگ کی، خواہش کو روکنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘

Bronwen

Bronwen Reed
برونوین کہتی ہیں کہ ایسا پبلک لائبریری میں کرنا مناسب نہیں ہے، خصوصاً جہاں خاندان اور بچے موجود ہوتے ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’پورن دیکھنے کی خواہش اور ضرورت‘ اس سے کہیں زیادہ ہے جیسا یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ ’نہیں، بعد میں جب میں گھر پہنچوں گا۔‘

جب کسی کو لت لگ جاتی ہے، تو ’دماغ کا سوچنے والا حصہ اکثر آف لائن ہونے لگتا ہے۔‘

خود آگاہی اور مین سٹریم

کیلم سنگلٹن گلاسگو میں اپنے گھر جانے کے لیے ایک بس میں سفر کر رہے تھے جب انھوں نے دیکھا کہ ایک شخص پورنوگرافی دیکھ رہا تھا۔

19 سالہ کیلم کا ابتدائی ردعمل ’ناگواری اور کنفیوژن‘ تھا کیونکہ انھیں سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ کوئی عوامی مقام میں ایسا کیوں کرے گا۔

کیلم کہتے ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک مروجہ مسئلہ ہے۔۔۔ یہ بس ان کی روزمرہ کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ جو کہ واضح طور پر نہیں ہونا چاہیے۔‘

ڈاکٹر ہال سمجھتی ہیں کہ عوامی مقامات پر فحش مواد دیکھنے والوں میں بھی ’خود آگاہی کی کمی‘ ہو سکتی ہے۔

’ایک منٹ پہلے وہ ای بے یا فیس بک سکرول کر رہے ہوتے ہیں، اور اگلے ہی لمحے، وہ ایک لنک فالو کرتے ہیں، جو فحش نگاری پر ختم ہوتا ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ مرکزی دھارے کی ثقافت میں فحش نگاری کو ’نارملائز کرنا‘ بھی لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

ماضی کے مقابلے میں پورنوگرافی اب بہت پھیل چکی ہے اور اس حوالے سے کیا ہے اور کیا نہیں ہے کے درمیان لائنیں ’دھندلی ہو گئی ہیں۔‘

Rear view of a bus
ڈاکٹر ہال سمجھتی ہیں کہ لوگوں میں خود آگاہی کی کمی شرمندگی کی حد تک ہے

وہ کہتی ہیں کہ ’جب کچھ لوگ پورنوگرافی دیکھ رہے ہوتے ہیں، تو وہ صرف یہ سوچتے ہیں کہ شاید ان کے آس پاس موجود ہر شخص بھی ایسا ہی کرتا ہے۔ یہ اب ایک معمول بن گیا ہے۔‘

ڈاکٹر ہال کہتی ہیں کہ مردوں کی ایک تھوڑی تعداد کے لیے، عوامی جگہ پر پورنوگرافی دیکھنا ’درحقیقت طاقت کے متعلق ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اس میں خواتین سے نفرت کا کچھ عنصر ہے کہ ’مجھے دیکھنے کا حق ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ وہ شاید سوچتے ہوں کہ اگر اس سے ’کسی اور کو تکلیف ہوتی ہے‘ تو یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے۔

ایک عادت

ڈاکٹر ہال کہتی ہیں کہ اگر لوگوں نے چھوٹی عمر سے ہی پورن دیکھنا شروع کیا ہو تو اس کا بھی اثر ہو سکتا ہے۔

’اور اگر آپ اسے عادت ہی نہیں سمجھتے تو اس کو ترک کرنا اور زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر وہ اس قسم کی عمر سے اسے دیکھنے کے عادی ہیں، تو یہ تقریباً آٹومیٹک جیسا لگتا ہے۔‘

برونوین اسے ’واقعی ایک تشویشناک‘ مسئلہ سمجھتی ہیں کیونکہ عوامی جگہیں تو ہر ایک کے لیے ہونی چاہئیں۔

’اہم بات یہ ہے کہ ہر ایک کو عوامی مقامات پر پبلک ٹرانسپورٹ میں آرام دہ اور محفوظ محسوس کرنا چاہیئے، جو ہر وقت نہیں ہوتا۔‘

ڈاکٹر ہال نے مزید کہا: ’خود آگاہی کی کمی کا عنصر اس میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، اور ممکنہ طور پر اس بات سے آگاہ نہ ہونا کہ دوسرے (اس سے) کتنے ناراض ہو سکتے ہیں۔‘

’ایسا لگتا ہے کہ وہ بھول جاتے ہیں کہ دوسرے لوگ شاید اسے ناگوار سمجھتے ہوں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24154 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments