بابا امتے: خدمت کا ایک نشان اور اس کا آنند وان
آنند وان، جہاں ہزاروں کوڑھ کے مریضوں کو رکھا جاتا ہے۔ اور ان سے ان کی استطاعت کے مطابق کام بھی لیا جاتا ہے
1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔
مہاراشٹرا ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ہندو اکثریت میں ہیں اور ان کے قدیم شہر بھی اسی علاقے میں واقع ہیں۔ مہاراشٹرا سے متعلق معلومات حاصل کرتے وقت مجھے پتہ چلا کہ بلہار پور کے قریب وارورہ (Warora) نام کا ایک شہر ہے جہاں بھارت کے ایک مشہور سوشل ورکر مرلی دھر دیوی داس المعروف بابا امتے نے 1952 ء میں کوڑھ کے مریضوں اور معذور افراد کے لیے اسی مربع سے زائد زمین پر آنند وان کے نام سے ایک بہت بڑا ادارہ قائم کیا تھا جو اب تک انتہائی کامیابی سے چل رہا ہے۔ بابا امتے کو ان کی خدمات کے باعث کئی نیشنل اور انٹرنیشنل اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ انھیں گاندھی پیس ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔
اس شہر کے بارے میں دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ یہ شہر انگریزوں کے بنائے ہوئے ایک صوبے سنٹرل پروونس کا بھی ایک اہم شہر ہے۔ انگریزوں نے مقامی حکمرانوں سے لڑائی کے بعد جو شہر حاصل کیے، یہ صوبہ ان علاقوں پر مشتمل ہے۔ ان مقامی حکمرانوں میں مراٹھوں اور مغلوں کے علاوہ بھی کئی حکمران شامل تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس علاقے کو وہ فتح کر کے حاصل کرتے تھے اسے وہ برٹش انڈیا کا نام دے کر اس کا کلی نظم و نسق خود سنبھال لیتے تھے۔
تیسری بات یہ کہ ٹاٹا خاندان کے بانی سر جمشید جی ٹاٹا نے 1882 ء میں ایک اسٹیل مل قائم کرنے کے سلسلے میں اس علاقے کا دورہ کیا تھا۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ٹاٹا سٹیل مل کا وجود اسی دورے کا نتیجہ ہے۔ اس علاقے میں لوہارا نام کا ایک قصبہ بھی آباد ہے جس کے نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے یہاں پر لوہے کا کام کرنے والے آباد رہتے تھے۔
یہاں پر ہماری گاڑی کا سٹاپ نہیں تھا لیکن میں نے گزرتے ہوئے اس شہر کو بڑے غور سے دیکھا۔ اس کی وجہ بابا امتے اور اس کا آنند وان تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ جب کوئی عام سی چیز بھی کسی خاص چیز سے نسبت قائم کر لے تو وہ عام چیز بھی خاص ہو جاتی ہے۔ ایک عام سا شہر جس کی آبادی پچاس ہزار سے بھی کم ہے لیکن بابا امتے کے کام کی وجہ سے اب یہ شہر دنیا بھر میں جانا پہنچانا جاتا ہے۔ بابا امتے نے جس طرح خدمت خلق کی اور ایک بہت بڑا پروجیکٹ بنایا وہ ایک انتہائی باہمت اور رہنمائی فراہم کرنے والی داستان ہے۔ میں اس کا ذکر اس لیے کرنا چاہتا ہوں تاکہ خدمت خلق کرنے والوں کو ان سے کچھ سیکھنے کا موقع ملے۔ اس سے پہلے کہ میں بابا امتے اور ان کے پروجیکٹ؛ آنند وان کے بارے میں آپ سے بات کروں، میں اس شہر کی مختصر تاریخ آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔
وارورہ شہر دہلی سے بارہ سو کلومیٹر کے فاصلے پر مہاراشٹرا میں واقع ہیں۔ اس شہر میں نوے فیصد سے زائد ہندو جبکہ چار فیصد مسلمان آباد ہیں۔ یہ شہر ہندوؤں اور مسلمانوں کے مختلف تہواروں کی وجہ سے بے حد مشہور ہے۔ محرم کے مہینے میں یہاں پر محرم کا ایک بہت بڑا جلوس نکالا جاتا ہے جس میں ایک کثیر تعداد میں مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ تاریخی شہر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں پر تاریخی عمارات بھی موجود نہیں ہیں۔ اس علاقے میں ہنگ گھاٹ کے نام سے ایک شہر آباد ہے۔ کئی لوگ ہنگ کے لفظ سے واقف ہوں گے۔ یہ ایک بوٹی کا نام ہے جو عام طور پر حکیم دیسی ادویات بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ ہنگ سے متعلق ایک کہاوت مشہور ہے جو کچھ اس طرح سے ہے۔
نہ ہنگ لگے نہ پھٹکڑی
رنگ چوکھا ہی چوکھا
مجھے معلوم نہیں تھا کہ ہنگ کے نام پر ایک شہر بھی موجود ہے جسے ہنگ گھاٹ کہا جاتا ہے۔ جس کی وجہ اس علاقے میں ہنگ کی کثیر پیداوار ہے۔
بابا امتے کی پیدائش 1914 ء میں ہنگ گھاٹ میں ہوئی۔ بابا امتے کے والد انگریز حکومت میں ایک سرکاری افسر تھے۔ بابا امتے کا بچپن امیر بچوں کی طرح گزرا۔ انھوں نے ایک دفعہ کہا کہ ہمارے خاندان نے عام آدمی اور ہمارے درمیان ایک بہت بڑی دیوار کھڑی کر رکھی ہے جس کی وجہ سے ہمیں عام لوگوں کے مسائل کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ بابا امتے نے وکالت امتحان پاس کر کے اپنے علاقے میں ایک وکیل کی حیثیت سے بے حد شہرت کمائی۔ مہاتما گاندھی کے بھی بہت قریب تھے اور ان کا سیوا گرام بھی بہت آنا جانا تھا۔
وہ گاندھی ازم کے بہت بڑے پیرو کار تھے اور انھوں نے تحریک آزادی ہند میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اسی دوران میں انھوں نے دیکھا کہ کوڑھ کے مریضوں اور معذور لوگوں کی زندگی بہت ہی مشکل سے گزرتی ہے۔ خاص طور پر کوڑھ کے مریض کو تو کوئی اپنے پاس پھٹکنے بھی نہیں دیتا۔ یہ سب دیکھتے ہوئے انھوں نے 1949 ء میں اس علاقے میں ایک ہسپتال بنایا جس میں کوڑھ کے مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ اس کام میں ان کی بیوی بھی ان کے شانہ بشانہ تھی۔ اس طرح کا ہسپتال ایک عام سی بات ہے لیکن ان کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اسی مربع سے زائد زمین لے کر ایک انوکھا پروجیکٹ شروع کیا جس کا نام آنند وان رکھا گیا۔
آنند وان پروجیکٹ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں رہنے والے پانچ ہزار سے زائد کوڑھ کے مریضوں اور معذور افراد سے ان کی استطاعت کے مطابق کام لیا جاتا ہے اور یوں یہاں پر رہنے والے لوگ اپنی ضروریات زندگی کا سامان خود پیدا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں اور کچھ یہاں پر موجود چھوٹے پیمانے کی فیکٹریوں میں بھی کام کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے کیا گیا کہ یہاں رہنے والے زیادہ تر قدرتی طور پر پیدا ہونے والی چیزیں ہی استعمال کریں گے اور ماحول خراب نہیں کریں گے۔ اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ پروجیکٹ خود کفیل ہو گیا اور دوسرا ماحول کی حفاظت بھی قابل تقلید مثال بن گئی۔ بابا امتے نے پورے علاقے سے مریضوں اور معذوروں کو ایک جگہ پر اکٹھا کیا اور فارغ بٹھانے کی بجائے ان سے وہ کام لیا جو وہ کر سکتے تھے۔
بابا امتے 2008ء میں چورانوے سالہ خدمت کی طویل زندگی گزار کر فوت ہو گئے لیکن ان کا لگایا ہوا پودا اب بھی ترو تازہ ہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کا بیٹا اور پوتا آنند وان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ ان کی زندگی بے شمار لوگوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔ ہمنشو ٹھاکر نے انھیں
Baba Amte: The Gandhi after that Gandhi
کا لقب دیا ہے۔ ان پر کئی فلمیں بن چکی ہیں اور دنیا بھر میں انھیں بے شمار اعزازت سے نوازا گیا ہے۔
ان کے کام پر ایک فلم بھی بنائی گئی ہے جس کا نام ہے
Dr. Prakash Baba Amte – The Real Hero
جس میں مرکزی کردار نانا پاٹیکر ایک معروف بھارتی اداکار نے ادا کیا ہے۔
بابا امتے کے خیالات ان کے اپنے الفاظ میں
I don ’t want to be a great leader.
I want to be a man who goes around with a little oil-can and,
whenever he sees a breakdown, offers his help.
To me the mechanic with the oil-can, that is my ideal in life…
بہت ہی خوبصورت بات ہے جو مجھے بھی بے حد پسند ہے۔



