کس کس کی ساکھ داو پر ہے

میری نظر میں اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کی تباہ حال معاشی صورتحال، سیاسی عدم استحکام، ناکام داخلہ و خارجہ پالیسیوں کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر ادارے اپنے اپنے کام چھوڑ کر دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑاتے ہیں اور آئین میں دیے گئے اختیارات پر اکتفا نہیں کرتے۔ بڑے بڑے عہدوں پر براجمان شخصیات اپنے آپ کو ملک و قوم کے لئے ناگزیر سمجھتے ہیں اور اپنے ہر فیصلے کو دوسروں پر غیر آئینی طور پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں جس نے ستر کی دہائی میں دو ٹکڑے ہونے کے بعد بھی ایک ترقی پذیر ملک کو زوال پذیر بنا دیا اور آج کی قومی تقسیم پولرائزیشن سیاسی اور معاشی عدم استحکام اور انارکی اسی آمرانہ سوچ اور کردار کا نتیجہ ہے۔
گزشتہ مہینے عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد بھی ملک میں جاری عدم استحکام اور جگہ جگہ آئینی و سیاسی بحران سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ بعض آئینی اداروں کے کردار پر سوالات اٹھانے کے لئے کافی ہے۔ مثلاً ایک طرف یہی سپریم کورٹ پونے چار سال تک سابقہ حکومت کی تمام تر من مانیوں پر خاموش تماشائی بنی رہی، سابق ڈی جی آئی بی آن دی ریکارڈ وزیراعظم ہاؤس کی غیر قانونی ہدایات اور سیاسی مخالفین پر سیاسی کیسز بنانے کا واویلا کرتا رہا مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، چیئرمین نیب کا یہ انٹرویو آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ اگر میں چند ایک حکومتی عہدیداروں پر ہاتھ ڈالوں تو حکومت گر جائے گی، مگر بعض دوسرے اداروں کی طرح عدلیہ بھی لاڈلے حکومت کو گرنے سے بچانے کے لئے خاموش رہی۔
مگر آج جب دس پارٹیوں کی ایک کمزور مگر قومی حکومت اپنے سیاسی کیسز کی تپش کم کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے تو سپریم کورٹ سو موٹو نوٹس لے کر اسے ہاتھ پاؤ مارنے کی اجازت بھی نہیں دیتی ہے۔ موجودہ حکومت کو اگر ایک طرف صدر پاکستان سابق گورنر پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے عدالتی استثناء کی آڑ میں غیر آئینی مشکلات کا سامنا ہے تو دوسری جانب اسے عدلیہ کی جانب سے وہ خاموش ریلیف بھی نہیں مل رہی ہے جو سابقہ حکومت کو بدرجہ اتم ملی ہوئی تھی۔
اسی طرح سپریم کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 63 کی تشریح کو بھی بعض آئینی ماہرین، تشریح سے زیادہ ترمیم سمجھتے ہیں کیونکہ بقول ان کے ایک منتخب ممبر کے ڈالے ہوئے ووٹ کو نہ گننا نہ صرف توہین آمیز بلکہ آئین کی روح کے خلاف ہے۔ اس لئے دست بستہ عرض ہے کہ آج تو صرف مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز نے سپریم کورٹ کے سوموٹو نوٹس کے خلاف مودبانہ بات کی ہے مگر خبردار ضرور کر دیا ہے کہ موجودہ افراتفری کی صورتحال میں سپریم کورٹ کی ساکھ بھی داؤ پر ہے۔ احتیاط ضروری ہے۔
سیاسی جماعتوں کی ساکھ تو ہمیشہ سے داؤ پر ہوتی ہے کیونکہ انہیں لاکھوں کروڑوں مخالفین کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ انہیں اپنے منشور اور بلند و بانگ دعووں کو پورا کرنا ہوتا ہے اور عوام کو ریلیف دینا ان کی مجبوری ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت بھی بعض نادیدہ مجبوریوں کی وجہ سے بے وقت کی راگنی کی طرح اقتدار کی راہداریوں میں کھو گئی۔ انہیں اس بات کا احساس کرنا چاہیے تھا کہ فیک نیوز پروپیگنڈا، ٹویٹر ٹرینڈز، بیانیہ، فوٹو شاپ اور ویڈیو ایڈیٹنگ کے جدید دور میں منٹوں میں پانسا پلٹ جاتا ہے۔ جن لوگوں نے انہیں سبز باغ دکھا کر اقتدار میں آنے پر مجبور کیا۔
اس لئے ایسے لگتا ہے کہ تمام حکمران جماعتوں کی ساکھ تجربہ اور دانش بھی داؤ پر لگی ہے۔ انھوں نے ایک ایسے دور میں اقتدار کا کڑوا نوالہ منہ میں ڈالا ہے جو اب نہ اگلا جا سکتا ہے نہ نگلا جا سکتا ہے۔ ایک طرف عوامی مشکلات متوازن بجٹ، انتخابی اصلاحات اور آئندہ انتخابات کو مد نظر رکھنا ہے دوسری طرف معیشت اور ریاست کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کی فکر دامن گیر ہے۔ جبکہ تیسری طرف سابقہ حکومت کو لانے اور تعاون کرنے کے ذمہ دار لوگ موجودہ حکومت کے ساتھ وہی تعاون کرنے اور قومی ذمہ داری اٹھانے میں کندھا دینے کو تیار نہیں۔
ایسی صورتحال میں دوسروں کا گند اپنے کندھوں پر لینے کی بجائے شہباز شریف کے لئے بہترین رستہ یہی ہے کہ جو لوگ ان کے اقتدار میں خود پیچھے رہ کر ماضی کی طرح مزے تو لینا چاہتے ہیں مگر ذمہ داری نہیں، شہباز شریف صاحب استعفی دے کر انہیں خود براہ راست حکومت سنبھالنے یا کسی اور کے حوالے کرنے کا موقع دے۔ کیونکہ یہ ہر ایک کو معلوم ہے کہ موجودہ وقت میں پاکستان کی حکمرانی کانٹوں کا بستر ہے پھولوں کی سیج نہیں۔
الیکشن کمیشن کی ساکھ تو پچھلے آٹھ سال سے سوالیہ نشان ہے کہ درجنوں کیسز کو نمٹایا جاتا ہے مگر پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کیس نادیدہ وجوہات کی وجہ سے ابھی تک التوا کا شکار ہے۔ اگر آئندہ انتخابات سے پہلے اس کیس کا فیصلہ نہیں آتا ہے تو اس الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات بھی سوالیہ نشان ہوں گے ۔
جہاں تک مقتدر قوتوں کے کردار کا تعلق ہے۔ ان کا نیوٹرل اور غیر سیاسی رہنا صرف باتوں سے ثابت نہیں ہو گا۔ انہیں اپنے کردار سے ثابت کرنا ہو گا اور اپنے ماضی کی داغدار تاریخ کو روشن مستقبل میں بدلنا ہو گا۔ دور جانے کی ضرورت نہیں دو ہزار تیرہ سے لے کر اب تک نو سالوں میں چار حکمران تبدیل ہوئے مگر کسی ایک کے ساتھ بھی ان کی رفاقت کامیاب نہ ہو سکی۔ یہ حقیقت بذات خود ان کے کردار مزاج اور ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔ کیا اس کے بعد بھی کوئی سیاسی لیڈر ان کے ساتھ کام کرنے اور ان پر اعتماد کر کے ادھورے اقتدار میں آنے کا رسک لے گا۔

