ازل اک تیرگی ہے


نہ جانے مجھے یہ شوق کب سے تھا۔ شاید ہمیشہ سے ہی تھا۔ پتہ نہیں؟ ابا جان کی سرکاری نوکریوں کے نتیجے میں ہونے والی آئے روز کے تبادلوں نے ہی غالباً میرے اندر کے متجسس سیاح کو جنم دیا تھا۔ پتہ نہیں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ ہماری فیملی اکثر شہر شہر نگر نگر گھومتی رہتی، کبھی کبھار تو ہمیں وطن عزیز کے ایسے دور دراز کے پسماندہ اور گمشدہ علاقوں میں بھی رہائش اختیار کرنا پڑی ہے جن کا کسی نے نام تک نہ سن رکھا ہو گا۔ اس حوالے سے میرا بچپن بہت دلچسپ گزرا۔ ہر وقت سفر، ہر وقت ہل چل، نئے نئے تجربے نئی دریافتیں۔

بڑا ہوا تو میرا یہ شوق مزید مستحکم ہو گیا۔ میں نے سکول و کالج کے زمانے سے ہی اپنے یار دوستوں کے ہمراہ کئی معر کے مارے، سیر سپاٹے کیے اور قسم قسم کے ٹرپ لگائے۔ کبھی ہم جہلم کے تاریخی علاقے میں واقعہ قدیم صوفیوں، سنتوں، دانشوروں کے پسندیدہ گڑھ ٹلہ جوگیاں جا پہنچتے، تو کبھی ساتویں صدی میں قائم شدہ راج کٹاس کے مندر میں گھس کر مدھر آوازوں والی گھنٹیاں بجانے کا شوق پورا کرنے کو بوڑھی پہاڑیوں پر چڑھ جاتے۔ کئی بار ہم نے تھر کے صحراؤں کی ٹھنڈی راتوں اور تیز گرم بگولوں کے ستائے ہوئے دنوں میں ریت بھی پھانکی۔ ایک دو بار بلند و بالا پہاڑی شہر سکردو بلتستان بھی گئے، جہاں دریائے سندھ کے کنارے پیلے پیلے سونے کے ذرات سمیٹتے لوگ جھگیاں لگائے بیٹھے دیکھے تو حیرت سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

نئی نئی باتوں کا علم ہوا۔ ہمیں کب خبر تھی کہ ہمارے دریا بھی اپنے اندر ایسی قدرتی دولت صدیوں سے چھپائے بیٹھے ہیں۔

ایسا تو میں نے صرف انگریزی فلموں میں دیکھ رکھا تھا۔ مجھے خبر نہ تھی کہ سندھ بھی سونا اگلتا ہے۔

جیالوجی (ارضیات) میں ماسٹرز کرنے کے بعد میں نے پاکستان سے باہر جا کر اعلی تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو اچھے گریڈز کی بنا پر امریکہ کی ایک بہت بڑی اور معیاری یونیورسٹی میں بآسانی داخلہ مل گیا۔ Penn State یونیورسٹی میں جیالوجی اور اینتھروپولوجی Anthropology کے مضمون میں بہت اچھے کورسز آفر ہو رہے تھے اور پی ایچ ڈی کرنا میرا مقصد تھا سو میں بھی مکمل تیاری سے وہاں جا پہنچا۔ پاکستانی یونیورسٹیوں کی نسبت امریکہ کی درسگاہوں کا ماحول اور طرز تعلیم بہت مختلف ہوتا ہے۔ مجھے بہت سے ممالک سے آئے ہوئے طالبعلموں سے ملنے کا اتفاق ہو۔ ان کے ساتھ وقت گزرا تو ذہن کے بہت سے دروازے کھلتے چلے گئے اور خوب سیکھنے کا موقع ملا۔ اتنی اچھی یونیورسٹی میں داخل ہونا میری خوش قسمتی تھی۔ یوں تو پورے کا پورا امریکہ ہی بہت خوبصورت اور دلچسپ ملک ہے مگر جہاں میں تھا یعنی ریاست پینسلوینیا اس کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے اندر بہت سے خزانے چھپائے ہوئے ہے۔ اس کا چپہ چپہ تاریخ اور ماضی کی داستانوں سے اٹا پڑا ہے۔ یہی وہ ریاست ہے جہاں اول اول یورپ سے تارکین آئے اور نئی بستیاں آباد کیں۔ بلکہ پہلے سے آباد کو برباد کیا، کہنا زیادہ بہتر بات ہوگی۔

گوری اقوام کی آمد سے پہلے یہاں قومی یعنیNative انڈین قبائل صدیوں سے آباد اور رہائش پذیر تھے۔ گوروں نے دھیرے دھیرے ان کی زمینیں، جاگیریں، اختیارات چھین کر انہیں بے بس کر دیا تو وہ سفید فام حکمرانوں اور تہذیب کے غلام بننے پر مجبور ہو گئے۔ گوری اقوام نے ہمیشہ ہی دنیا بھر میں اسی طرح اپنا تسلط جمایا اور حکمرانی کی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ میں بسنے والے انڈینز کی آج کافی حد تک شناخت غائب ہو چکی ہے اور وہ اپنے ہی ملک میں حاکم سے محکوم ہوتے چلے گئے ہیں۔

یوں تو سبھی کلاس فیلوز سے میری اچھی خاصی دوستی ہو گئی تھی مگر امریکن نژاد انڈین لڑکی گیتا سے میں زیادہ قربت اور اپنائیت محسوس کرتا تھا۔ ہم دونوں اکثر اکٹھے گھومتے، پھرتے، کھاتے، پیتے اور اپنے ملکوں اور تہذیبوں کے سانجھے مسائل کی باتیں کرتے نہ تھکتے۔ ویک اینڈ پر انڈین فلمیں دیکھنا بھی ہمارے معمولات میں شامل تھا۔ ایک اور لڑکی جس سے ہماری اچھی دوستی ہوئی خوش مزاج، ہنس مکھ اور فرینڈلی طبیعت کی تھی۔ سانولی سی تیکھے نقوش اور سیاہ بالوں والی آیانہ بھی اکثر ہمارے ساتھ ہی چپکی رہتی۔ شاید یہ ایک قدرتی بات ہے کہ انسان کی اپنی سی رنگت اور ہیئت والے شخص سے زیادہ آسانی سے دوستی ہوجاتی ہے سو ہم تینوں کی ہوئی۔

 ” تم بھی انڈین ہونا؟“ ایک روز گیتا نے اس سے سوال کیا تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی

 ”ہاں ہوں تو سہی مگر تمہاری جیسی نہیں، میں امریکہ انڈین ہوں“

 ”اچھا تمہارا نام کتنا خوبصورت ہے اس کا مطلب کیا ہے؟“ میں نے آیانہ سے پوچھا

یہ ایک پرانا انڈین نام ہے۔ میری دادی کی دادی کا بھی یہی نام تھا۔ اس کا مطلب ہے ”سدا کھلے رہنے والا پھول“ آیانہ ایک پھول کی طرح جھول کے بولی تو سچ مچ ایک دیوانی سی مہک سے فضا معطر ہو گئی۔ ”ویسے لگدی لاہور دی اے“ میں نے مذاقاً کہا تو گیتا ہنس دی اور مجھے آیا نہ کو انگریزی نے بتانا پڑا کہ میں نے اسے کیا ریمارک دیا ہے۔ آیانہ جلدی جلدی کوک کے گھونٹ لیتے ہوئے بولی۔

 ”دراصل ہماری تمہاری اور براؤن لوگوں کی نسل ایک ہی تو ہے۔ ہماری جینیاتی ساخت بھی ایک جیسی ہے“

 ”وہ کیسے؟“ میں نے حیران ہو کر پوچھا ”یہ تو نیا انکشاف کر ڈالا تم نے“

Pangea؟ پڑھا تو ہو گا اس کے بارے میں تم نے”

 ” ہاں پڑھا تھا مگر پھر سے تو ذرا یاد دلانا۔“

میں نے آنکھیں بند کر کے مذاقاً کہا

 ”نالائق! یاد نہیں۔ پچھلی ہی بار ہم نے پڑھا تھا کہ کروڑوں سال قبل Pangea ایک سپر براعظم ہوا کرتا تھا۔ پھر تہ زمین تبدیلیاں آئیں۔ اس وقت دنیا کی یہ ساخت اور ترتیب تھوڑا تھی جو آج ہے۔ پھر نہ جانے کیا ہوا دنیا کے زمینی ٹکڑے قدرتی عمل کے نتیجے میں کٹتے پھٹتے، سرکتے بس ایک دوسرے سے دور کھسک گئے۔ بیچ میں پانی کی حد بندیاں قائم ہو گئیں۔ دھرتی بکھر کر ٹکڑوں میں بٹ گئی۔“ گیتا نے میرا بھولا ہوا لیکچر مجھے یاد دلایا۔

 ” شاید بگ بینگ کے وقت ہی ایسا ہوا ہو گا۔ پتہ نہیں! میں نے کہا۔

 ” ہم اور آپ دراصل ایک ہی جغرافیائی قربت کے رہنے والے لوگ تھے۔ ہمارے موسم، ہماری زمین، مزاج، کیفیات، ایک سی تھیں۔ ہم دیکھنے میں بھی کافی ایک سے لگتے تھے اور اب تک ہیں۔ وہی براؤن جلد، کالے بال وغیرہ وغیرہ۔“ آیانہ کہنے لگی تو میں بھی قائل ہوتا چلا گیا۔

 ”ہائے کتنا مزہ آئے اگر ایک روز ساری زمین دوبارہ ویسے ہی جڑ جائے جیسے کہ پہلے تھی۔ سمندر بیچ سے غائب ہو جائیں۔ ہم امریکہ میں کھڑے ہو کر دوسرا قدم بڑھائیں تو میرے اپنے وطن پاکستان جا پہنچیں۔ میں نے ہنس کر کہا۔

بالکل جیسے Jigsaw پزل کے ٹکڑے آپس میں دوبارہ جڑ کر ایک نئی اور مکمل شکل بناتے ہیں۔ ہیں نا۔ مزہ تو بڑا آئے۔ ”آیانہ نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا۔

 ”بہرحال ہم اور تم قریبی رشتہ دار نکل آئے ہیں فی الحال تو یہی بہت دلچسپ بات ہے۔“ گیتا نے بھی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments