چار سالہ غلاظت کا ٹوکرا


ہر مذہب کے کچھ بنیادی عقائد ہوتے ہیں جن سے مفر ممکن نہیں۔ ہر ریاست کے کچھ بنیادی ستون ہوتے ہیں جن کو منہدم کر دیں تو ریاست کی عمارت دھڑام سے گر جاتی ہے۔ ہر معاشرے کے کچھ اصول ہوتے ہیں جن کو توڑ دیں تو معاشرہ تقسیم ہو جاتا ہے۔ ہر اخلاقی دائرے کے کچھ ضوابط ہوتے ہیں جن کے بغیر معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ہر نظام کے کچھ قواعد ہوتے ہیں جن سے انکار اس نظام سے انکار ہوتا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان اس وقت جس نہج ہر چل رہے ہیں وہ ہر اصول، ضابطے، قاعدے اور قانون کو روندتے چلے جا رہے ہیں جس کا نتیجہ سوائے نفرت، انتشار، اختلاف اور نفاق کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ اسی بات کو صراحت سے سمجھانے کے لیے کچھ مثالیں دینا ازحد ضروری ہے تاکہ بات ان کی سمجھ میں آ جائے جو اب تک عمران خان کو اس معاشرے کا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں۔

عمران خان نے سیاست میں ہمیشہ مذہبی اصطلاحات کا استعمال کیا۔ کبھی وہ ریاست مدینہ بنانے چل نکلتے ہیں کبھی حضرت عمر فاروق رضی علی تعالی عنہ کی مثالیں دیتے ہیں، کبھی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ”ایاک نعبد و ایاک نستعین“ کا نعرہ لگاتے ہیں، کبھی وہ ”امربالمعروف“ کے نام پر سیاسی دنگا فساد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ باتیں صرف ان کے سیاسی بیانیے کا حصہ ہیں۔ ان کے دور حکومت میں ان میں سے کسی بھی حکم پر عمل نہیں ہوا۔ اب تک سب جانتے ہیں کہ عمران خان کے دور میں کرپشن کی لوٹ مار میں بے پناہ اضافہ ہوا اور اس کا اظہار ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بھی ہوا۔ اس دور میں غریب کا جینا دوبھر ہو گیا۔ مفلس کی جھگی گرا دی گئی اور بنی گالہ کا محل ریگولرائز کروا لیا گیا۔ ترقی کے نام پر پناہ گاہیں کھلیں اور معیشت میں بہتری کے نام پر لنگر خانے بنا دیے گئے۔ میڈیا کو کبھی عید کی نماز کی وڈیو نصیب نہیں ہوئی۔ مسجد نبوی ﷺ جیسی مبارک جگہ پر خان صاحب کے پیروکاروں نے غلیظ گالیاں دیں اور سیاسی نعرے لگائے۔ غار حرا کی دیواروں پر سیاسی نعرے لکھے۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کو جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کے لیے زبان پر ریاست مدینہ کا ورد جاری رہا۔ عمران خان نے مذہبی نعرے استعمال کر کے مذہب کے ہر عقیدے سے انکار کیا۔ نہ اخلاقیات کا وہ نمونہ بنے نہ انصاف کے کسی معیار پر پورا اترے۔ نہ خود کو احتساب کے لیے پیش کیا نہ ریاست کے خزانے سے لوٹ مار کا سلسلہ رکا۔

آئین پاکستان کی رو سے پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے۔ یہاں آئین پاکستان کا درجہ سب سے بڑا ہے۔ یہ وہ کڑی ہے جس کی وجہ سے ہم سب قائم ہیں۔ اسی وجہ سے لوگوں کے حقوق ہیں اسی وجہ سے اداروں کا وجود ہے اور اسی وجہ سے پارلیمان ہے۔ اسی وجہ سے الیکشن کا نظام ہے، اسی وجہ سے عدالتیں موجود ہیں، اسی وجہ سے بنیادی انسانی حقوق کا تصور ہمارے ذہنوں میں ہے۔ خان صاحب نے ان سب اصولوں کو پاؤں تلے روندا۔ کبھی خود بڑے طمطراق سے آئین شکنی کی۔ کبھی صدر پاکستان اور گورنر پنجاب کو آئین شکنی پر مائل کیا۔ عدلیہ کا مذاق اڑایا۔ الیکشن کمیشن پر بہتان لگائے۔ فوج کی اعلیٰ قیادت پر الزام لگائے، بھرے جلسوں میں ان کا تمسخر اڑایا۔ کبھی پارلیمانی نظام سے انکار کیا۔ کبھی صدارتی نظام کے خواب دیکھے۔ کبھی پارلیمان کے فیصلے سے منکر ہوئے، کبھی خود اداروں میں مداخلت کی، کبھی خان صاحب کے پیروکاروں نے پاکستانی پاسپورٹوں کو نذر آتش کیا۔ یہ ساری باتیں ریاست کو کمزور تو کر سکتی ہیں، مضبوطی کا باعث قطعی نہیں بن سکتیں۔

اخلاقیات ہمارے معاشرے کا بنیادی اصول ہے۔ ہمیں بزرگوں کا ادب سکھایا جاتا ہے۔ اب گالی دینے والا اب تحریک انصاف کا ٹائیگر سمجھا جاتا ہے۔ اب توہین کرنے والا دلیر مانا جاتا ہے۔ اب قانون توڑنے والا خان صاحب کا متوالا کہلاتا ہے۔ اب نفرت پھیلانے والا خان صاحب کے دوستوں کی اولین صف میں کھڑا ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ ایسا نہیں تھا جیسا عمران خان نے بنا دیا۔ ہم ایسے لوگ نہیں تھے جیسا عمران خان نے ہمیں بنا دیا۔

کچھ ادارے ملکی سلامتی کے ضامن ہوتے ہیں۔ فوج، عدلیہ، پارلیمان، آزاد میڈیا اور الیکشن کمیشن جیسے ادارے ہر ملک میں محترم ہوتے ہیں۔ ان کے کسی غیر جمہوری کردار کی تادیب تو ہو سکتی ہے مگر ان کا تمسخر نہیں اڑایا جا سکتا۔ ان کو تقسیم کرنے کی سازش نہیں کی جا سکتی۔ ان میں نفاق پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ ان کو ہزیمت کا نشانہ نہیں بنا یا جا سکتا۔ خان صاحب اس وقت ہر ادارے کی توہین کر رہے ہیں۔ فوج میں نفاق اور تقسیم کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ الیکشن کمیشن کو جانبدار ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش وہ خود کر رہے ہیں۔ پارلیمان کو بے توقیر کرنے کا سلسلہ ان کی جانب سے رک ہی نہیں رہا۔ عدلیہ پر بہتان طرازی کسی طرح بھی کم ہو نہیں رہی۔ میڈیا پر الزامات کی بوچھاڑ جاری ہے۔ ہر ادارے کے وقار کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے۔ ملک کی ہر اساس کو تباہ و برباد کرنے کا مشن جاری و ساری ہے۔ ہر معاشرتی کلیے، وفاق کی ہر اکائی، استحکام کی ہر اینٹ کو پاش پاش کرنے کا عمل جاری ہے۔

ان حالات میں بھی اگر کچھ لوگوں کو اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ خان صاحب کا مشن کیا ہے؟ وہ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ ان کے مقاصد کیا ہیں؟ وہ کس کے دست راست ثابت ہو رہے ہیں تو یہ ان کی اپنی کم عقلی ہے۔ عمران خان نے کچھ عرصے میں ثابت کر دیا ہے کہ یا تو انہیں حکمرانی ہمیشہ کے لیے عطا کر دی جائے یا پھر اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے وہ ہر لمحہ تیار ہیں۔ جو کچھ خان صاحب آج کل کر رہے ہیں اس سے ان کا مشن بہت واضح ہے، وہ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے اس ملک کو نیست و نابود کرنے کی ہر کوشش کرنا چاہتے ہیں چاہے اس کے لیے اس سرزمین پاک کی سلامتی کی ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ اب خود سوچیں غلاظت کا یہ ٹوکرا کس کے سر کا تاج بنے گا۔ اہانت کا یہ سلسلہ کتنے دن تک چلے گا؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 253 posts and counting.See all posts by ammar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments