حمزہ شہباز کا امتحان


کسی کی شخصیت کو سمجھنا ہو تو اس کے ساتھ سفر کر لو اور کھانا کھا لو۔ وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کے ساتھ ان دونوں معاملات میں، میں شریک رہ چکا ہوں ان کے ساتھ لندن کا سفر کیا تھا جبکہ دوسرا معاملہ تو بہت بار ہوا۔ اس لیے ان کی شخصیت کو بیان کرنا چنداں مشکل نہیں ہے۔ زمانہ حزب اختلاف بلکہ شدید حزب اختلاف میں ان سے تعارف ہوا تھا اور اس وقت سے یہ طے شدہ نظر آ رہا تھا کہ یہ ایک دن اعلی ریاستی عہدوں پر ضرور براجمان ہوں گے کیونکہ جو شخص سخت ترین حالات میں بھی اپنے اعصاب کو پرسکون رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو اس کے لئے مسائل، مشکلات کوئی معنی نہیں رکھتے اور وہ ایک نہ ایک دن ان سے نجات حاصل کر ہی لیتا ہے۔

حزب اختلاف کے بعد جب حزب اقتدار کا زمانہ آیا تو سب سے اہم بات یہ مشاہدے میں آئی کہ جیسا حمزہ شہباز حزب اختلاف کے زمانے میں تھا ویسا ہی اس کو اقتدار کے زمانے میں بھی پایا۔ اگر وہ اقتدار کا زمانہ چلتا رہتا ہے اور اس میں ٹانگیں نہ کھینچی جاتی تو ایسی صورت میں ملک میں معاشی استحکام جس کے نتیجے کے طور پر سماجی، دفاعی استحکام سب کچھ حاصل ہوجاتا، یہ منزل کوئی ایسی دور نہیں تھی مگر اچانک تبدیلی تبدیلی کی خواہش نے سب کچھ تہ و بالا کر دیا کہ جس پر دوبارہ عمارت تعمیر کرنا انتہائی کٹھن کام ہو چکا ہے مگر بہرحال دوبارہ حزب اختلاف کا زمانہ لوٹ آیا۔

حمزہ شہباز سے جب بھی ملاقات ہوئی تو انہوں نے ہمیشہ مجھے اپنا بھائی، خاندان کا فرد قرار دیا اسی محبت کے سبب سے میں ان کی توجہ چند امور کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ جب تبدیلی تباہی بن کر پھنکار رہی تھی تو اس تبدیلی کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ نواز شریف سے متعلقہ ہر اس شخص کو پابند سلاسل کر دیا جائے جس کو پس زنداں دیکھ کر نواز شریف کے حوصلوں کو توڑا جا سکے۔ نواز شریف کے حوصلے تو کیا توڑتے الٹا انتقامی کارروائیوں کی شناخت اپنی شناخت بنا لی۔

حمزہ شہباز بائیس ماہ جیل میں رہے اور ان بائیس ماہ کے دوران جو لوگ انتہائی متحرک رہیں یا ان کی ہر پیشی پر حکومت کی مخالفت، سردی، گرمی کی پرواہ کیے بنا عدالتوں میں موجود ہوتے تھے مسلم لیگ نون کا نہایت قابل قدر اثاثہ ہے۔ تارا بٹ، رانا فاروق، سید عظمت، ملک عمران، رضوان قریشی، عمران گورایہ، صفدر انجم، جمیل صادق، شیخ شاہد اقبال، طارق جٹ، مہر شہباز، سردار نسیم، سواتی خان، میاں طارق، طارق وسیر، مہر مودی، وغیرہ۔

اب ایسے لوگ نظر انداز نہیں ہونے چاہیے کیونکہ جو ہر حالت میں نظریے کے ساتھ کھڑا ہو وہی عوامی سطح پر ڈلیور کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے اور اس وقت اس کی اشد ضرورت ہے کہ عوامی سطح پر فوری طور پر ڈیلیور کیا جائے اور ناصرف کے ڈیلیور کیا جائے بلکہ اس کی تشہیر کا بھی بندوبست ہو اور اس تشہیر کے لیے انتہائی نظریے سے وفادار اور باصلاحیت فرد درکار ہے جو کامیابیوں کو عوام کے دلوں میں اتار بھی سکے کیونکہ حمزہ شہباز کی کارکردگی کی پرکھ نواز شریف اور شہباز شریف کے ادوار سے کی جائے گی اور جب بڑے نام ساتھ ہو تو اس صورت میں کارکردگی ثابت کرنا اشد ضروری ہے تاکہ عوام یہ محسوس کرسکے کہ نواز شریف، شہباز شریف خود ہی موجود ہے۔

ترقیاتی منصوبے جو گزشتہ حکومت میں ٹھپ پڑے تھے ان کو جاری کرنا اور امن و امان کی صورتحال جو بدترین حالت میں موجود ہے کو سدھارنا وقت کی ضرورت ہے۔ صوبے کے معاشی معاملات کو بہتر کرنا درکار ہیں۔ ویسے معاشی معاملات کو مکمل طور پر بہتر کرنا صوبائی حکومت کے لیے ممکن نہیں ہوتا کیونکہ یہ پورے ملک کے حالات سے وابستہ ہے مثال کے طور پر ہمارے گلے میں ایف اے ٹی ایف کی ہڈی ہی اٹکی ہوئی ہے۔ اس کا اجلاس جون میں منعقد ہونا ہے اس حوالے سے اہم امر یہ ہے کہ اس فورم کا شریک چیئرمین اٹلی بن چکا ہے جہاں پر یورپ میں مقیم سب سے زیادہ پاکستانی ہیں۔

اٹلی اور پاکستان کے بین الاقوامی مفادات میں ایک ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اطالوی وزیراعظم نے جو خط وزیراعظم شہباز شریف کو تحریر کیا ہے اس میں بھی ان مشترکہ مفادات کی طرف اشارہ کیا ہے ان کا اشارہ پاک اٹلی کافی کلب کی جانب ہے جس کے مقاصد میں شامل ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی تعداد کو بڑھنے نہ دیا جائے۔ اس مشترکہ سوچ کے سبب سے اٹلی ایف اے ٹی ایف کے معاملات میں پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے اس سلسلے میں اٹلی نے پاکستان کے دفتر خارجہ سے رابطہ بھی کیا ہے لیکن کم و بیش ایک مہینہ گزر جانے کے باوجود، ابھی تک ان کو کوئی جواب نہیں موصول ہوا ہے۔ اس حوالے سے فوری اقدامات درکار ہے کیونکہ ایف اے ٹی ایف پر قابو پائیں گے تو معیشت میں بہتری آئے گی اور وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments