تاریخ کا سب سے بڑا ڈرامہ اور ناراض اداکار


ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک ڈائریکٹر نے ایک بلاک بسٹر ڈرامہ بنانے کا سوچا۔ ڈرامے کا بجٹ بڑا تھا تو پروڈیوسر اور پروڈکشن دونوں دنیا کے امیر خطے سے لیے گئے تا کہ خرچ پہ کوئی آنچ نہ آنے پائے۔ کہانی اور کردار چن لیے گئے اور تمام کرداروں کو پیشگی اجرت ادا کر دی گئی۔

کہانی، کردار، جگہ، دورانیہ، اور اقساط کے نشر کی تواریخ سب طے تھیں۔ ہدایتکار نامور تھا اور پوری دنیا میں اس کے نام کا ڈنکا بجتا تھا اور ملک میں تو اس سے بہتر ہدایتکار کوئی موجود نہ تھا۔ رعب دبدبے کا یہ عالم تھا کہ کوئی دوسرا ہدایتکار ان ایام میں کوئی ڈرامہ نہ بناتا جن ایام میں نامور ہدایتکار نے ڈرامہ بنانا ہوتا تھا۔

ڈرامہ بننا شروع ہوا پہلا حصہ چار سال کے لمبے عرصے پہ مشتمل تھا۔ تمام کرداروں نے اپنے کردار خوب نبھائے، ضرورت پڑنے پر مہمان اداکاروں کو بھی دعوت دی جاتی وہ بھی اپنا کردار خوب ادا کرتے بلکہ کبھی کبھی تو یہ مہمان اداکار ڈرامے میں مرکزی کردار کی مانگ کرنے لگتے۔ لیکن چونکہ ہدایتکار اثر و رسوخ کا حامل تھا ان مہمان اداکاروں کو ان کی اجرت دینے کے بعد چلتا کرتا۔

ڈرامے کے دو مرکزی کردار تھے ایک نے پہلے چار سال مرکزی کردار ادا کرنا تھا اس کے بعد ایک سال کے لئے دوسرے نے۔ پانچ سالوں کے بعد اگلی ٹیم تیار کی جانی تھی جس نے اگلے سیزن میں کام کرنا تھا اس میں کچھ نئے اور کچھ پرانے چہروں نے کردار ادا کرنا تھے۔ مہمان کرداروں اور پہلے مرکزی کردار کی وجہ سے ڈرامہ بہترین انداز میں چل رہا تھا۔ پورا پورا ملک بیٹھ کر ڈرامہ دیکھا کرتا تھا۔ ملک کے تقریباً سبھی بڑے ٹی وی چینلز پر یہ ڈرامہ دکھایا جاتا تھا لیکن ہدایت کار کی ہدایت تھی کہ ہر چینل پر ڈرامے کو الگ انداز سے دکھایا جائے، سو ایسا ہی کیا جاتا تھا۔ قوم بھی اپنی پسند کے چینل پہ ڈرامہ دیکھنا پسند کرتی تھی تا کہ اپنے زاویے سے ڈرامہ دیکھا جائے۔

چار سال کا عرصہ مکمل ہوا لیکن پہلے مرکزی کردار کا ابھی اداکاری سے دل نہیں بھرا تھا وہ کردار میں مکمل رچ بس گیا تھا۔ جب ہدایتکار نے کہا کہ اب بس کرو اگلے کی باری ہے تو اداکار نمبر ایک بپھر گیا۔ وہ بھی مایہ ناز اداکار تھا لوگ اس کو چاہتے تھے اداکاروں کا ایک جتھا بھی اس کے ساتھ تھا۔ دوسرا اداکار بھی مضبوط اور منجھا ہوا تھا اور وہ باہر بیٹھ کر اداکاروں کے ایک جتھے کو سنبھالتا تھا۔ تیسرا بڑا اداکار بھی اس کے ساتھ تھا لیکن پہلا اداکار کسی صورت اپنا کردار چھوڑنے پہ تیار نہ تھا۔

آخر کب تک وہ اداکاری کے پیچھے لڑتا رہتا جب پہلے اداکار کو ہدایتکار کی ناراضگی کا علم ہوا تو اس نے جانے کا سوچ لیا لیکن پھر بھی اس نے جاتے جاتے ہدایتکار اور دوسرے اداکاروں اور ہمنواؤں کو ننگا۔ ۔ ۔ میرا مطلب ٹف ٹائم دینے کا سوچا۔ اس نے قبل از وقت سارے ڈرامے کی کہانی کھول دی اور اپنی راہ لی۔ ڈرامے میں اس نے اداکاری کمال کی تھی اس وجہ سے نوجوان اسے بہت پسند کرتے تھے۔ لیکن اتنا بھی نہیں کہ اس کے لئے جیل جا سکیں وہ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر اسے خوب داد شجاعت دیتے تھے۔

یوں ایک بہترین ہدایتکار کی بہترین تخلیق جس نے دیکھے جانے کے تمام ریکارڈ توڑ دیے وہ لوگوں کے سامنے کہانی کے آشکار ہو جانے کی وجہ سے ناکام ہو گیا لیکن پھر بھی کمائی اور ویورشپ کے اعتبار سے وہ تاریخ کا سب سے بڑا ڈراما ثابت ہوا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

مجاہد حسین میو کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments