کتاب کامیابی کا ذریعہ


سر والٹر اسکاٹ ( 1832۔ 1771 ) کا شمار انگریزی ادب کے نامور افراد میں ہوتا ہے۔ ان کی زندگی کی کہانی انتہائی سبق آموز اور دلچسپ ہے۔ خصوصاً کتابوں سے شغف رکھنے والے دوستوں کے لئے تو یہ ایک بہترین تحریک ہے۔ جو مایوسی میں امید اور اندھیرے میں روشنی کا پیغام ہے۔ صرف والٹر ہی نہیں بلکہ دنیا کی معلوم تاریخ کے اگر ہم بڑے ناموں کی تاریخ دیکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنی زندگی میں مشکلات کا سامنا کیا اور ناموافق حالات کو موافق حالات میں بدل دیا۔ دراصل بڑے لوگوں کی یہی خصوصیت انہیں عام لوگوں سے ممتاز کرتی ہے۔ اکثر عام لوگ جب مشکلات میں پھنس کر مایوسی اور نا امیدی کا شکار ہو جاتے ہیں تو بڑے لوگ ان مشکل حالات میں بھی اپنے حوصلے اور جذبے کو برقرار رکھتے ہیں۔ اور ان مشکل حالات سے کامیابی کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان مشکلات میں ہی ہوتی ہے۔

تو بات ہو رہی تھی سر والٹر اسکاٹ کی۔ سر والٹر اسکاٹ جسے آج انگریزی ادب میں ایک نمایاں مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ اسے یہ مقام یونہی حاصل نہیں ہوا تھا۔ بلکہ اس مقام تک پہنچنے کے لئے اسے کافی محنت اور تگ و دو کرنی پڑی تھی۔

والٹر اپنی عمر کے آدھے حصے تک ایک معمولی ادیب اور ایک تیسرے درجے کا کم تر شاعر تھا۔ اس کی معمولی شاعری سے اسے کوئی خاص آمدنی نہیں ہوتی تھی۔ اور کم آمدنی کی وجہ سے اسے اکثر لوگوں سے قرضہ لینا پڑتا تھا۔ رفتہ رفتہ اس کی محدود آمدنی کی وجہ سے اس کا قرضہ بڑھنے لگا اور وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبتا چلا گیا۔ جس کی وجہ سے اس کے حالات دن بدن بدتر ہوتے چلے گئے۔ لیکن حالات کی ان ہی ابتری نے والٹر اسکاٹ جیسے تیسرے درجے کے معمولی شاعر کو سر والٹر اسکاٹ بنا دیا۔

اسکارٹ نے ان مشکلات سے چھٹکارا پانے کا حل یہ سوچا کہ وہ نئی نئی کتابیں پڑھے۔ جب اس نے کچھ نئی کتابیں پڑھیں تو اس کو خیال آیا کہ کیوں نہ وہ ایسی کتابیں لکھے جو لوگوں کو پسند آئیں اور یوں اس کی کتابیں زیادہ سے زیادہ فروخت ہوں۔ اپنی کتابوں کے لیے اس نے جو عنوان منتخب کیا وہ محبت کی تاریخی داستانوں کو ناول کے انداز میں لکھنا تھا۔ مفلسی اور قرض داروں کے عذاب سے چھٹکارا پانے کے لیے ضروری تھا کہ اس کے پاس پیسہ آئے۔

اور پیسے کے لئے اسے جو واحد حل ملا وہ یہی تھا کہ وہ ایسی کتابیں لکھے جو لوگوں کو پسند آئیں۔ اس جذبے کے تحت اس نے اس میدان میں زبردست محنت اور جدوجہد کی۔ اس نے مسلسل کئی برس اس کام میں اپنی طاقت اور پوری صلاحیت صرف کردی۔ اس کو اپنی کہانیاں اور کتابیں اچھی قیمت پر فروخت کرنی تھیں اور یہ اس وقت ممکن تھا جب اس میں اتنا تاثیر ہوتا کہ لوگ اس کی کتابوں کی طرف کھنچے چلے آتے۔

آخرکار اسکاٹ کی محنت رنگ لے آئی۔ اس نے ایسی کہانیاں تخلیق کیں کہ لوگ جوق در جوق اس کی کتابیں پڑھنے لگے۔ جس سے اسے کافی آمدن ہونے لگی۔ اس کی وجہ سے اس کا قرضہ اتر گیا اور وہ والٹر اسکاٹ سے سر والٹر سکاٹ بن گیا۔ یوں کتاب سے تعلق اور دوستی نے سر والٹر اسکاٹ کو ہمیشہ کے لیے تاریخ میں زندہ کر دیا۔ ایک اور فرانسیسی ادیب اور فلسفی والٹیئر ( 1694۔ 1778 ) ء نے کتاب کی حکمرانی کے متعلق بالکل درست تجزیہ پیش کیا تھا اس نے کہا تھا

” آپ کو اس حقیقت کا شعور ہونا چاہیے کہ جب سے دنیا بنی ہے۔ وحشی نسلوں کو چھوڑ کر دنیا پر کتابوں نے حکمرانی کی ہے“

علم کے ساتھ ساتھ محنت اور جہد مسلسل ایسے ہتھیار ہیں جو کسی بھی نا امید انسان کو امید اور ناکام کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ دنیا میں ایسی لاتعداد مثالیں ہیں کہ جب کسی انسان نے مشکلات کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی تو اس کی زندگی میں انقلاب آ گیا۔ یہ بات درست ہے کہ ناکامی ہی کامیابی کا پہلا زینہ ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت جب ہم ناکامی اور مشکلات سے ڈرنے کی بجائے اس کے سامنے چٹان بن کر کھڑے رہیں۔ کم ہمت اور سست لوگوں کو ناکامی مایوسی کی طرف دھکیلتی رہتی ہے لیکن باہمت لوگوں کے لئے مشکلات اور نا امیدی کے الفاظ کوئی معنی نہیں رکھتے ہیں۔ بلکہ مشکلات ہی انہیں اصل معنوں میں کامیابی کی طرف راستہ فراہم کرتے ہیں

Facebook Comments HS