متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ انتقال کر گئے، امارات میں 40 دن کا سوگ


 

شیخ خلیفہ
حالیہ برسوں میں شیخ خلیفہ کا کردار زیادہ تر رسمی دکھائی دیتا تھا

دنیا کے امیر ترین بادشاہوں میں سے ایک متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان 73 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

شیخ خلیفہ 2004 سے متحدہ عرب امارات کے صدر تھے لیکن 2014 میں سٹروک (فالج) کے حملے کے بعد سے ان کا کردار بڑی حد تک رسمی ہی رہا ہے۔

ان کے سوتیلے بھائی محمد بن زید النہیان اب ریاستی امور کے انچارج ہوں گے۔

ایک اندازے کے مطابق النہیان خاندان کے اثاثے 150 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ، شیخ خلیفہ ابوظہبی کے حکمران بھی تھے، جو متحدہ عرب امارات پر مشتمل سات امارات کا تیل سے مالا مال دارالحکومت ہے۔

فالج کا حملہ

شیخ خلیفہ
شیخ خلیفہ فالج کے حملے کے بعد کافی عرصے تک بیمار رہے

24 جنوری 2014 میں شیخ خلیفہ کو فالج کا حملہ ہوا تھا جس سے ان کی صحت کافی متاثر ہوئی تھی۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق شیخ خلیفہ کے سوتیلے بھائی شیخ محمد بن زاید النہیان نے اس وقت کہا تھا کہ شیخ خلیفہ بن زاید النہیان ’ایک مشکل بحران سے گزرے‘ لیکن ’اس پر قابو پا لیا‘ گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ ریاست صدر کی صحت سے متعلق خبروں کو چھپانا نہیں چاہتی تھی۔

شئح خلیفہ پھر کافی عرصہ عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے۔ اگرچہ ان کی مکمل صحت یابی میں بہت وقت لگا لیکن شیخ خلیفہ ساتھ ساتھ ملک کے سربراہ کے بھی فرائض نبھاتے رہے۔

یہ بھی پڑھیئے

دبئی کی ’اونچائی‘ کا راز کیا ہے؟

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے بائیکاٹ کا قانون ختم کر دیا

دبئی کی ’اونچائی‘ کا راز کیا ہے؟

جب سنہ 2015 میں یمن میں حوثی باغیوں کے ایک حملے میں متحدہ عرب امارات کے تقریباً 50 فوجی مارے گئے تو اس وقت شیخ خلیفہ نے ہی جو کہ ابھی بھی اپنی بیماری سے مکمل طور پر صحت مند نہیں ہوئے تھے بطور ملک کے صدر فوجیوں کے خاندان والوں کو تعزیتی پیغامات بھیجے تھے۔

شیخ زید کی موت

شیخ خلیفہ سنہ 2004 میں اپنے والد شیخ زید بن سلطان کی موت کے بعد متحدہ عرب امارات کے صدر بنے تھے۔ شیخ زید نے 1971 میں متحدہ عرب امارات کی فیڈریشن کی بنیاد رکھی تھی۔

شیخ خلیفہ 2009 میں سات امارات جن میں دبئی، ابو ظہبی، شارجہ، عجمان، فجیرہ، ام القوین اور راس الخیمہ بھی شامل ہیں، دوسری مرتبہ پانچ سالہ مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے۔

گزشتہ پچاس سال میں متحدہ عرب امارات کی ترقی پر نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ نہ صرف شیخ خلیفہ نے اپنے والد کی ترقیاتی وژن کو قائم رکھا بلکہ ایک اپنے منفرد قیادت کے سٹائل کو بھی متعارف کرایا۔ متحدہ عرب امارات کے اخبار ’دی نیشنل‘ کے مطابق شیخ خلیفہ نے 1990 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھوں نے اپنے والد سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

’میں ہر روز ان سے کچھ نہ کچھ سیکھتا ہوں، ان کے راستے پر چلتا ہوں اور ان سے ان کی اقدار اور ہر چیز میں صبر اور ہوشیاری کی ضرورت کو جذب کرتا ہوں۔‘

انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ’کھلے دروازے کی پالیسی اور ملک کے شہریوں کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کے عمل کو جاری رکھیں گے، تاکہ میں ان کی ضروریات اور خدشات سے آگاہ ہو سکوں اور ان کا خیال کروں۔‘

یو اے ای میڈیا کے مطابق شیخ خلیفہ سنہ 1948 میں ابو ظہبی سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر واقع شہر العین کے تاریخی المويجعی قلعے میں پیدا ہوئے تھے۔ مٹی سے بنا ہوا العین کی سر سبز وادی میں بنا ہوا یہ تاریخی قلعہ 20 ویں کے فنِ تعمیر کی ایک شاندار مثال ہے۔ اب یہ ایک سیاحتی مقام کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بھی العین کے مقامی سکول میں ہی ہوئی، جو ان کے والد نے بنوایا تھا۔

40 دن کا سوگ

متحدہ عرب امارات کی صدارتی امور کی وزارت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں 40 روزہ سرکاری سوگ منایا جائے گا اور جھنڈے سرنگوں رہیں گے۔ وفاقی اور مقامی سطحوں پر وزارتیں اور سرکاری اداروں اور نجی شعبے میں تین دن کی بندش ہو گی۔

سرکاری خبر رساں ایجنی وام کے مطابق ابوظہبی کے ولی عہد اور مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید نے متحدہ عرب امارات کے صدر کی یاد میں ایک آن لائن پیغام لکھا کہ ’ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔‘

’متحدہ عرب امارات نے اپنے نیک بیٹے، ’امپاورمنٹ اسٹیج‘ کے رہنما۔۔۔ کو کھو دیا ہے۔‘

دنیا کے کئی ممالک کے رہنماؤں نے شیخ خلیفہ کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے، جن میں خلیجی ریاستوں کے علاوہ پاکستان، انڈیا، ترکی، لبنان اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ پاکستان کی فوج کے تعلقات عام کے شعبے آئی ایس پی آر کی ایک ٹویٹ کے مطابق

’پاکستان کی فوج کے سربراہ اور پاک فوج کے تمام افراد متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے افسوسناک انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔‘ ٹویٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’پاکستان نے ایک عظیم دوست کھو دیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی روح کو سکون دے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی طاقت دے، آمین۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24154 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments