سوال نہیں جواب کا وقت ہے


جمہوری معاشرے کسی بھی حکومت کو کارکردگی اور حسن عمل کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ اس کے بعد فیصلہ لیتے ہیں کہ اس جماعت کا منشور کیا تھا اور اس کے مطابق کارکردگی کیا رہی؟ اپنے منشور کو کس حد تک سنجیدگی سے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی اور کس حد تک کامیاب رہی؟

یہ طرز عمل اور کارکردگی کی کسوٹی پہ پرکھنے کا رویہ ہی سیاستدان اور سیاسی جماعتوں کے احتساب کا بہترین اصول اور ضابطہ ہے۔ اچھی کارکردگی والے عوام میں اپنے حسن کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے پر امید ہوتے ہیں اور بری کارکردگی والوں کو پہلے سے ہی علم ہوتا ہے کہ اس بار عوام کا سامنا کرنے کے لیے کارکردگی کے ضمن میں کچھ ایسا نہیں جو بتایا جا سکے۔ لہٰذا وہ اپنی کوتاہیوں اور خامیوں کو بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ عوامی حمایت حاصل کر سکیں۔

پاکستان تحریک انصاف کو 2018 میں مرکز میں پہلی اور خیبر پختونخوا میں دوسری بار حکومت کا موقع ملا۔ عمران خان صاحب کرپشن کے خلاف اور ریاست مدینہ کی طرز پر ایک فلاحی ریاست بنانے کے نعرے کے ساتھ اقتدار کے ایوان میں داخل ہوئے۔ لگ بھگ پونے چار سال کے اقتدار کے بعد عدم اعتماد کے ذریعے فارغ ہوئے۔

کرپشن کے خاتمے اور فلاحی ریاست کے قیام کے لیے آنے والے کے دور میں ایک ٹرانسفر پوسٹنگ پر مبینہ طور پر تین اور چار کروڑ روپے وصول کیے گئے۔ ڈالر 105 سے 190 روپے تک جا پہنچا۔ اشیائے ضرورت، گندم، چینی، آٹا اور پٹرول کی مصنوعی قلت اور بحران پیدا کر کے ہزارہا ارب روپے غریب عوام کی جیبوں سے نچوڑ لیے گئے۔ بدامنی اور دہشت گردی دوبارہ شروع ہو گئی۔ ریلوے، پی آئی اے اور محکمہ صحت، تاریخ کی بدترین بدانتظامی کی نذر ہو گئے۔

فارن فنڈنگ سب سے خطرناک ترین معاملہ ہے جس کا براہ راست تعلق ملکی سلامتی سے ہے۔ پچیس ہزار ارب کا قرض لیا گیا اور معیشت آئی ایم ایف کے حوالے کر دی گئی۔ اتنی بری کارکردگی کے باوجود عمران خان صاحب اور ان کی ٹیم مسلسل سوال پوچھ رہے ہیں؟ ان کو کیوں نکالا، عدالتیں کیوں کھلیں؟ سازش ہو گئی وغیرہ وغیرہ۔ خان صاحب سوال کا نہیں اب جواب کا وقت ہے اور عوام پوچھتے ہیں

یہ گھڑی محشر کی ہے، تو حالت محشر میں ہے
پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے؟

عمران خان صاحب 2011 سے پہلے فوج کی سیاسی مداخلت کو سارے مسائل کی ماں سمجھتے تھے اور فوج کے سیاسی کردار کے سب سے بڑے نقاد بھی۔ پھر ان کو سیاست اور اہل سیاست کو بدنام کرنے کے لیے منتخب کر لیا گیا اور مابعد ان کا ٹیپ ریکارڈر یہی راگ الاپنے پر مامور رہا۔

اس پیغام کو گھر گھر پھیلانے میں الیکٹرانک میڈیا میں موجود سہولت کاروں نے بھی وہی کام کیا جو تحریک انصاف اور عمران خان کر رہے تھے۔ تحریک انصاف، الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز اور چند نام نہاد صحافی اور تجزیہ کار 2011 سے مسلسل سات سال صرف دو کام کرتے رہے۔ ایک پہلے سے موجود سیاسی جماعتوں کو من گھڑت پروپیگنڈا مہم کے ذریعے بدنام کرنا اور دوسرا عمران خان اور اس کی جماعت کو مسیحا دکھانا۔ یہ مسلسل بتایا جاتا رہا کہ عمران خان صاحب اور اس کی جماعت صاف اور شفاف ہے اور غیر مرئی قوتوں کی حامل ہے جس کے پاس پاکستان کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ اقتدار ملنے کے بعد نا اہلی، کرپشن، بدانتظامی اور ہٹ دھرمی ایک پیج کو کھا گئی اور خان صاحب بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے کے مصداق رخصت ہوئے۔

اس کے بعد آج تک ساری لعنت ملامت عمران خان اور اس کی پارٹی کی ہو رہی ہے اور ساری بربادی کا ان کو اکیلا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے یہ بات مناسب نہیں ہے میڈیا ہاؤسز اور نام نہاد صحافیوں کے کالے کردار بھی بے نقاب ہونے چاہئیں جنہوں نے قوم کی بربادی میں برابر کا حصہ ڈالا۔ آج میڈیا ہاؤسز اور ان صحافیوں کا ذکر بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا عمران خان اور تحریک انصاف کا۔

اے آر وائی گروپ اور اس کے مالکان نے اس سارے معاملے میں جو کردار ادا کیا ہے وہ ابلاغ اور صحافت کا ایک سیاہ ترین باب ہے۔ کس طرح سیاست کو بدنام اور اہل سیاست کی کردار کشی کی مذموم ترین مہم چلائی گئی جو ہنوز جاری ہے۔ اگر یہ مہم آج بھی جاری ہے تو اس میں حکومت وقت کا قانونی کارروائی سے گریز اور آزادی صحافت کے علمبرداروں کی حمایت بھی سوالیہ نشان ہے؟ اور ہر دو طبقات برابر کے ذمہ دار ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جمہوریت کی نامکمل اور کمزور بحالی کے بعد بجائے اس کے کہ حکومت وقت کوئی کارروائی کرتی، طاقتور میڈیا اور آزادیٔ صحافت کے علمبردار خود اپنی صفوں میں موجود ان کالی بھیڑوں کو نکال باہر کرتے؟ اس میڈیا گروپ اور اس میں موجود کالی بھیڑوں کو خود بے نقاب کرتے؟ کیا جمہوریت کی بحالی صرف اہل سیاست کی ذمہ داری ہے؟ کیا نظام کی بحالی اور مضبوطی کا فائدہ ان آزادی صحافت کے علمبرداروں کو نہیں ہو گا جو اے آر وائی گروپ جیسے میڈیا ہاؤسز اور زرد صحافیوں کے خلاف کارروائی کی راہ میں دیوار بنے ہوئے ہیں؟ کیا نظام کی بحالی میں پاکستان کے عوام کا کوئی فائدہ ہے؟ اگر پاکستان کے عوام کا براہ راست فائدہ ہے تو کیا ان کو اس طرح کے میڈیا ہاؤس اور نام نہاد صحافیوں کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے؟

لمحہ موجود اہل صحافت، ابلاغ اور سول سوسائٹی سے متعلق لوگوں کو یہی نوید سنا ہے کہ اب سوال اٹھانے کا نہیں جواب دینے کا وقت ہے۔ آج کے دور میں جمہوریت ہی وہ واحد نظام ہے جو کمزور کی آواز اور مظلوم کی امید ہے۔ ہر ذی شعور پاکستانی کو اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اس نظام کے استحکام میں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ فیض صاحب یاد آ گئے

بیٹھے رہو اس شمع کو حلقہ کیے یارو
کچھ روشنی باقی ہے ہر چند کہ کم ہے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد سجاد آہیر

محمد سجاد آ ہیر تعلیم، تدریس اور تحقیق کے شعبے سے ہیں۔ سوچنے، اور سوال کرنے کا عارضہ لاحق ہے۔ بیماری پرانی مرض لاعلاج اور پرہیز سے بیزاری ہے۔ غلام قوموں کی آزادیوں کے خواب دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔

muhammad-sajjad-aheer has 33 posts and counting.See all posts by muhammad-sajjad-aheer

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments