ملکی معاشی صورت حال اور کرنے کے کام
سیاست اور سیاسی حمایت و مخالفت سے قطع نظر اس وقت ملکی صورت حال نہایت توجہ طلب ہے، یہ بات سب ہی جانتے ہیں اور اس بے تحاشا خرابی میں ہر دور کی ہر حکومت نے اپنا حصہ بھی شامل کیا ہے، اس حقیقت سے بھی کسی کو مفر نہیں۔ لیکن اب کیا کیا جائے؟ جو مشکلات سر پر آن پڑی ہیں، ان میں سیاسی استحکام کے بعد سب سے اہم مسئلہ معاشی بحران ہے۔ اور معاشی حوالے سے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ درآمد اور برآمد کا انتہائی عدم توازن ہے، جس کے نتیجے میں زر مبادلہ کے حوالے سے ہم دن بہ دن پیچھے چلے جا رہے ہیں۔ ہر شخص یہ بات کہتا ہے اور جانتا بھی ہے کہ اللہ تعالی نے اس ملک کو نہ جانے کس کس حوالے سے نواز رکھا ہے۔ مگر ان سے فائدے اٹھانے میں ہم گزشتہ ستر پچھتر برسوں سے قاصر رہے ہیں۔ یہاں صرف دو پہلوؤں پر بات کی جاتی ہے جو زرمبادلہ کے حوالے سے ہمارے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
پھل
اللہ تعالی نے ہمیں پھلوں کے معاملے میں طرح طرح کی نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ قدرتی ماحول میں پیدا ہونے والے یہ پھل گرمی کے بھی ہیں، اور سردی کے بھی، اور معتدل موسم کے بھی، چوں کہ یہ تمام موسم ہمارے ہاں موجود ہیں، اس لیے یہ پھل بھی اپنی بہت سی اقسام کے ساتھ ہمارے درمیان کثرت سے موجود ہیں، لیکن بہت بڑے پیمانے پر یہ پھل ہماری عدم توجہ اور عدم منصوبہ بندی کے سبب ہر سال ضائع ہو جاتے ہیں۔ صرف ایک پھل آڑو کو لے لیجیے، جس کا اس وقت موسم ہے اور اس وقت سوات اور بعض دوسرے مقامات پر یہ باغوں کے کنارے ڈیڑھ سو سے دو سو روپے کلو بک رہا ہے، بڑے شہروں میں یہ چار سو تک فروخت ہو گا، لیکن خود باغوں کے باہر کیفیت یہ ہے کہ آدھے سے زیادہ گل رہا ہے، سڑ رہا ہے اور برباد ہو رہا ہے۔ اور یہ ہر سال کا معمول ہے۔ یہی کیفیت ہر پھل کی ہوتی ہے۔ اس کا بہت کم حصہ ہم سنبھالنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔
تجاویز
اس ضمن میں چند تجاویز فوری توجہ طلب ہیں۔
1۔ سب سے پہلے پاکستان میں پیدا ہونے والے تمام پھلوں کو عالمی منڈیوں تک بڑی مقدار میں فوری رسائی دی جانی چاہیے۔ اور اس راہ کی رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے۔
2۔ دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ بہت سے پھل جن میں آڑو بھی شامل ہے بہت زیادہ مدت تک اپنی تازگی برقرار نہیں رکھ سکتے، اس لیے ان کے رس اور گودے کو نکال کر محفوظ کرنے کا اہتمام ہونا چاہیے، جس کے لیے بہت زیادہ انوسٹمنٹ کی ضرورت نہیں ہے، صرف ترغیب اور چند سہولتیں فراہم کرنا حکومت کے لیے کافی ہو گا۔
3۔ تیسری اہم ترین چیز یہ ہے کہ انہیں پروسس کر کے برانڈ کی شکل دینا اور ملک کی ضرورت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ضرورتوں کی تکمیل کرنا بہت بڑی مقدار میں زرمبادلہ کا باعث بن سکتا ہے۔
4۔ اس ضمن میں حکومت کو سب سے پہلے آگہی مہم چلانی چاہیے، پھر لوگوں کو خاص اس مقصد کے لیے فوری اور آسان قرضے فراہم کرنے چاہئیں، جن کے لیے بینک بڑی سہولت سے اپنی اسکیمیں پیش کر سکتے ہیں اور اس کے بعد اس کی ایکسپورٹ کے لیے حکومت کو اپنے قوانین، قوانین پر عمل کرنے والے اداروں اور برآمد کنندگان کو ایک پیج پر لانا چاہیے۔
5۔ باغ مالکان اور اس کی پروڈکشن میں شامل بنیادی حضرات کو ان کا حق ملنا چاہیے، تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور آئندہ یہ عمل نہ صرف جاری رہ سکے، بلکہ اس میں اضافہ بھی ہو سکے، اس لیے کہ اس معاملے میں ہمیشہ مڈل مین اور ایکسپورٹر فائدے میں رہتے ہیں اور اصل مالکان کو اکثر صورتوں میں کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
سیاحت
پتہ نہیں کتنے لوگوں کے علم میں یہ بات ہوگی کہ پاکستان میں سیاحتی مقامات کی کوئی کمی نہیں، ہم بنیادی طور پر پڑھنے لکھنے سے من حیث القوم کوئی تعلق نہیں رکھتے، تحقیق کے تو لفظ سے ہی ہمیں چڑ ہے۔ ہمیں گھومنے کے لیے اچھے پوائنٹس کی تلاش ضرور ہوتی ہے اور اچھے پوائنٹس کا مطلب ہمارے ذہن میں جھرنے، آبشاریں، بلندی اور ہریالی ہے، یہ سب چیزیں بھی بہت اہم ہیں لیکن تاریخی مقامات یا historical points کی بھی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں۔
موہن جو دڑو، ہڑپہ، ٹیکسلا یہ تو سب جانتے ہیں لیکن بہت چھوٹے چھوٹے مقامات پر بہت اہم ترین تاریخی نوادرات موجود ہیں۔ جن سے خود پاکستانیوں کی اکثریت واقف نہیں۔ محمد بن قاسم کا نام ہم بار بار لیتے ہیں، لیکن ہم میں سے کتنوں کو خبر ہے کہ اس کی بنائی ہوئی مسجد کے آثار پاکستان میں اروڑ کے مقام پر موجود ہیں، اس مسجد کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ پاکستان میں نہیں بل کہ دنیا کی پہلی صدی کی بنی ہوئی ان چند مساجد میں سے ایک ہے، جن کے آثار کسی نہ کسی درجے میں محفوظ ہیں۔
اگر اس کی تاریخی اہمیت سمجھنا چاہیں تو دیکھیے کہ مکلی، ٹھٹھہ کا قبرستان ہو، یا شاہی مسجد ٹھٹہ یا بادشاہی مسجد لاہور، شاہی قلعہ ان میں سے کسی کی تاریخی حیثیت چار سو سال سے زیادہ نہیں۔ اور یہ مسجد تھوڑی بہت نہیں تقریباً چودہ سو سال پرانی ہے۔ مسجد کے آثار اگر سلیقے سے نمایاں کر دیے جائیں تو باور کیجیے کہ صرف پورے دنیائے اسلام سے نہیں پوری دنیا سے کتنے لوگ اسے دیکھنے کے لیے آسکتے ہیں۔
چند برس پیشتر بنوں جانا ہوا تو وہاں کے مقامی میزبانوں نے ایک ایسے مقام کی نشان دہی کی، جو اس وقت مٹی کا ڈھیر تھا، لیکن ذرا سی سورج کی روشنی بھی میسر ہو تو اس ڈھیر میں انسانی ہڈیاں دور سے چمکتی ہیں۔ اس کا کچھ مشاہدہ ہم نے بھی کیا۔ میزبانوں نے ہمیں بتایا کہ کئی درجن افراد کا روزگار صرف یہ ہے کہ روز یہاں آتے ہیں، کھدائی کرتے ہیں، انہیں لوہا پیتل سونا، یا ایسی کوئی چیز ہاتھ لگتی ہے، جسے وہ بیچ کر اپنا گزر اوقات کرتے ہیں۔ خدا جانے کب سے یہ سلسلہ جاری ہے، اور وہاں کتنا کچھ برباد ہو چکا ہو گا۔ کاش یہ جگہ آثار قدیمہ کی تحویل میں ہوتی، اور یوں برباد نہ ہوتی۔ اس پر کام ہوتا، اس کا نام اور تعارف کرایا جاتا۔ خدا جانے وہ کس تاریخی مقام اور قوم کے آثار ہیں اور کس واقعے کی علامتیں ہیں۔
صوابی اور مردان میں کتنے ہی مقامات ایسے ہیں جہاں بدھا کے اور بدھ ازم کے آثار موجود ہیں۔ دنیا بھر میں جاپان حکومت ان کو پروموٹ بھی کرتی ہے ان کی حفاظت بھی کرتی ہے اور ان پر خرچ بھی کرتی ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ برسوں قبل یہ مقام بھی جاپانی ماہرین نے ہی دریافت کیا تھا۔ خاص شہر صوابی کے قریب ایک ایسا مقام بھی موجود ہے جس کی تاریخ کا کوئی دو ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے، وہاں موجود قلعے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے تو سکندر اعظم بھی فتح نہیں کر سکتا تھا، اس اعتبار سے تو اس کی تاریخ بہت قدیم قرار دی جا سکتی ہے۔
صوابی ہی کے پاس محمود غزنوی کے وزیر ایاز کا مزار بھی ہے، وہ اس علاقے میں محمود غزنوی کا گورنر رہا تھا۔ اسی طرح قریب میں ایک جگہ ایسی ہے جہاں سے دریائے سندھ سکندر اعظم سے لے کر بابر تک بہت سے حکم رانوں نے پار کیا تھا اور وہ افغانستان سے آتے ہوئے کے پی کے سے گزر کر پنجاب میں داخل ہوئے تھے۔ اس مقام کو بہت بڑے پکنک پوائنٹ کا درجہ دیا جاسکتا ہے، اس لیے کہ وہاں بہت کشادہ جگہ موجود ہے۔ یہ ہنڈ نامی گاؤں کا حصہ ہے، اور تمام حضرات اہل تاریخ لکھتے رہے ہیں کہ سکندر اعظم نے یہیں سے دریائے سندھ پار کیا تھا۔ اس بات کو بین الاقوامی سطح پر کتنے اہتمام سے بیچا جاسکتا ہے، یہ بتانے کی کسی باخبر کو ضرورت نہیں۔
تجاویز
1۔ چند اچھے پروڈیوسرز اور فلم میکرز کو ہائر کر کے چھوٹی چھوٹی دستاویزی فلمیں تیار کی جا سکتی ہیں جو ان مقامات کی تشہیر کا باعث ہوں۔
2۔ ان میں سے اکثر مقامات پر بنیادی سہولتیں موجود نہیں ہیں، وہ فراہم کرنا سیاحت کے فروغ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ خاص طور پر اٹھنے بیٹھنے، واش رومز، آرام گاہوں اور بنیادی خوراک کا انتظام کرنے کے لیے چھوٹے پیمانے کے کینٹین اور ہوٹل کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہیں پر یا قریب کی آبادیوں میں گیسٹ ہاؤسز کا قیام نہایت ضروری ہے، جن کا کرایہ معقول ہو۔ ہمارے ہاں سیاحت کے فروغ کے لیے اچھی ٹرانسپورٹیشن اور سستے گیسٹ ہاؤس سب سے پہلے نہایت ضروری ہیں۔
3۔ ہمارے ہاں بہت سے علاقوں میں سیاحوں سے ہر حوالے سے لوٹ مار کرنا کلچر کا حصہ بن چکا ہے، اس سے تحفظ کے لیے بھی منصوبہ بندی نہایت ضروری ہے۔
4۔ بہت سی بین الاقوامی ائر لائنز اس سیاحتی سلسلے میں دل چسپی لے سکتی ہیں۔ شنید ہے کہ ترکش ائر لائن نے کچھ عرصہ پہلے آفر بھی کی تھی۔ اسی طرح قطر ائر لائن بھی دل چسپی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ ان ائرلائنز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان کا نیٹ ورک بڑا ہے، اور پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے وہ بڑی آسانی کے ساتھ سیاحوں کے لیے پرکشش پیکجز پیش کر سکتے ہیں۔
5۔ پوری دنیا میں موجود ہمارے سفارت خانوں کو بھی متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ جنہوں نے ستر برس میں سوائے مراعات اور تن خواہوں کے کوئی کام نہیں کیا۔ الا ما شاء اللہ۔ انہیں چاہیے کہ اس ضمن میں بننے والی دستاویزی فلموں اور ڈاکیومینٹریز کو وہاں پھیلائیں اور ان مقامات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کا فریضہ انجام دیں۔
6۔ تمام ائرپورٹس پر ٹورسٹ ڈیسک کی موجودگی ناگزیر ہے۔
7۔ یہ تمام تجاویز تو فوری کرنے کی ہیں لیکن طویل المیعاد منصوبہ بندی میں سب سے اہم چیز اسلام آباد میں لوگوں کے لیے خاص اس عنوان سے میوزیم قائم ہونا چاہیے۔ لوک ورثہ اس مقصد کے لیے اسلام آباد میں اہم مقام ہے، لیکن پاکستان کے سیاحتی مراکز یا اس نوعیت کے کسی عنوان سے الگ سے میوزیم کا قیام ضروری ہے، جہاں پریزینٹیشنز کے ذریعے ان مقامات کی نشان دہی جامعیت اور خوب صورتی کے ساتھ کی جا سکے۔ اور سیاحوں کو اس حوالے سے معلومات کے ساتھ ساتھ رہ نمائی، آنے جانے، ٹرانسپورٹ اور ہوٹل وغیرہ کی بکنگ کی سہولت بھی وہیں پر فراہم کی جا سکے۔
8۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تو تمام صوبائی دارالحکومتوں پر اور ہر تاریخی مقام پر بھی ایسے نسبتاً چھوٹے میوزیم بنانے چاہئیں۔ بہت سے ایسے تاریخی مقامات پر چھوٹے موٹے میوزیم موجود بھی ہیں، لیکن اکثر ویران، اجڑے ہوئے اور غیر فعال ہیں۔ انہیں بھی استعمال کر کے مزید بہتر مفید اور جاذب بنایا جا سکتا ہے۔
وغیرہ وغیرہ
یہ چند باتیں ارتجالاً پیش کی گئیں۔ ظاہر ہے کہ ہماری آواز کون سنے گا، لیکن ہمیں کم از کم یہ ناشکری نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان کے پاس کیا ہے۔ بہت کچھ بلکہ سب کچھ ہے ایک با عمل اور شکر گزار قوم کے سوا
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو


