میثاق جمہوریت: کیا پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی میں 16 برس قبل ہوا معاہدہ فوج کو مستقل غیر جانبدار رکھ سکتا ہے؟

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


اس وقت پاکستان میں برسرِ اقتدار دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے 16 سال قبل میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ سیاست اور اقتدار میں فوجی مداخلت نہیں ہو گی۔ تو سوال یہ ہے کیا دونوں جماعتیں اب اس کو عملی شکل دیں گی اور فوج کی غیر جانبداری مستقل رہے گی؟

یاد رہے کہ اپریل میں پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی کے وقت پاکستانی فوج کی جانب سے یہ کہا گیا کہ وہ اس سیاسی تبدیلی میں غیر جانبدار ہیں۔

میثاق جمہوریت کیا تھا؟

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو اور مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف ایک طویل سیاسی رقابت کے بعد 15 مئی سنہ 2006 کو ایک صفحے پر اکٹھے ہوئے تھے، جس کو میثاق جمہوریت کا نام دیا گیا۔

اس وقت پاکستان میں میاں نواز شریف کی حکومت کی معطلی اور جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کو تقریبا سات سال گزر چکے تھے۔

ماضی کی حریف جماعتیں پہلے مرحلے میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت میں قریب آئیں جس کے بعد انھوں نے اس میثاق پر دستخط کیے۔

ان دنوں جنرل پرویز مشرف نے بعض ایسی آئینی ترامیم متعارف کرائیں جس سے وزیراعظم کے اختیارات محدود ہوئے اور مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو سیاست سے باہر رکھا گیا جس میں تیسری بار وزیر اعظم بننے پر پابندی بھی شامل تھی۔

میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے والے مسلم لیگ نون کے رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق گورنر اقبال ظفر جھگڑا کہتے ہیں کہ یہ دو جماعتیں نہیں بلکہ 17 جماعتیں تھیں۔ اس وقت اے آر ڈی موجود تھی اور ان جماعتوں کی موجودگی میں یہ سب کچھ ہوا تھا اور لندن میں ایک کل جماعتی کانفرنس ہوئی تھی جس کی منظوری کے بعد اس معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (لمز) کے استاد اور مصنف پروفیسر محمد وسیم کہتے ہیں کہ چارٹر آف ڈیموکریسی ایک پہلا لبرل پروگرام تھا جو سیاسی جماعتوں کے درمیان طے پایا تھا۔ اس میں خاص طور پر وہ دو بڑی جماعتیں شامل تھیں جو گزشتہ 20 برس سے ایک دوسرے کے خلاف حالت جنگ میں تھیں۔ اس میں یہ اتفاق ہوا کہ آئینی فریم ورک کیا ہونا چاہیے۔

میثاق جموریت اور سویلین بالادستی

چارٹر آف ڈیموکریسی میں 1973 کے آئین کو 10 اکتوبر 1999 کی شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا، صوبائی خود مختاری کے علاوہ فوجی اداروں کے وسائل اور ان کے کردار پر سویلین بالادستی قائم کرنے پر زور دیا گیا۔

دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ وہ کسی فوجی حکومت میں شامل ہوں گی اور نہ ہی حکومت میں آنے اور منتخب حکومت کے خاتمے کے لیے فوج کی حمایت طلب کریں گی۔

ملک کے دفاعی بجٹ کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی گئی اور یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ڈیفنس کیبنٹ کمیٹی کی سربراہی وزیراعظم کے پاس ہونی چاہیے۔

ایک ایسا کمیشن بنانے کی سفارش کی گئی جو سنہ 1996 کے بعد جمہوری حکومتوں کو ہٹانے اور کارگل جیسے واقعات کی تحقیقات کرے اور اس سے متعلق ذمہ داری کا تعین کرے۔

آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور تمام دیگر خفیہ ایجنسیوں کو منتخب حکومت کے ماتحت بنانے اور تمام خفیہ اداروں کے سیاسی شعبے ختم کرنے کی سفارش کی گئی۔

فوج اور عدلیہ کے تمام افسروں کو ارکانِ پارلیمنٹ کی طرح اپنی جائداد اور آمدنی کے سالانہ گوشوارے جمع کرانے کا پابند بنانے اور ایک ایسی کمیٹی بنانے کی سفارش کی گئی جو فوج اور خفیہ اداروں میں وسائل کے ضیاع کو روکنے کے بارے میں سفارشات مرتب کرے۔

ملٹری لینڈ اور کنٹونمینٹ کو وزارتِ دفاع کے تحت کرنے اور ایک ایسا کمیشن بنانے کی سفارش کی گئی جو 12 اکتوبر سنہ 1999 کے بعد فوج کو الاٹ کی گئی زمینوں کے کیسوں کا جائزہ لے۔

میثاق جمہوریت کی خلاف ورزیاں

مثیاق جمہوریت کی خلاف ورزیوں پر دونوں جماعتیں ماضی میں ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھاتی رہی ہیں جس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب جنرل پرویز مشرف نے قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈولپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی کے صدر احمد بلال محبوب بتاتے ہیں کہ مسلم لیگ نون کو اعتراض تھا کہ پیپلز پارٹی نے جنرل مشرف سے بات کیوں کی۔ احمد بلال محبوب بینظیر بھٹو کی بات کو جائز سمجھتے ہیں کیونکہ بات کیے بغیر چیزیں آگے بڑھ نہیں سکتیں تھیں۔

’اسی طرح مسلم لیگ نون نے بھی خلاف ورزی کی جب میمو گیٹ کا معاملہ آیا تو انھوں نے عدالت میں جا کر گواہی دی۔ اس سے بظاہر ایسے لگتا تھا جیسے وہ فوج کے سیاسی کردار کو کسی حد تک سپورٹ کر رہے تھے۔ دونوں سے چھوٹی موٹی غلطیاں ہوئیں۔ انھوں نے فوج سے 100 فیصد کنارہ کشی اختیار نہیں کی جو انھیں کرنی چاہیے تھی۔‘

ظفر اقبال جھگڑا کہتے ہیں کہ کچھ کوتاہیاں بھی ہوئیں لیکن سیاست میں یہ ہوتا ہے۔ آج بھی اس دستاویز کی اہمیت ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ پیشرفت ہو رہی ہے۔

میثاق جمہوریت پر 70 فیصد عمل درآمد

پاکستان پیپلز پارٹی نے سنہ 2008 میں اقتدار سنبھالا۔ جس کے بعد سنہ 2013 میں مسلم لیگ نون کی حکومت بنی۔ دونوں جماعتوں میں بعض معاملات پر اختلافات کے باوجود ماضی کے مقابلے میں تعلقات بہتر رہے اور سب سے زیادہ پیشرفت صوبائی خود مختیاری سے متعلق ہوئی جب اٹھارہویں آئینی ترمیم کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔

سینیٹ کے سابق چیئرمین، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے والے رضا ربانی کہتے ہیں کہ اس معاہدے پر 70 فیصد عمل ہوا جو اس کی روح کے مطابق تھا اس کے علاوہ اس نے ایک سیاسی روادری کو جنم دیا جو ابھی تک جاری ہے۔

پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب بھی رضا ربانی سے اتفاق کرتے ہیں کہ معاہدے پر 70 فیصد عملدرآمد ہوا، جن میں اٹھارہویں آئینی ترمیم، نگران حکومت و چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سر فہرست ہیں۔

محمد وسیم کہتے ہیں کہ اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کے اختیارات جو آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت صدر کے پاس تھے وہ لے لیے گئے، فوج کے سربراہ کو تعینات کرنے کا مینڈیٹ بھی وزیراعظم کے پاس آیا لیکن اس میں ابھی بھی ایک تکنیکی معاملہ ہے کہ فوج تین نام بھیجتی ہے اور ان تینوں میں سے ہی وزیراعظم نے انتخاب کرنا ہے حالانکہ استحقاق چیف ایگزیکٹو کا ہے لیکن اثر و رسوخ فوج کا ہی رہتا ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ میثاق جمہوریت کی کامیابی اس قدر ہے کہ انھوں نے خود عمران خان سے بھی اس کی تعریف سنی اور وہ بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں میں ایک میثاق ہوا۔ یہ جمہوریت کے لیے ایک اچھا شگون ہے اس کو مزید مضبوط ہونا چاہیے۔

فوج کے متعلق ایک شق پر عملدرآمد

جرمن ادارے فریڈرک ایبرٹ سٹفٹنگ کے لیے نذیر مہر، طارق ملک اور اسامہ بختیار نے ایک تحقیق کی ہے جس میں میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا ہے۔

’میثاق جمہوریت اور اس سے آگے‘ کے عنوان سے اس رپورٹ کے مطابق میثاق جمہوریت میں فوج سے متعلق 15 آرٹیکلز میں سے صرف ایک آرٹیکل تین سروسز چیفس کی تقرری کے متعلق ہے۔ باقی شقوں میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کو مؤثر بنانے میں صرف جزوی کامیابی ملی۔ مشترکہ کمانڈ کا ڈھانچہ مضبوط نہیں ہو سکا کیونکہ اس کی قیادت صرف فوج کے پاس ہے۔ اگرچہ یہ تینوں سروسز کے درمیان گردشی بنیادوں پر منتقل ہوتے رہنا چاہیے تھی جیسا کہ میثاق جمہوریت کے تحت تصور کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باقی شقیں جن میں خاص طور پر دفاعی بجٹ، سچائی اور مصحالتی کمیشن کے قیام، مسلح افواج کا احتساب، انٹلیجنس ایجنسیوں پر سویلین کنٹرول، کشمیر کے حل سے متعلق پالسیوں اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی بہت کم پیشرفت ہوئی۔

آئینی عدالت کا قیام

میثاقِ جمہوریت کی ایک اہم شق آئینی عدالت کا قیام بھی تھا تاہم اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

میثاق جمہوریت کے گواہ اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے مرکزی کردار رضا ربانی کہتے ہیں کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے وقت یہ جائزہ لیا گیا تھا کہ آئینی عدالت کی کتنی افادیت ہو گی۔

’اس وقت سیاسی جماعتوں کا جو تجزیہ سامنے آیا تھا کہ آئینی عدالت کے پاس ہو سکتا ہے اتنا کام نہ ہو اور ایک متبادل عدالتی ڈھانچہ لا کر کھڑا کر دیں اور پتہ چلے کے اکا دکا مقدمات ہی ریفر ہو رہے ہیں۔‘

’اگر آپ آج کے حالات دیکھیں تو آئینی عدالت کے پاس جتنا بزنس ہو گا شاید کسی اور عدالت کے پاس نہ ہو۔‘

یہ بھی پڑھیے

لندن: میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات میں کیا بات ہوئی؟

میثاقِ جمہوریت سے میراثِ جمہوریت تک!

پاکستان کا شمار جمہوریت کی جگہ ’ہائبرڈ نظام‘ والے ممالک میں کیوں؟

نواز شریف اور بینظیر بھٹو

کیا فوج کی غیر جانبداری مستقل ہے؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے لندن میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کی جس میں میثاق جمہوریت پر عملدرآمد پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کے بعد سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا دونوں جماعتیں سویلین بالادستی کے موقف پر قائم ہیں۔

پاکستانی فوج نے حالیہ تبدیلی کے تناظر میں عندیہ دیا کہ وہ غیر جانبدار ہیں۔ جب سابق وزیراعظم عمران خان نے بالواسط فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا تو فوج کی جانب سے یہ کہا گیا کہ اداروں کو سیاست میں گھسیٹا نہ جائے۔ کیا فوج واقعی مستقل غیر جانبدار ہو گئی ہے؟

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈولپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی کے صدر احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ ’یہ شک تو ہوتا ہے کہ ایسا نہیں لیکن اس وقت اس بات پر اتفاق ہے کہ فوج نے کسی کی سائیڈ نہیں لی لیکن ظاہر ہے کہ فوج کے غیر جانبدار ہونے کا فائدہ مسلم لیگ نون، پی پی پی اور ان کے اتحادیوں کو ہوا۔‘

’یہ غیر جانبداری اصولی طور پر کوئی غلط بات نہیں تھی اگر اتفاق رائے فوج کے غیر جانبداری پر ہے تو وہ تو چارٹر آف ڈیمو کریسی کے عین مطابق ہے۔‘

رضا ربانی کہتے ہیں کہ اگر کہا بھی جائے کہ وقتی طور پر نیوٹرل ہوئے ہیں تو اس کو مستقل بنانے کے لیے اور تمام اداروں کو اس بات پر تیار کرنے کے لیے کہ آئین میں ان کو جو دیے گئے اختیارات ہیں ان کے اندر رہتے ہوئے اپنا کام کریں اور اس کے علاوہ آئین میں جو چیک اینڈ بیلنس دیا گیا اس پر عملدرآمد کروائیں تو بھی اس میں بہت گنجائش ہے۔

’یہ ایک محنت طلب ٹاسک ہے اس میں تمام سیاسی جماعتیں یکساں ہو کر اس تعلق کو آگے بڑھائیں تاکہ تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔ اگر ابتدائی طور پر ہم اس پر اتفاق کر لیں کے ہر ادارہ اپنی حددو کے اندر کام کرے گا تو بات بہت آگے تک جا سکتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جو سیاسی صورتحال میں پیشرفت ہو رہی ہے میں سمجھتا ہوں کہ اب یہ بات مزید لازم ہوتی جا رہی ہے کہ ادارے اپنا اپنا کردار ادا کریں اور سیاست و پارلیمینٹ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔‘

میثاق جمہوریت کے گواہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما ظفر اقبال جھگڑا کہتے ہیں کہ ’سول ملٹری تعلقات میں توازن ہونا چاہیے۔ یہ اس ملک کی سالمیت کے لیے بہت ضروری ہے اور اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔‘

’پہلے والی صورتحال کافی موافق ہو گئی تھی جس میں میثاق جمہوریت پر دستخط بھی ہوئے اور عمل بھی ہوا۔ اس وقت حالات بالکل مشکل ہیں لیکن حتمی طور پر تمام جماعتوں کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ اگر ہم نے اس ملک میں جمہوریت کو فروغ دینا ہے تو پھر جمہوریت کے عظیم تر مفاد میں مل کر فیصلے کرنے پڑیں گے۔‘

لمز کے پروفیسر محمد وسیم کہتے ہیں کہ ’یہ دونوں جماعتیں (مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی) جب حکومت میں ہوتی ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کو پرے رکھنا چاہتی ہیں اور جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو اس کی حمایت لینا چاہتی ہیں۔ یہ ایک بدقسمتی اور حقیقت ہے۔‘

’ایک سسٹم کے تحت کام کر رہے ہیں اس نظام کے دروازے کچھ لوگوں کے لیے بند ہوتے ہیں اور کچھ کے لیے کھل جاتے ہیں۔ تو یہ گیم تو ابھی چل رہا ہے اور مزید چلے گا کیونکہ نظام میں وہ تبدیلی نہیں آئی ہے جس کی ضرورت ہے۔‘

محمد وسیم کہتے ہیں کہ دو مکتب فکر ہیں ایک پرانا اور ایک نیا۔ ایک تھا ایوب اور یحیٰ خان کا تھا جس کے مطابق فوج ایک اونچی سطح کا غیر متنازع ادارہ ہے اور رہنا چاہیے۔

’اس کا مطلب یہ ہے کہ فوج کا سویلین شعبے میں آ کر کام کرنا کم از کم رکھا جائے تاکہ جب بھی ملک میں کوئی بحرانی صورتحال ہو یا عوام باہر آ جائیں تو فوج کا ایک نجات دہندہ کا کردار ہو۔ ایوب خان کے زمانے میں تو یہ بن گیا تھا کہ ہمیں اپنے ہاتھ نہیں خراب کرنے اور اپنا امیج خراب نہیں کرانا ہے۔‘

’جنرل ضیاالحق کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی۔ فوج سیاست میں اتر گئی اور نظریاتی اور معاشی طور پر بھی آگے آئی۔ پرویز مشرف کے زمانے سے تو اس کے لیے ان دو مکتب فکر کا چکر نہیں۔ اب یہ ہے کہ ہمارے مفادات تو ہیں جو معاشی، سیاسی و نظریاتی کردار ہے وہ تو ہے ہی دوسری جانب خود کو غیر متنازع بھی بنائیں۔ اب ان کے خیال میں ان کا کردار بہت زیادہ متنازع ہو چکا ہے اس لیے وہ غیر جانبدار ہونے کا تاثر دے رہے ہیں۔‘

میثاق میں وسعت اور مزید جماعتوں کی شمولیت

میثاق جمہوریت کے گواہ رضا ربانی، بلاول بھٹو اور میاں نواز شریف کی ملاقات کے بعد پر امید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں اور رہنماؤں نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ چارٹر آف ڈیمو کریسی کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ اس میں دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلم لیگ نون کے رہنما ظفر اقبال جھگڑا کہتے ہیں انھیں یقین اور اعتماد ہے کہ میثاق جمہوریت پر عمل درآمد ہو گا۔ اس میں پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں لیکن یہ ہو جائے گا۔

جبکہ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جب میثاق جمہوریت ہوا تھا اس وقت مارشل لا تھا۔ اس وقت جمہوری دور حکومت ہے اور وہی جماعتیں برسر اقتدار ہیں جنھوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کیا تھا۔ اب ان کو چاہیے کہ جو باقی شقیں ہیں ان پر بھی عمل درآمد کریں اور اس میثاق میں مزید جماعتوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24154 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments