رستمِ زبان و بیاں: ایم آر کیانی
جس طرح بقول مرزا نوشہ طرز بیدل میں ریختہ کہنا کسی قیامت سے کم نہیں اسی طرح میرے نزدیک طرز حالی میں غالب کا بیان ایک ایسا معرکہ ہے جو سر ہونا ممکن نہیں۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ مولانا حالی نے ان کی صحبت میں ایک خاص وقت گزارا اور ان کے معمولات کو قریب سے دیکھا۔ پھر جب ان پہ لکھنے بیٹھے تو جو دیکھا اور محسوس کیا اسے ذاتی تعلق کے تعصب سے بالا ہو کر لکھا۔ اس بارے میں زیادہ کچھ کہنے کی بجائے بس اس طرف توجہ چاہتا ہوں کہ غالب پہ ان کا تبصرہ کہ وہ حیوان ظریف تھے ایسا صادق مانا گیا کہ آج تک کسی سخن فہم نے، چاہے وہ طرفدار غالب تھا کہ نہیں، اسے جھٹلایا نہیں۔
غالب کو حالی نے حیوان ظریف ان کی اس روش کی بنیاد پہ کہا تھا جس کے تحت وہ اپنے طنز کا اپنے آپ کو اتنی ہی آسانی سے نشانہ بناتے تھے جتنی آسانی سے محبوب، رقیب یا واعظ کو۔
حیوان ظریف ہونے کی یہ روایت ہمیں اپنے معروف مزاح نگاروں کے ہاں بھی خوب خوب ملتی ہے لیکن ایک شخصیت جن کی تحریر و تقریر میں یہ اسی درجہ میں پائی جاتی ہے جس درجہ میں نظم غالب میں، وہ ایم آر کیانی ہیں۔
ملک محمد رستم کیانی ( 1902 تا 1962 ) کا آبائی تعلق کوہاٹ سے تھا۔ 1927 میں وہ سول سروس میں آئے اور 1938 میں عدلیہ سے وابستہ ہو گئے۔ 1958 میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ 1962 میں پنشن یاب ہوئے۔
سروس کے دوران وکلاء اور کچھ دوسری تنظیموں کی دعوت پر انہوں نے جو سدا بہار تقاریر کیں وہ انگریزی اور اردو میں مختلف کتابوں کی صورت شائع ہوئیں۔ ان میں افکار پریشاں اور Not the whole truth نمایاں ہیں۔ حال ہی میں ان کی ایک انگریزی کتاب کا ترجمہ بعنوان ”ایک جج ہنس بھی سکتا ہے“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ آئیے اس کے کچھ اقتباسات آپ کی نذر کروں۔
” ضلعی عدالتوں کے مقابلے میں ہائی کورٹ میں مقدمات کی سماعت زیادہ بھرپور طریقے سے ہونی چاہیے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں آپ کو جو تربیت ملی ہے وہ اتنی بھرپور تھی کہ ایک بار ایک ڈنر میں بار کے صدر نے جب اپنے حاضرین کو امریکی امداد میں ملنے والی نئی لائبریری کی خوشخبری سنائی تو میں نے ان سے کہا، آپ لائبریری پہ اتنے خوش کیوں ہیں۔ آپ نے تو اپنے صاف دماغوں کو کتابوں کے مطالعے سے آلودہ نہیں کرتے۔
” ایک بار جب ہم تین بجے شام تک قتل کے ایک مقدمہ کی سماعت کر چکے تو میں نے اپنے شریک سماعت جج سے کہا کہ میری رائے میں اپیل خارج کر دینی چاہیے۔ انہوں نے بڑے تحمل اور قدرے خفیف مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ وہ دس بجے صبح ہی اس نتیجے پہ پہنچ گئے تھے۔“
” ضمانت کی درخواستوں میں آپ کو بہت سے طریقوں پر عمل کرنا پڑے گا لیکن حسب ذیل مشورے مفید ہو سکتے ہیں۔ اگر مجسٹریٹ یا جج کے تبادلے کے احکامات آ چکے ہوں تو آپ درخواست خود لے کر جائیے۔ پہلے ان سے پوچھیے کہ انہوں نے اپنے جانے کی کوئی تاریخ تو مقرر نہیں کی ہے۔ امید یہی ہے کہ ابھی انہوں نے یہ نہیں کیا ہو گا۔ پھر ان سے کہیں کہ وہ آپ کی الوداعی دعوت کے لیے ایک شام ضرور محفوظ رکھیں۔ وہ احتجاج کریں گے اور کہیں گے کہ وہ ایسی دعوتیں قبول کرنے کے عادی نہیں ہیں۔
لیکن آپ اصرار کیجیئے اور کہیے کہ انہیں حقیقی قدر دانوں اور خوشامدیوں میں فرق کرنا چاہیے۔ دعوت کے لیے کوئی دن مقرر نہ کیجیئے، بس یہ کہہ دیجیئے کہ تاریخ مقرر کرنے کے لیے آپ دوبارہ آئیں گے۔ اس کے بعد آپ ضمانت والی درخواست پیش کر دیجیئے۔ دوسرے دن دوسری درخواست اور جب تک وہ اپنے عہدے کا جائزہ نہ دے دیں آپ یہی کیے جائیے۔ جب وہ جانے لگیں تو آپ ان کے پاس ایک ہار لے کر پہنچ جائیے جس میں اتنے ہی پھول ہوں جتنی انہوں نے آپ کی ضمانت کی درخواستیں منظور کی تھیں۔ پھر گلے میں ہار ڈال کر ٹھنڈی آہ بھر کر کہیے، افسوس میری ایسی قسمت نہیں تھی کہ میں آپ کو ڈنر دے سکتا اس محرومی کا ملال تا عمر رہے گا“ ۔
۔ یہ واقعہ میں ایک دو بار اس سے پہلے بھی سنا چکا ہوں۔ لیکن چونکہ اس کا تعلق میرے جہلم کے دوران قیام سے ہے لہٰذا اس پر آپ کو ایک طرح کا کاپی رائٹ حاصل ہے اور میں اسے تیسری بار بھی سناؤں گا۔ گورنر نے کہا میں تمہاری خفیہ رپورٹوں سے کچھ حصے پڑھ کے تمہیں سناتا ہوں۔ انہوں نے ضلع اٹک کی ایک رپورٹ سنائی۔ بہت خراب فیصلے لکھتا ہے، پرمذاق بننے کی کوشش کرتا ہے اور اکثر مضحکہ خیز بن کر رہ جاتا ہے۔ میں یہ سن کر خاصا پریشان ہوا۔
لیکن میں مسکرایا بھی کیونکہ میں اس بیانیہ صلاحیت کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا جس میں نا اہلی کی اتنی بڑی مقدار ایک ہی جملہ میں سمو دی گئی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ گورنر نے بھی اسے میری طرح پسند کیا ہو گا کیونکہ جب میں نے پوچھا کی اس رائے کا مصنف کون ہے تو بولے یہ میں تمہیں نہیں بتاؤں گا۔ بہر حال ہم اس قسم کی ابتدائی آراء کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ”
۔ لاہور سے آئے ہوئے ایک ایڈووکیٹ کی خاطر میں نے اتوار کے دن بھی دلائل سنے۔ دمے کی وجہ سے جب میں ایک پرسکون نیند سے محروم ہو گیا تو میں نے بستر میں لیٹے لیٹے چونسٹھ صفحات پر مشتمل ایک فیصلہ بھی لکھ ڈالا۔ میں نے مدعی کی طرف سے پیش کردہ فیصلے اپنے بستر کی داہنی طرف اور مدعا الیہ کی طرف سے پیش کردہ فیصلے بائیں جانب رکھے۔ اس طرح مدعا الیہ جیت گیا۔ ہم پر اثرانداز ہونے کے لیے ان لوگوں کے طریقے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ اگر انہیں یہ معلوم ہو کہ میں اپنے بستر پر داہنی طرف سے جاتا ہوں تو یہ میرے نوکر کو ٹپ دیتے ہیں کہ میں ان کے مقدمے کی فائل دائیں طرف رکھ دوں۔ گوجرانوالہ میں فوجداری مقدمات کے فریق جمعہ کی پیشی کے خواہش مند ہوتے تھے کیونکہ ان کو یقین تھا کہ اس دن میں بری کرنے پہ مائل ہوتا ہوں۔ ”
”۔ کسی مذاق کو بہت دور تک بھی نہ لے جائیے۔ اس پٹھان کی طرح جس نے ایک گھوڑا چرایا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ پٹھان نہیں سکاچ تھا۔ ہمارے ججوں میں ایک صاحب سکاچ بھی ہیں اور ایک پٹھان بھی، لہٰذا اس سے فرق نہیں پڑتا۔ چور بیس میل کے فاصلے پر گھوڑے سمیت پکڑا گیا۔ اس کے وکیل نے اسے یہ کہنے کا مشورہ دیا کہ وہ مذاق کر رہا تھا۔ مجسٹریٹ نے اس کے مذاق کو سراہتے ہوئے لکھا، مذاق کو بہت دور تک لے جانے کی سزا دو سال“ ۔
۔ اب پشاور کے ایک وکیل صاحب کا قصہ سنیئے۔ وہ کوہاٹ کے بار روم میں گئے تو دیکھا وکلاء آرام سے بیٹھے دھوپ تاپ رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا آپ لوگوں کے پاس کوئی کام نہیں ہے کیا؟ جواب ملا جب پٹھان غیرت سے اتنا محروم ہو جائے کہ وہ گالی کا جواب صرف گالی سے دینے پہ اکتفا کرے اور اس کی بندوق گھر کے اندر زنگ کھاتی رہے تو پھر بار ایسوسی ایشن کو دھوپ تاپنے کے علاوہ کیا کام ہو سکتا ہے ”۔
معزز قارئین امید ہے کہ یہ اقتباسات پڑھنے کے بعد اس مضمون کے ابتدائیہ میں مولانا حالی کی مرزا غالب کے لیے حیوان ظریف کی ترکیب کا استعمال کا ذکر اور میرے دعوے کے تحت اس کی ایم آر کیانی کی تحریر و تقریر کے معاملے میں ویسی ہی موافقت، آپ کو مبنی بر دلیل لگی ہو گی۔
1962 میں پنشن یاب ہونے کے تقریباً ایک ماہ بعد آپ مشرقی پاکستان کی بار ایسوسی ایشنز کی دعوت پر چٹاگانگ میں تھے کہ 15 نومبر 1962 کی رات چٹاگانگ ریسٹ ہاؤس میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ صبح کی تقریب کے لیے ان کی ادھوری لکھی ہوئی تقریر ان کے سرہانے کے قریب رکھی میز پر پائی گئی۔
رہنے کو صدا دھر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی


