مملکت جنگلیہ میں ٹارزن کی واپسی

”جلد از جلد الیکشن کروا کے مجھے جتوایا جائے اس کے بعد مجھے صدر مملکت، وزیراعظم، فیلڈ مارشل، چیف آف آرمی سٹاف، چیف آف ائر سٹاف، چیف آف نیول سٹاف، چیف جسٹس، وفاقی محتسب، چیئرمین پی آئی اے، چیئرمین ریلوے، چئیر مین واپڈا، چئیر مین نیب، آڈیٹر جنرل اور چیف الیکشن کمشنر مانا جائے۔ اس کے علاوہ تمام وفاقی وزرا، صوبائی وزراء اعلی اور گورنر حضرات کے اختیارات بھی مجھے تفویض کیے جائیں“ ۔ ٹارزن نے مملکت جنگلیہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا اور پوچھا ”اور کوئی رہ تو نہیں گیا“ اس پر جہلم سے آئے ہوئے اس کے دل پسند منکو نے کہا ”کرکٹ۔“ ٹارزن نے فوراً منکو کا فقرہ اچکتے ہوئے اسے اپنے کندھے پہ بٹھایا اور کہا، شاباش منکو۔ میں تو بھول ہی گیا تھا۔ اس میں کرکٹ بورڈ کا سربراہ بھی شامل کریں۔
اس موقع پر ایک گھاگ صحافی نے ٹارزن سے پوچھا ”ایک طرف تو آپ تقسیم اختیارات کی بات کرتے ہیں دوسری طرف جنگل کے سارے اختیارات اپنی ذات میں مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟“ اس پر ٹارزن پہلے تو منکو سے گلہ کیا کہ اس طرح کے مشکل سوالات کا انہیں پہلے سے کیوں نہیں بتایا گیا۔ پھر انہوں نے مذکورہ صحافی کو یوں مخاطب کیا ”اوئے جعفر میر اس وقت تم کہاں تھے جب سفاک شکاریوں نے ہانکا کر کے پہلے تو مجھے تنہا کیا اور پھر اقتدار سے بے دخل کر دیا؟ میں نے اپنے ہمدرد جانوروں کو بلانے کے لئے کتنی ہاہو کار کی اور مخصوص آوازیں بھی نکالیں مگر سوائے مگر مچھ کے آنسو نکلنے کے کسی پر کچھ بھی اثر ہوا؟ پھر تم غداروں نے بھی منفی رپورٹنگ کی انتہا کر دی اور یہاں تک لکھا کہ ٹارزن کو نکالتے ہوئے اسے طمانچے مارے گئے اور اس پر تشدد بھی کیا گیا۔ حالانکہ مجھے طمانچے نہیں مارے گئے تھے بلکہ پیار سے گالوں پہ چپت لگائی گئی تھی اور حوصلہ افزائی کے لئے پہلو میں چھڑی سے ہلکا سا ٹہوکا دیا گیا تھا جس کی تصویر یا ویڈیو بھی شاید ہانکا کرنے والوں کے پاس کہیں محفوظ ہو ”۔
انہوں نے مزید کہا ”جعفر میر یہ شہر نہیں جنگل ہے جنگل۔ یہاں جنگل کا قانون ہی چلے گا۔ پہلے میں سارے اختیارات لوں گا۔ پھر آہستہ آہستہ دوسروں کو دوں گا“ ۔ اس کے بعد ٹارزن کے ہمدرد صحافی خلیفہ رشید بغدادی نے سوال پوچھا کہ آخر ہانکا کرنے والے ان کے اتنے خلاف کیوں ہو گئے جبکہ محض تین سال پہلے وہی تو ٹارزن کو ٹارزن بنوا کر لائے تھے؟ اس المیہ سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹارزن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ ہچکیاں لیتے ہوئے یوں گویا ہوئے۔
”جب ہم نے عوامی فرمائش پر مملکت جنگلیہ کے سب سے بڑے جنگل میں ایک انتہائی شریف النفس زیبرا کو زیبرا پلس کا خطاب دے کر نائب ٹارزن لگایا تو وہیں سے اختلافات شروع ہو گئے تھے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ ان کے زیبرا کی وہ عزت و توقیر نہیں کی گئی جس کا وہ مستحق تھا۔ ہانکا کرنے والوں نے کبھی بھی اس کی غیر معمولی صلاحیتوں کا اعتراف نہیں کیا بلکہ ہر وقت دانستہ اور غیر دانستہ طور پر اس کی ذات پہ کیچڑ اچھالا گیا۔ حتی کہ سرکاری میٹنگز میں بھی اسے زیبرا پلس کہنے کی بجائے لکیروں والا کھوتا کہہ کہہ کر بلایا جاتا رہا۔ جس سے زیبرا پلس کی حیثیت عرفی کو سخت نقصان پہنچا۔ ہم نے اس پر بھی صبر کیا۔ مگر ہانکا کرنے والے کبھی راضی نہ ہوئے“ ۔
ٹارزن کا جواب سن کر پریس کانفرنس کا ماحول سوگوار ہو گیا۔ چنانچہ محفل کا دل برما نے کے لئے مشہور صحافی اور ٹارزنی کارناموں کے مداح، جناب حاضر ناظر نے میانوالی کے سریلے تیتر کو بلایا اور اس کی فرمائش پر سریلے تیتر نے ”جب آئے گا ٹارزان۔ بنے گا نیا جنگلستان“ گا کر محفل لوٹ لی۔
جب سوالات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تو ایک شرارتی صحافی نے ٹارزن سے پوچھا کہ گوگی نامی چڑیا سے ان کا کیا تعلق ہے اور کیا وہ اس چڑیا کے کارناموں اور ملک عربستان کی طرف اس کی اڑان کے بارے میں آگاہ ہیں؟ اس کے جواب میں ٹارزن نے فرمایا ”گوگی کو کچھ نہ کہا جائے۔ گوگی معصوم ہے کیونکہ وہ لیڈی ٹارزن کی دوست، ہمدم دیرینہ اور محرم راز ہے“ ۔ جب اس صحافی نے گوگی سے ان کے تعلق کو مزید کریدا تو ٹارزن غصے میں آ گئے، ان کی بھنویں تن گئیں اور انہوں نے گوگی سے اپنا تعلق سمجھانے کے لئے شرارتی صحافی کو ایک پرانی مگر اصلاحی انڈین فلم ”ساجن کی سہیلی“ دیکھنے کا مشورہ دیا۔
اس موقع پر پریس کانفرنس میں کچھ متفرق سوالات بھی ہوئے۔ ٹارزن نے حال ہی میں اپنے گم جانے والے سیل فون کے حوالے سے تنبیہ کی کہ اس ضمن میں بے پر کی نہ اڑائی جائے اور بے سروپا افواہوں سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے نوکیا موبائل ماڈل 6131 لہراتے ہوئے چیلنج کیا کہساری دنیا دیکھ سکتی ہے کہ میرا موبائل میرے پاس ہے۔ میرے پاس جو سمارٹ فون تھا وہ نہ تو چوری ہوا اور نہ ہی گم ہوا بلکہ یوں لگتا ہے کہ جس کا فون تھا وہ پہچان کر واپس لے گیا۔ جب سے میں نے دوست عرب حکمران شیخ قاتل بن مقتول بن ظالم بن مظلوم کی تحفہ میں دی ہوئی گھڑی بیچی ہے۔ کچھ بے شرم لوگ نیچ حرکتوں پر اتر آئے ہیں اور آنے بہانے اپنے دیے تحفے پہچان کر واپس لینے آ رہے ہیں۔ میں پروٹوکول کا آدمی نہیں مگر ان بد لحاظ لوگوں کی وجہ سے مجبوراً اپنے کپڑوں اور جوتوں کی سیکورٹی بڑھائی ہے ”فارن فنڈنگ کیس کے بارے میں سوال ہوا تو ٹارزن سے پہلے ہی منکو نے جواب دیتے ہوئے کہا یہ سوال اصل موضوع سے ہٹ کے ہے اور اس کا ٹارزن کی ازلی دیانت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے اس سوال کا جواب وہ بعد میں ذرا ہٹ کے دیں گے۔
اس کے بعد ٹارزن نے دھمکی دی کہ اگر ان کے مطالبات کو من و عن تسلیم نہ کیا گیا تو وہ مملکت جنگلیہ میں شیروں کی کچھار کے عین سامنے دھرنا دیں گے اور شیروں کی سماجی اور ازدواجی زندگی تباہ کر کے رکھ دیں گے۔ ٹارزن نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ مجھے جنگل سے نکالا گیا تو میں اور خطرے ناک ہو جاؤں گا۔ میں کسی صورت بھی باگڑ بلوں کی امپورٹڈ حکومت تسلیم نہیں کروں گا۔ انہوں نے ہانکا کرنے والوں سے درخواست کی کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کر کے اسے درست کریں اور انہیں دوبارہ دس سال کے لئے ٹارزن بنایا جائے۔
آخر میں ٹارزن جذباتی ہو گئے جب انہوں نے جنگل میں ”گورا“ نامی یورپی مخلوق کی بیرونی سازش اور مداخلت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا مجھے کہا گیا کہ یہاں چڑیوں کا شکار کرنے کی اجازت دی جائے، پر میں نے کہا ایبسولوٹلی ناٹ۔ اس وقت سے میرے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ جنگل پر بننے والی ہر یورپی فلم میں میری کردار کشی کی جاتی ہے۔ پوری پوری فلم میں مجھے ایک چڈی میں ملبوس دکھایا جاتا ہے۔ جبکہ میں اکثر شلوار قمیض پہن کے درخت اور دیوار پھلانگتا ہوں۔ مجھے بد نام کرنے کے لئے طرح طرح کی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ ان ویڈیوز میں ولایتی کی بجائے دیسی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔ تمام کارکن ہیش ٹیگ # امپورٹڈ ٹیکنا لو جی نامنظور # کے ساتھ ٹویٹ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں فلمیں بننے یا ریلیز ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ وہ تو تحریک عدم اعتماد کی طرح ہر روز ویڈیوز کے سامنے آنے کی خود دعائیں مانگ رہے ہیں اور شدت سے منتظر ہیں۔ عید الفطر کے پر مسرت موقع پر آٹھ فلموں کی بیک وقت ریلیز ان کے لئے بڑا اعزاز اور ان کی طرف سے قوم کو ایک تحفہ ہے۔ انہیں مزید شہرت کی تمنا نہیں۔ تاہم وہ اتنا ضرور چاہتے ہیں کہ ان کی جو فلم بھی ریلیز ہو اس کی کمائی میں سے ان کو اور دوسرے بے زبان اور خاموش اداکاروں کو مناسب رائلٹی ضرور دی جائے۔
ٹارزن نے فنکاروں کے حقوق کے لئے ہر فورم ہر آواز اٹھانے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا ”ہم کوئی غلام ہیں؟“ یہ ہمارا جنگل ہے، ہم جیسے چاہیں گے ویسے رہیں گے۔ اس پر تمام جانوروں بشمول دولے شاہ کے چوہوں نے خوب تالیاں بجائیں۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر پنڈی کے ایک سانڈ نے ڈی جے کا رول ادا کرتے ہوئے ”ٹارزن کی خونی واپسی“ نامی تھیم سانگ گایا۔

