پی ٹی ایم: مستقبل کے چیلنجز
کیا منظور پشتین کی کرشماتی شخصیت سوالیہ نشان بن چکی ہے؟ اگر ہاں تو کیوں؟ کیا پی ٹی ایم کی کشتی بھنور میں پھنس چکی ہے؟ اگر ہاں تو کیوں؟
پی ٹی ایم ایسے وقت میں بنی جب پشتون وطن دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا (اور ہے)۔ مزاحمتی بیانیے نے بالخصوص نوجوانوں کو (سوشل میڈیا کے بڑے پیمانے پر استعمال کے ذریعے) جلد ہی PTM کو پشتون اکثریتی علاقوں میں ایک بڑی سیاسی اور سماجی تحریک بنا دیا۔ پی ٹی ایم کی ریاستی پالیسیوں کے خلاف اس کے مزاحمتی نقطہ نظر اور پشتونوں کو من حیثیت القوم دہشت گردی سے تباہ حال قوم کے طور پر پیش کر کے عالمی برادری کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بائیں بازو اور ترقی پسند قوتوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا۔
پشتون تحفظ تحریک نے ابتدا سے ہی غیر پارلیمانی سیاست پر توجہ مرکوز کی کیونکہ اس کے حامی اور رہنما مرکز سے مقامی سطح تک مختلف سیاسی جماعتوں جیسے کہ اے این پی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پر مشتمل تھی۔ جلد ہی پالیسیوں پر اختلاف کی وجہ سے اختلافات سامنے آئے اور بہت سے رہنماؤں نے پی ٹی ایم سے علیحدگی اختیار کرلی جس میں محسن داوڑ، افراسیاب خٹک، بشریٰ گوہر، گلالئی اسماعیل، لطیف آفریدی وغیرہ جیسے لوگ جو کہ پارلیمانی سیاست کے حامی تھے اور انہوں نے اپنی پارٹی این ڈی ایم (نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ) کے نام سے بنائی۔
پی ٹی ایم کو اس وقت جن سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے جو تحریک کے اندر سے رونما ہو رہے ہیں۔ ان کو چند پوائنٹس میں سموتے ہیں۔
1۔ پی ٹی ایم جو عدم تشدد پر یقین رکھتی ہے، تشدد، اور گالم گلوچ کے کلچر جیسے سنگین مسئلوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ضلعی سطح پر مقامی قیادت ان لوگوں پر الزامات لگاتی رہی ہے جو پی ٹی ایم کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ اس کلچر کا اندازہ پی ٹی ایم کے حامیوں کی سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس سے آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ منظور پشتین اس مسلے کو کیسے سنبھالیں گے، یہ ایک سنگین سوالیہ نشان ہے؟
2۔ پی ٹی ایم کی بہت سی مقامی اور مرکزی قیادت ان لوگوں پر مشتمل ہے جن کا ماضی متاثر کن نہیں رہا ہے، وہ لوگ جنہیں دوسری پارٹیوں نے مسترد کر دیا تھا، اب وہ پی ٹی ایم میں شامل ہو چکے ہیں۔ پی ٹی ایم کے لبادے میں یہ لوگ مقامی قبائل اور جماعتوں میں نفرت کے جذبات کو ہوا دیتے آ رہے ہیں۔ کیا منظور پشتین اس جانب توجہ دیں گے؟ اس کا جواب ابھی تک غیر یقینی ہے۔
3۔ کچھ لوگ بار بار پی ٹی ایم کے لبادے میں منظور پشتین کو گمراہ کر کے اپنے مفادات کو تحفظ اور قبائلی مفادات کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ چند ماہ قبل یہ لوگ کراچی میں منظور پشتین کو ایک ایسے شخص سے ملنے کے لئے گئے، جو اپنی بدنام زمانہ سرگرمیوں اور سمگلنگ کے لیے مشہور ہے (جس کا تعلق مصنف کے آبائی شہر سے تھا) ۔ کیا منظور کو اس کا علم تھا؟ مجھے امید ہے کہ شاید نہ ہو۔
4۔ پی ٹی ایم میں پھوٹ اور این ڈی ایم کی تشکیل کے بعد دونوں تنظیموں اور اس کے کارکنوں کے درمیان محاذ آرائی سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ پی ٹی ایم کے اندر این ڈی ایم کی تشکیل کو سازش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں کے کارکنوں کے درمیان نفرت اور پروپیگنڈے جیسے سنگین مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ کیا منظور پشتین پل بن کر اپنے حامیوں کو نفرت ختم کرنے اور جیو اور جینے دو کی پالیسی اپنانے پر راضی کرسکے گے؟ کیا وہ پی ٹی ایم سے علیحدگی اختیار کرنے والوں کو ایک حقیقت اور جمہوری عمل کا حصہ سمجھ کر قبول کروا سکیں گے؟
5۔ تحریک کے اندر اختیارات کی کشمکش، لیڈر بنے کی ہوس مقامی سطح پر منظور پشتین کے لیے ایک سنگین چیلنج بن گیا ہے۔ تحریک میں اس رسہ کشی نے مقامی سطح پر بڑی قبائلی نفرت کو جنم دیا ہے۔ جس نے پی ٹی ایم کے اندر موجود نظم و ضبط پر ایک سنگین سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ کیا منظور پشتین اس سے واقف ہیں؟
6۔ سیاسی شعور کی کمی، بہترین حکمت عملی کا فقدان، جمہوری اقدار سے نا آشنائی تحریک کو دیمک کی طرح کاٹ کر رہی ہے۔ کارکنان اور قیادت (بعض کو چھوڑ کر) دلائل کے ساتھ بات کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کے پاس پی ٹی ایم کے منشور اور اس کی پالیسیوں کے بارے میں کوئی واضح نظریہ، لائحہ عمل اور دلائل نہیں۔ جو کوئی بھی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے، کارکنان اور تحریک کے رہنما گالی گلوچ کے ساتھ الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں۔ کیا منظور پشتین اس کلچر کو روکنے میں کامیاب ہو جائے گا؟
اس وقت پشتونوں کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ اگرچہ پشتون سیاست میں ایک اچھا اضافہ ہے۔ اور منظور پشتین نے کرشماتی رہنما کے طور پر بلاشبہ تحریک کو قابل تعریف قیادت فراہم کی ہے۔ لیکن تحریک کو اندر کے تنازعات، کیچڑ اچھالنے، پی ٹی ایم کی پالیسیوں کے ساتھ مختلف رائے رکھنے والوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنا جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہیں۔ کیا منظور پشتین ان مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ ان کے جوابات ابھی تک تشنہ طلب اور غیر یقینی ہیں۔


