والدین کی اپنی پل پل موت کے منہ میں جاتی بچی سے بے مثال محبت کی داستان


23 رجب بمطابق 25 فروری 2022 کی صبح دل میں زخم ڈال گئی ۔ پیاری بیٹی راحین فاطمہ اپنی بیماری سے طویل جنگ لڑنے کے بعد ہم سے جدا ہو گئی۔ یہ خداوند کریم کا ایک انمول اور عظیم تحفہ تھی۔ خدا نے اپنے پاس واپس بلا لیا۔

راحین فاطمہ کی عمر تین برس سے کچھ اوپر ہو گئی تو ڈاکٹر نے بتا دیا کہ بچی ایک ایسی جنیاتی بیماری ( ایم پی ایس ) Mucopolysaccharidosis کا شکار ہے، جس کا علاج ابھی دریافت نہیں ہوا۔ میڈیکل سائنس ابھی اتنی پختہ نہیں ہوئی۔

بات صرف یہ ہی نہیں تھی۔ ڈاکٹر نے یہ بھی بتا دیا کہ ہر آنے والا دن بیماری میں اضافہ کرے گا۔ اور یہ کہ بیماری آہستہ آہستہ ہر عضو بدن پر حملہ آور ہوگی۔ اور جس جس عضو کو یہ چھوئے گی، اس کو کمزور کرتی جائے گی۔

پھر آغاز ہوا ایک جنگ کا۔ سجاد بھائی اور بھابھی نے اپنی سماجی زندگی سے ناتا توڑنا شروع کیا اور اپنی پوری توانائی راحین کی زندگی بہتر کرنے پر لگا دی۔ پاکستان اور پاکستان سے باہر کا کوئی ڈاکٹر نہ چھوڑا جو اس شعبہ سے تعلق رکھتا تھا۔ کسی ڈاکٹر نے امید کی کرن نہ دکھائی۔ مگر سلام ہے سجاد بھائی کے حوصلہ پر، نہ صرف یہ کہ ہمت نہیں ہاری بلکہ ہر ڈاکٹر سے حوصلہ شکن ملاقات کے بعد ایک نئے جذبہ سے علاج شروع کرنے کی سعی کی۔ آج منہ سے کہنا آسان ہے مگر اگلے اٹھارہ سال اپنی بچی کو بیماری میں جوان ہوتا دیکھنا، اور شب و روز اس کی ایسی خدمت کرنا جو ایک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں مریض کی ہوتی ہے، ایک انتہائی تکلیف دہ اور صبر آزما مرحلہ تھا۔ والدین اس امتحان میں پورے اترے۔

یہ لفظ لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ راحین فاطمہ ہم میں نہیں رہی۔ اس نے زندگی کی 21 (اکیس) بہاریں دیکھیں۔ یہ صرف اس کی قوت ارادی تھی، جس کی وجہ سے وہ اتنا عرصہ زندہ رہی۔

میرا دوست ڈاکٹر علا الدین صدیقی جو کہ آسٹریلیا میں رہتا ہے، جو ہمارا فیملی ڈاکٹر ہونے کے علاوہ طب کے شعبے میں ید طولیٰ رکھتا ہے، ہر سال واپس جاتے ہوئے یہ کہتا کہ اس بچی کی قوت ارادی بہت مضبوط ہے۔ میں کبھی سمجھ نہ سکا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا۔

بیماری نے راحین کے بالوں پر حملہ کیا۔ وہ بے جان ہو گئے۔ اس کے ہاتھوں پر کیا تو انگلیاں بڑھنے کی بجائے مڑنا شروع ہو گئیں۔ پاؤں پر حملہ کیا تو وہ اسی عمر میں رک گئے۔ اس کی خوبصورت آنکھوں پر کیا تو بینائی جاتی رہی۔ کیا خوبصورت آنکھیں اللہ نے عطا کیں تھیں۔ اور پھر وہ بتدریج بینائی سے محروم ہوتی گئیں۔ سجاد بھائی نے اس دوران اس اچھے سکول میں تعلیم دلوائی۔ وہ 9 جماعت تک پڑھی اور ایک ذہین طالب علم کے طور پر سامنے آئے۔ مگر جب اس کی جسمانی کمزوری اس کی حرکت میں رکاوٹ کا باعث بننے لگی تو والد نے اسے گھر بٹھا لیا۔

کیا تکلیف دہ مرحلہ تھا یہ راحین کے لیے جو ذہنی طور پر اپنے ہم عصر بچوں سے زیادہ ذہین تھی۔ پھر اس نے خاندان کے اپنے سے کم عمر بچوں کو قد میں اپنے سے بڑھتا دیکھا۔ پھر تعلیم میں اپنے سے آگے جاتا دیکھا۔ کبھی شکوہ کا ایک جملہ زبان پر نہ لائی۔ کیا پیاری مخلوق خدا تھی۔

آخری دو سال اسے سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی تھی کیونکہ بیماری نے اس کے پھیپھڑے متاثر کر دیے تھے۔ 2020 جنوری کے مہینے میں ڈاکٹروں نے کچھ دن علاج کیا اور اس کے بعد جواب دے دیا کہ جو کچھ وہ کر سکتے تھے وہ کر دیا تھا۔ مریض کو گھر لے جانے کا کہہ کر گویا جواب ہی دے دیا۔ مگر سجاد بھائی کہاں حوصلہ ہارنے والے تھے۔ انھوں نے وہ تمام آلات جو کمرہ ہسپتال میں تھے، لا کر راحین کے کمرہ میں رکھ دیے بشمول آکسیجن سلنڈر۔ گویا کمرے کو انتہائی نگہداشت کا کمرہ قرار دے دیا۔

مارچ 2020 میں دنیا کو موذی مرض کرونا نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ یہ ایک نیا امتحان تھا سجاد بھائی کا۔ پہلے سے انتہائی نگہداشت کا شکار بچی کو ایک اور درجہ کی نگہداشت میں داخل کر دیا گیا۔ کیا مشکل مرحلہ تھا۔ مگر سجاد بھائی ایک مرتبہ پھر سرخرو رہے اس امتحان میں بھی۔ گھر میں داخل ہونے اور اس کے بعد غسل کرنے اور کپڑے تبدیل کرنے کا عمل ایک عبادت سمجھ کر کرتے رہے۔ باہر لوگوں سے میل جول میں اتنی احتیاط برتی جو صرف کتابوں میں ہی پڑھی جا سکتی تھی۔ خیال صرف ایک ہی تھا کہ اس موذی اور پھیلنے والے مرض کے جراثیم راحین تک نہ پہنچیں۔

سماجی طور پر راحین کے والد اور والدہ دنیا سے مکمل قطع تعلق کر چکے تھے۔ کس لیے؟ راحین کی زندگی کے لیے۔ یہ جانتے ہو بھی کہ وہ زندگی سے دور ہو رہی ہے۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں ایسی بے لوث محبت تو کہانیوں میں بھی نہ پڑھی۔ کجا آج کے مادی دور میں، جہاں سرمایہ داری نظام ارتکاز دولت (concentration of wealth) کی جستجو میں محبت کے تمام پیمانے توڑ چکا ہے، جہاں وجودیت کا نظریہ پر چار کر رہا ہے کہ انسان کا وجود ہی اصل حقیقت ہے فلسفہ وجودیت کے علمبردار فرانسیسی فلسفی ژاں پال سارتر کے ایک افسانے کا کردار کہتا ہے ”کیونکہ میں ہوں، اس لیے میں ہی زمانہ اور میں ہی کائنات ہوں“ اور یہ کہ کسی اور وجود کو اس وجود پر کوئی فوقیت نہیں ہے۔

ایسے میں یہ کس طرح کی محبت دیکھنے کو ملی۔

پھر خیال آتا ہے کہ حسینی قافلے کے پیروکار آج بھی موجود ہیں۔ جو ایک ننھی بچی سکینہ کی پیاس بجھانے کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے۔

آخری دنوں میں اس کی قوت ارادی جواب دینے لگی۔ ماں سے معافی مانگی کہ ان کا بہت امتحان لیا۔ اس ماں سے جس کی زندگی کا مقصد ہی بیٹی کی زندگی سے مشکلات کم کرنا تھا۔ پھر اس کو احساس ہو گیا کہ کہ وہ صحت مند نہ ہو سکے گی۔ والدین ایک سعی رائیگاں کر رہے ہیں۔ یہ احساس اس کی قوت ارادی توڑ گیا۔ اور پھر وہ آخری لمحہ آن پہنچا جب باپ کے سامنے بیٹی نے آخری سانس لیا۔

سجاد بھائی کو روتا دیکھ کر راحین کا چھوٹا بھائی محمد، جس کی عمر بارہ سال ہے، اپنے باپ سے پوچھتا ہے کہ بابا آپ کو تو معلوم تھا کہ ایک دن یہ ہو گا تو اتنا رو کیوں رہے ہیں؟ محمد ایک سمجھدار اور حساس بچہ ہے، جس نے والدین کی غیر منقسم محبت اپنی بہن کے لیے دیکھی اور خود بھی بے پناہ پیار دیا، باپ کو اس مشکل گھڑی میں دلاسا دینا چاہ رہا تھا۔

شاید اسے یہ نہیں معلوم کہ باپ کو اس حادثہ کے ہونے کا علم تو تھا، خواہش نہیں تھی۔

اس کی نماز جنازہ پر جب مولانا نے کہا کہ اے خدا راحین فاطمہ کے گناہ بخش دے تو میں اس سوچ میں پڑ گیا کہ کیا راحین کبھی زندگی کی اس منزل میں داخل بھی ہوئی جہاں اس کا سامنا گناہوں سے ہو سکتا تھا۔ تین سال کی عمر میں بیماری نے آ لیا۔ اکیس برس کی عمر میں چل بسی۔ تمام عمر بیماری سے لڑتے گزاری۔ اس نے تو بچپن سے اگلی منزل ہی نہ دیکھی۔ مکمل معصومیت بھری زندگی۔

اس کی قبر پر بیٹھا میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ایسا گناہوں سے پاک وجود ہمارے درمیان رہا۔ یہ خداوند کریم کا عظیم تحفہ تھا۔ ہم شاید احساس نہ کرسکے۔ اس بے لوث خدمت پر وہ اپنے والدین کی بخشش کا سامان بنی۔ میں جب بھی اس کے لیے دعا کرنے لگتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ وہ اچھی جگہ چلی گئی ہے۔ ایسی اچھی جگہ جس کا وعدہ خداوند نے صالحین سے کیا ہے۔ ایسا احساس آج تک کسی کے لیے نہیں ہوا، ماسوا انبیا اور آئمہ طاہرین کے۔
وہ واقعی خداوند کریم کا عظیم تحفہ تھی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عامر علی رضوی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments