کامریڈ کا خواب


اس شام میرے کامریڈ دوست کی آنکھوں میں ایک نئی صبح کے انتظار کی چمک موجود تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی بڑے معرکے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو رہا ہو۔ وہ اپنی کتابوں اور کپڑوں کے سوٹ کیس لے کر میرے گھر آ گیا تھا۔ ہم ساری رات قہوہ پیتے رہے اور حالات حاضرہ پر تبادلہ خیال کرتے رہے۔ میں نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ وطن واپس جانے پر مصر تھا۔

کامریڈ کا کہنا تھا کہ انسانوں اور قوموں کی زندگی میں چند ہی مواقع ایسے آتے ہیں جب ان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اس نے لینن کی کہانی سنائی جو انقلاب کی راہ ہموار کرنے یورپ سے ایک ریل گاڑی میں چھپ کر ماسکو پہنچا تھا۔ کامریڈ کو پورا یقین تھا کہ کئی سالوں کی آمریت کے بعد چند ہفتوں میں وطن کے حالات بدل گئے تھے اور قوم ایک جمہوری حکومت کی لیے تیار ہو چکی تھی۔

اس کی بات سن کر میں مسکرایا ’تم الیکشن کو جمہوریت سمجھتے ہو۔ کتنے سادہ لوح ہو۔ تمہاری سیاسی جماعت تمہیں بلا رہی ہے اور انقلاب کی باتیں کر رہی ہے۔ اور تم ملک کا نیا وزیر اعظم بننے کے سنہرے خواب دیکھ رہے ہو۔ مجھے خدشہ ہے کہ یہ سہانے خواب ڈراؤنے خوابوں میں نہ ڈھل جائیں۔ مجھے تمہاری جان عزیز ہے۔ ہماری قوم جذباتی واقع ہوئی ہے اور وہ خون کی ہولی کھیلتے نہیں گھبراتی۔ میری نگاہ میں جب تک ہماری قوم میں تعلیم عام نہیں ہوگی اور عوام عورتوں اور اقلیتوں کا احترام کرنا نہیں سیکھیں گے جمہوریت نہیں آ سکتی‘

پھر میں نے کامریڈ کو اپنے یونان کے سفر کی داستان سنائی تھی جس کے دوران مجھے ایک ٹورسٹ گائیڈ خاتون ملی تھی جس نے بڑے فخر سے ہم سب کو بتایا تھا کہ یونان میں جمہوریت پیدا ہوئی تھی اور وہاں پہلی دفعہ عورتوں نے ووٹ دیا تھا۔ میں نے گائیڈ سے پوچھا تھا WHAT IS DEMOCRACY؟ کہنے لگی DEMOCRACY IS DIALOGUE چاہے گھر میں ’چاہے سکول میں اور چاہے ایوان حکومت میں مکالمہ جاری ہے تو جمہوریت ہے جب DIALOGUE ایک MONOLOGUE بن جائے تو جمہوریت آمریت اور شہنشاہیت بننے لگتی ہے۔

کامریڈ خاموشی سے میری باتیں سنتا رہا پھر بولا ’اے میرے درویش دوست۔ تم ایک شاعر ہو۔ ایک فلسفی ہو۔ اعلیٰ آدرش رکھتے ہو۔ امن کے۔ آشتی کے۔ تم ارتقا کی باتیں کرتے ہو اور میں انقلاب کے لیے تیار رہتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ بعض دفعہ امن قائم کرنے کے لیے جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ سمندر میں چھلانگ لگانی پڑتی ہے آگ میں کودنا پڑتا ہے اور میں اسی آگ میں کودنے جا رہا ہوں جس کے بارے میں اقبالؔ نے کہا تھا

بے خطر کود پرا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

اور میں خاموش ہو گیا تھا۔ مجھے کامریڈ سے چند سال پہلے کی پہلی ملاقات یاد آ گئی تھی۔ ہم سب ایک مقامی ریستوران میں نان ’کباب اور ساگ گوشت سے محظوظ ہو رہے تھے اور وہ بڑے جوش و خروش سے اپنے کامریڈ دوستوں کے واقعات سنا رہا تھا۔ میں نے اس شام اس سے پوچھا تھا

’ تم انقلابی دکھائی دیتے ہو۔ تمہارا دس سالہ خواب کیا ہے؟‘

وہ چند لمحے خاموشی سے خلاؤں میں گھورتا رہا تھا پھر بولا تھا ’میں نے ریڈیو اور ٹی وی پر بہت سے انٹرویو دیے ہیں۔ بہت سے جلسوں میں تقریریں کی ہیں سینکڑوں سوالوں کے جواب دیے ہیں لیکن یہ سوال مجھے پہلے کبھی کسی نے نہیں پوچھا۔ میرا خواب یہ ہے کہ دس سال میں ہمارے ملک سے فوجی آمریت رخصت ہو جائے‘ مذہبی تشدد پسندی بھی ختم ہو جائے اور ہمارے وطن پر جمہوریت کا سورج طلوع ہو ’۔ اس شام میں مسکرا دیا تھا اور میرے دل میں ایک خیال نے سرگوشی کی تھی‘ یا تو یہ سادہ لوح ہے یا ایک آئیڈیلسٹ IDEALIST ’

کامریڈ کا خیال تھا کہ وہ وقت آ گیا ہے اور اس کا وطن الیکشن کے لیے تیار ہو گیا ہے۔

آمرانہ حکومت کی پسپائی کے بعد عارضی حکومت کا قیام اور سو دن میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ الیکشن کا اعلان ہو چکا تھا۔ ساری دنیا کی نظریں اس ملک پر لگی تھیں جس کے سر پر فوج اور مذہبی جماعتوں کے بادل کئی برسوں سے چھائے ہوئے تھے اور جس کے تہہ خانوں میں ایٹم بم چھپے تھے۔ بعض ممالک کی خواہش تھی کہ ملک میں جمہوریت بحال ہو۔ بعض کو یہ خدشہ تھا کہ اگر الیکشن مذہبی شدت پسند جیت گئے تو پھر کیا ہو گا اور بعض مشرقی دانشوروں کا خیال تھا کہ مغربی ممالک مشرق میں جمہوریت نہیں چاہتے کیونکہ ایک جرنیل یا شہنشاہ کو قابو میں رکھنا کروڑوں عوام کو قابو میں رکھنے سے زیادہ آسان تھا۔

ایک شام میں نے کامریڈ کو چے گویرا کی کہانی سنائی جس نے انقلاب کا خواب دیکھا تھا اور وہ خواب کیوبا میں شرمندہ تعبیر بھی ہوا تھا لیکن پھر وہ زیر زمین چلا گیا تھا۔ کئی برسوں کے بعد اس کے انقلاب کے دشمنوں نے اسے گھیر لیا تھا اور اسے پراسرار طریقے سے قتل کر دیا تھا۔ کامریڈ نے مجھے ہوچی منہ کی کہانی سنائی تھی جو اس کا ہیرو تھا اور لاکھوں انقلابیوں کا آئیڈیل۔

جب سے کامریڈ سے میری دوستی ہوئی تھی ہم شام کو جھیل کے کنارے سیر کے لیے چلے جایا کرتے تھے۔ وہ سیاسی اور معاشرتی تبدیلیوں کے معاشی رخ پر روشنی ڈالتا اور میں نفسیاتی رخ پیش کرتا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر امیر غریب کا فرق مٹ جائے اور عوام کے معاشی حالات بہتر ہو جائیں تو ان کا اخلاق بھی سنور جائے گا اور میں اسے کہتا کہ ایک ہی گھر اور قوم میں ایک غریب چور بن جاتا ہے ’دوسرا سادھو‘ تیسرا شاعر اور چوتھا انقلابی۔ اسی طرح ایک امیر انسان حریص بن جاتا ہے اور دوسرا خدمت خلق کرنے لگتا ہے۔

ویسے تو مجھے کامریڈ کی بہت سی عادات پسند تھیں لیکن سب سے محبوب عادت یہ تھی کہ وہ دیار غیر میں رہ کر تین تین نوکریاں کرتا تھا اور اپنی سوشلسٹ پارٹی کو اس طرح ماہانہ خرچ بھیجتا تھا جیسے مہاجر اپنی بوڑھی ماں کو بھیجتے ہیں۔ کامریڈ اور میں بہت سے اختلافات کے باوجود اس بات پر متفق تھے کہ شاعر ’دانشور اور انقلابی کو شادی نہیں کرنی چاہیے۔ میں نے اسے نیلسن منڈیلا کا واقعہ سنایا تھا کہ جب ان کے ایک کامریڈ ساتھی کی شادی ہو رہی تھی تو انہوں نے دلہن سے کہا تھا YOU ARE MARRYING A MARRIED MAN لیکن جب دلہن وہ جملہ سن کر گھبرائی تو انہوں نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا

HE IS MARRIED TO HIS CAUSE

ایک شام کاریڈ نے کہا کہ انسان کو موت سے نہیں گھبرانا چاہیے۔ میں نے کہا ’اور موت کو آگے بڑھ کر گلے بھی نہیں لگانا چاہیے‘۔ میں نے کامریڈ کو بہت سمجھایا کہ وہ وطن سے باہر رہ کر بھی ملک کی خدمت کر سکتا ہے اور انقلاب لا سکتا ہے لیکن وہ واپس جانے پر مصر تھا کیونکہ اس کی پارٹی کے ممبر اسے بلا رہے تھے۔ شروع میں اس نے واپس جانے سے انکار بھی کیا تھا لیکن جتنا وہ انکار کرتا اس کے مداح کامریڈ اتنا ہی اصرار کرتے۔

آخر اس نے ہاں کر دی۔ واپس جانے کی حامی بھر لی۔ کامریڈ کے ساتھیوں نے اسے یقین دلایا کہ عوام ان کے ساتھ ہیں ’ان کی پارٹی الیکشن جیت جائے گی اور وہ ملک کا نیا وزیر اعظم بن جائے گا۔ کامریڈ کو دولت اور شہرت کا شوق نہیں تھا۔ وہ دل سے درویش تھا۔ اسی لیے ہم دو درویشوں کی دوستی بھی تھی۔ اس کے دل میں ملک کی خدمت کا دیا جلتا رہتا تھا۔ وہ اپنے وطن کو کامیاب دیکھنا چاہتا تھا۔ اس نے قانون اور معیشت کی اعلیٰ تعلیم اسی لیے حاصل کی تھی کہ وہ اپنے ملک کی خدمت کر سکے اور اپنے وطن کو اس مقام پر لے جا سکے جہاں ہر شہری اپنی دھرتی ماں پر فخر کر سکے۔ وہ قبال کا مصرعہ گنگنایا کرتا تھا

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

جب میں نے کامریڈ کو ائرپورٹ پر الوداع کہا تھا تو مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ وہ ہماری آخری ملاقات ہوگی۔

ملک میں الیکشن کا اعلان ہو گیا۔ تین پارٹیوں کے تین امید وار الیکشن لڑ رہے تھے۔ پہلے امیدوار کو فوج کی سرپرستی حاصل تھی اور اس کا انتخابی نشان بھیڑیا تھا۔ دوسرے امیدوار کی دائیں بازو کی مذہبی جماعتیں مدد کر رہی تھیں اور اس کا نشان لومڑی تھا۔ تیسرا امیدوار ہمارا کامریڈ تھا جسے بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی اور اس کا نشان فاختہ تھا۔

الیکشن کے دوران ساری دنیا کے جرنلسٹ دارالحکومت پہنچ گئے تھے اور الیکشن کی رپورٹیں تیار کر رہے تھے۔

انتخاب کے دن لاکھوں لوگ ریڈیو اور ٹی وی پر انتخابات کی خبریں سن رہے تھے۔ مرد اور عورتیں جوق در جوق ملک کے مختلف شہروں میں ووٹ ڈال رہے تھے۔ ملک کی تاریخ میں کبھی 70 فی صد عوام نے اتنے ذوق و شوق سے الیکشن میں حصہ نہ لیا تھا۔

ووٹنگ شام پانچ بجے ختم ہوئی تو ووٹ گننے کا عمل شروع ہوا۔ ساری دنیا کے لوگ سانس روکے نتائج کا انتظار کر رہے تھے۔ مغربی اقوام کو خطرہ تھا کہ کہیں مذہبی جماعتیں نہ جیت جائیں اور ایٹم بم ان کے ہاتھوں میں نہ چلا جائے جو ساری دنیا کے لیے خطرے کا باعث ہو سکتا تھا۔

کامریڈ کے سب دوستوں نے الیکشن کے اگلے دن چھٹی لے لی تھی اور درویش کی کٹیا میں جمع ہو گئے تھے۔ ووٹ شام پانچ بجے سے گننے شروع ہو گئے تھے۔ ہم ساری رات جاگتے رہے اور نتائج کا اعلان سنتے رہے۔ پہلے اس نمائندے کے ووٹ زیادہ تھے جسے فوج کی حمایت حاصل تھی لیکن پھر اس امیدوار کے ووٹ بڑھ گئے جس کی مذہبی جماعتوں نے مدد کی تھی۔

لیکن پھر کامریڈ کے ووٹ بڑھنے لگے۔ اور ساری رات بڑھتے ہی چلے گئے۔ جب الیکشن کمشنر نے الیکشن کے نتائج کا آخری اعلان کیا تو پہلے امیدوار کو 13 فی صد دوسرے امیدوار کو 26 فی صد اور تیسرے امیدوار کو 61 فی صد ووٹ ملے۔

ہم سب دوستوں نے نعرہ مستانہ بلند کیا۔ ہمارا کاریڈ جیت گیا تھا۔ ہمیں یقین نہ آ رہا تھا کہ ہمارا ساتھی ’ہمارا دوست‘ ملک کا نیا وزیر اعظم بن گیا تھا۔ لیکن وہ تھا کہاں؟ اس کی کوئی خبر نہ تھی۔

ہمیں تشویش اس وقت ہوئی جب ہم نے مبارکباد دینے کے لیے فون کیا تو پتہ چلا کہ فون کی لائن کٹ چکی تھی۔
ایک دن گزر گیا
دو دن گزر گئے
تین دن گزر گئے
کامریڈ نہ ملنا تھا نہ ملا۔
بعض کا کہنا تھا فوجیوں نے اسے قتل کر دیا ہے۔
بعض کا خیال تھا اسے مذہبی جماعتوں نے اغوا کر لیا ہے

مجھے پورا یقین تھا کہ وہ زندہ ہے ’چے گویرا کی طرح زیر زمین چلا گیا ہے اور انقلاب کی تیاریاں کر رہا ہے لیکن پھر میرے دل میں ایسے وسوسے ابھرتے کہ میرے سراپا میں ایک سرد لہر دوڑ جاتی۔

ایک شام میں بہت اداس ہو گیا اور لمبی سیر کے لیے نکل گیا۔ میں سوچتا رہا کہ کیا کامریڈ سے دوبارہ ملوں گا یا نہیں۔ جب سیر سے واپس لوٹا تو میں نے تین شعر لکھے جو ایک امن پسند دوست کا اپنے انقلابی دوست کی یاد تازہ رکھنے کا بہانہ تھا جنہیں لکھتے ہوئے میری آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔

رات تاریک ہوئی جاتی ہے، ایک مہتاب سلامت رکھنا
راستے تنگ ہوئے جاتے ہیں، دل میں اک باب سلامت رکھنا
وہ تمہیں دار پہ لے جائیں گے، آنکھ میں خواب سلامت رکھنا


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 550 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail