اتحادی حکومت بمقابلہ دہشتگردی، معیشت اور ڈالر کی اڑان آئندہ چند روز کتنے اہم؟
گزشتہ چند روز سے ملک میں ڈالر کی اڑان رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ انٹربینک میں ڈالر ڈبل سینچری کر کے ملکی تاریخی میں ریکارڈ توڑ دیا ہے، جس پر حکومت اس کوشش میں جٹی ہوئی ہے کے کسی طرح ڈالر کی اڑان کو جکڑ کر روک دیا جائے، پہلے مرحلے میں درآمد کی جانے والی لگژری اشیاء جن میں گاڑیاں، موبائل فونز، فرنیچر، خشک میوہ جات سمیت 38 اشیاء شامل درآمدات پر پابندی لگادی ہے۔ اور حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان پابندیوں کے اثرات تقریباً 6 بلین ڈالر سالانہ ہوں گے۔
ساتھ ہی ملک میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی تلوار ہر 15 دن بعد سر پر لٹکائی جاتی ہے، جو آنے والے چند دنوں میں گرنے کا امکان ہے تو ساتھ ہی ملک میں پانی کی قلت سے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے کاشتکار بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ دوسری طرف ملک میں دہشتگردی کی لہر میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جس کا زیادہ نشانہ ملک کے سب بڑے معاشی ہب کراچی کو بنایا جا رہا ہے۔
گزشتہ چند روز میں 3 دہشتگردی کے افسوسناک واقعات کراچی میں سامنے آئے ہیں۔ پہلا کراچی یونیورسٹی کے اندر خودکش دہشتگرد عورت نے 3 مہمان اساتذہ چینی شہریوں سمیت 4 افراد کی زندگیاں چھین لی۔ دو اور دہشتگردی کے واقعات بھی کراچی کے علاقے صدر میں اس ہی مہینے میں پیش آئے جس کے دو ملوث دہشتگردوں کو کامیابی سے مقابلے میں ہلاک کیا گیا ہے۔ یہی نہیں وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں دہشتگرد حملے میں 3 معصوم بچوں اور 3 فوجی جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے ساتھ ہی 2 اقلیت سے تعلق رکھنے والے سکھ پاکستانی شہریوں کو بھی حملے میں قتل کر دیا گیا ہے۔
ان سارے گنتی کیے گئے مسائل کا سامنا اس نون لیگ پی پی پی و دیگر جماعتوں کی اتحادی حکومت کو ہے۔ جس کے منفی اثرات اور ملبہ حکومت کی کارکردگی پر خاص طور پر نون لیگ پر مرتب ہو رہے ہیں۔ بظاہر دکھائی یہ دے رہا ہے کہ ان تمام تر مسائل کا سامنا کرنے کے بجائے نون لیگ اب چاہتی کے کسی نا کسی طریقے سے اس ملبے کو صاف کیا جائے اور نئے انتخابات کی طرف جانا چاہیے۔ ورنہ آنے والے عام انتخابات میں سارے ملبے کا برا اثر نون لیگ پر خاص طور پے پڑنے والا ہے، اس بات کا اندازہ نون لیگ کے گوجرانوالہ جلسے اور نون لیگ کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کے خطاب سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہا کہ عوام کو رلیف یا حکومت چھوڑ دی جائے لیکن مہنگائی نہیں کی جائے گی۔ اس میں اتحادی جماعتوں میں ایم کیو ایم پاکستان اور جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی قبل از وقت انتخابات کروانے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، البتہ اس عمل کی مخالفت کر رہی ہے تو وہ ہے اہم اتحادی جماعت پی پی پی، سابق صدر آصف علی زرداری چاہتے ہیں کے پہلے الیکشن اصلاحات پھر انتخابات۔
جو پی ڈی ایم کی تحریک کے وقت معاہدہ ہوا تھا، اس کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ اب یہ نون لیگ کے لیے اہم مشکل کھڑی ہو گئی ہے، کہ وہ پی پی پی کو کس طرح مطمئن کرتی ہے۔ چونکہ نون لیگ میثاق جمہوریت کو ماضی کی طرح نظر انداز نہیں کرنا چاہے گی، اور دوبارہ پی ٹی آئی کے مقابلے میں پی پی پی کا مستقبل میں بھی ساتھ دے نا چاہے گی۔ دوسری جانب معاشی ٹیم کی آئی ایم ایف سے امدادی پیکج پر باتیں چل رہی ہیں، وہ رقم ملنے کے بعد ڈالر کی اڑان اور معاشی حالات کو کس طرح کنٹرول میں لایا جاتا ہے۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ حکومت آنے والی جون کی سالانہ بجٹ میں کیا رلیف دیتی ہے؟ اور حکومت کیا اہم معاشی فیصلے بھی کرے گی


