نوکری میں پسندیدہ کون


کچھ عرصہ پہلے ہم ایک مضمون میں دفتر کی سیاست پر مختصر سی گفتگو کر چکے ہیں۔

آج ہم بات کریں گے کہ دفاتر میں پسند اور ناپسند کا تصور کیا ہے اور بے جا طرف داری کیوں کی جاتی ہے۔ دراصل بغیر وجہ کی جانے والی طرف داری یا جانب داری کا تعلق کارکردگی سے نہیں ہوتا ہے۔ اچھے سے اچھے اور بڑے سے بڑے ادارے میں چلے جائیں، آپ کو پسندیدہ افراد تلاش نہیں کرنے پڑیں گے اور ان کو یہ اعزاز بخشنے والے بڑے بڑے نمازی جائے نماز پر کھڑے نظر آ جائیں گے جو خوف خدا سے عاری خود کو راہ راست پر سمجھتے ہوئے دفاتر میں سیاست کو پروان چڑھاتے ہیں اور بہت سارے لوگوں کا حق مارتے ہیں۔

آدمی، آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے
کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر

خواہ آپ ایچ آر میں ہوں یا کسی اور ڈپارٹمنٹ میں، سینئر لیول پر ہوں یا پھر ایک عام سے ملازم، کسی نہ کسی موقع پر پسند نا پسند کا شکار ہونا پڑتا ہے۔

ایک ایسی دفتری صورت حال جب ادارے کا سینئر افسر اپنے ماتحت ملازمین میں سے کسی ایک یا کچھ خاص افراد کو زیادہ اہمیت دے یا فائدہ پہنچائے تو اس کو انگریزی میں فیورٹ ازم اور اردو میں بے جا طرف داری، پسند نا پسند یا جانب داری کہا جاتا ہے۔ اس معاملے میں ذاتی دوستی، تعلق یا مشترکہ سوچ کا اہم کردار ہوتا ہے۔

آئیں دفتر میں طرف داری کے نقصانات پر کچھ بات کر لیتے ہیں۔ بے جا طرف داری کرنے والے سینئر افسران کے لئے عزت میں کمی، متاثرین میں مایوسی کی کیفیت، کام کی طرف توجہ میں کمی، بہتر کام کے لئے جذبہ میں کمی نمایاں ہیں جن سے ادارے کی ترقی کی رفتار بھی یقینی طور پر متاثر ہوتی ہے۔ پسند نا پسند والا ماحول ملازمین کو مجبور کر رہا ہوتا ہے کہ وہ کسی اور نوکری کی تلاش میں مصروف ہو جائیں۔

جب آپ کا اپنا بوس آپ کو نظر انداز کرے یا آپ کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے آپ کے ساتھ بات چیت نہ کرے تو یہ تشویش کا باعث ہوتا ہے اور اس کے نتائج منفی اور دور رس ہوتے ہیں۔

بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی میٹنگ میں آپ کوئی رائے دیں اور آپ کا بوس آپ کی رائے کو نظر انداز کر دے، کچھ دیر کے بعد وہی رائے آپ کا کولیگ دے تو اچھا مشورہ کہہ کر اس کی تعریف کی جائے، اگر ایسا ہے تو سمجھ لیں کہ دال کالی ہے۔

نوکری پیشہ افراد کو ایسی یا ملتی جلتی صورت حال کا کبھی نہ کبھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بوس کا کسی بھی شکل میں اپنے کسی ماتحت کو نظر انداز کرنا بے عزتی کی ایک بڑی قسم ہے۔ بہت سارے نوکری پیشہ افراد ایسے ہیں جو کسی تعریف یا اسناد سے زیادہ عزت کو اہم سمجھتے ہیں جو کہ اچھی سوچ ہے۔

فیورٹ ازم والے ماحول میں ایک بوس کے ماتحت مختلف لوگوں کے ساتھ الگ الگ سلوک ہوتا ہے، کوئی اپنی بہترین قابلیت اور تجربے کے باوجود نظر انداز کیا جا رہا ہوتا ہے تو کوئی ملازم اپنے بوس سے قربت کے طفیل ترقیاں یا فوائد سمیٹ رہا ہوتا ہے۔

لوگ نظروں کو بھی پڑھ لیتے ہیں
اپنی آنکھوں کو جھکائے رکھنا

اگر آپ ایسی صورت حال میں پھنسے ہوئے ہیں تو نوکری تبدیل کرنے سے پہلے حالات کی بہتری کے لئے کچھ کوشش ضرور کریں۔ اپنے سینئر افسر سے براہ راست بات چیت کرنا ضروری ہے، اگر ممکن نہ ہو یا بوس کی طرف سے سخت رد عمل کا امکان ہو تو اپنے ادارے کے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ میں کسی ذمہ دار افسر سے ضرور مشورہ کریں، ہو سکتا ہے یہ سب کرنے سے مسئلہ حل ہو جائے، اگر آپ کی مخالفت میں سب لوگ شامل ہوں اور بات چیت سے معاملات مزید خراب ہو رہے ہوں تو ایسی صورت میں نوکری کو تبدیل کرنے میں دیر نہ کریں۔

ہمیشہ کوشش کریں برے افسر کے بارے میں اپنے خیالات اور جذبات کا دوسرے ساتھیوں کے ساتھ یا محفل میں اظہار نہ کریں، اس سے حالات میں مزید بگاڑ آ سکتا ہے۔ ایک بات کا خیال رکھیں کہ کسی کے غیر اخلاقی عمل کا جواب غیر اخلاقی عمل یا حرکت سے نہ دیں۔

ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کے لئے ضروری ہے کہ کسی دباؤ میں نہ آیا جائے اور ادارے کی بہتری اور ملازمین کے جائز حقوق کے لئے ان کی مدد کی جائے۔

جب لیڈرز اور پیپل مینیجرز کی ٹریننگز رکھی جائیں تو فیورٹ ازم یا طرف داری کے موضوع کو خاص طور پر شامل کریں۔

گمنام سروے بہت اہم ہوتا ہے جس سے ملازمین کا اعتماد، حقائق اور معلومات کا حصول آسان ہو جاتا ہے اور اس پر ایمانداری سے کام کرنے سے بہت سارے مسئلے حل بھی ہو جاتے ہیں۔

اگر آپ افسران بالا میں شامل ہیں تو ضروری ہے کہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ رویے اور سلوک میں توازن رکھیں۔ اگر کسی ذاتی پریشانی میں مبتلا ہیں تو اپنی گھریلو پریشانیوں کو دفتر میں ساتھ نہ لائیں۔ اگر دفتر میں کام کا بوجھ زیادہ ہے تو اپنے عہدہ کے تقاضے کو ذہن میں رکھتے ہوئے پریشر سے خود کو نکالیں، ٹریننگز کا سہارا لیں، اور اگر کوئی ماتحت اچھی کارکردگی کے باوجود نا پسند ہے تو اس کی توہین نہ کریں، اپنے غلط عمل پر غور کریں اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ کریں۔ اس وقت سے ڈریں جب آپ کی جواب دہی ہونی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اچھی کارکردگی پر ایمانداری کے ساتھ اپنے ماتحتوں کو سراہنا نہ بھولیں اور ذاتی پسند یا نا پسند کے ذریعے کسی کو جانچنا ابھی سے چھوڑ دیں۔

سنتے ہیں ایسا زمانہ بھی یہاں گزرا ہے
حق انہیں ملتا جو حق دار ہوا کرتے تھے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments