ایک کہانی سنو


ایک بادشاہ تھا۔ ارے نہیں صاحب آپ نے جیسا سن رکھا ہے یہ ویسا بادشاہ نہیں تھا۔ بیچ میں نہیں ٹوکتے، جب کوئی بات کر رہا ہو بیچ میں نہیں بولنا چاہیے بری عادت ہے۔ اس عادت کو فی الفور ترک کر دیجیے گا۔ ہاں تو میں بادشاہ کی کہانی سنا رہا تھا۔ بادشاہ کے پاس نرالی شان، دبدبہ، مرتبہ، جائیداد، جاگیر کچھ بھی تو نہ تھا۔ ہاں اتنا ہے کہ بادشاہ صاحب اولاد اور خوشحال تھا اور بظاہر سخی، متقی اور پرہیز گار بھی تھا یہی وجہ ہے کہ بادشاہ بظاہر خوش تھا۔

ہر شے جو نظر آتی ہے ضروری نہیں کہ وہ ویسی ہی ہو جیسی ہماری کوتاہ نظر اسے دیکھتی ہے۔ جہاں تک ہماری نظر جاتی ہے اس سے آگے بھی ایک وسیع دنیا ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ بادشاہ کو نہ کوئی غم تھا نہ کوئی پریشانی، ہشاش بشاش اور خوش و خرم تھا۔ دن بھر محنت مشقت کرتا تھا اور رات کو گھوڑے بیچ کر سو جاتا تھا۔ انسان کی صحت اس کے اختیار میں ہوتے ہوئے بھی آزاد ہے اور یہ کسی کو خبر نہیں کہ صحت کا تیز رفتار گھوڑا کب گھٹنوں کے بل گرے۔

بادشاہ کا کبھی کبھار بلڈ پریشر ہائے ہوتا تھا اور کبھی بدہضمی ہوتی تھی۔ نزلہ زکام بھی لگا رہتا تھا۔ کبھی کبھار پیٹ درد، سر درد اور کھانسی سے بھی برا حال ہوتا تھا۔ اللہ بڑا ہی مہربان اور رحم والا ہے۔ اللہ نے بادشاہ کو اولاد کی نعمت سے محروم نہیں رکھا تھا یہی وجہ ہے کہ بادشاہ پیروں، فقیروں کے پاس بھی نہیں گیا۔ خدا نے اپنے سارے ارادے بدل دیے تھے اب وہ اپنے محبوب بندوں کو آزمائش میں نہیں ڈالتا تھا اور نہ ہی بادشاہوں کو اولاد کی نعمت سے محروم رکھتا تھا بلکہ اگر کسی گناہ گار کو سزا دینی مقصود ہوتی تو اسے اکیسویں صدی میں پیدا کر دیتا تھا۔ اکیسویں صدی یعنی جہنم کا نمونہ۔ مہنگائی، ملاوٹ، ابتر حالات، بے روزگاری، جھوٹ، دھوکہ بازی، رشوت خوری، بے حیائی سب کچھ اس صدی میں کھلے عام ہوتا تھا۔ بھروسا دفن ہو گیا تھا اور مذہب اخلاقیات، انسانیت، جذبہ ہمدردی اور لوگ کے کام آنے کا ولولہ اور جوش ختم ہو گیا تھا۔ نہ کسی کو خوف تھا اور نہ ہی کوئی ڈرتا تھا۔ سب کچھ بدل گیا تھا یہاں تک کہ پیر فقیر بھی بدل چکے تھے اور اس کا خدا کو علم تھا کہ پیر فقیر اب ویسے متقی اور پرہیزگار نہیں رہے بلکہ کاروباری ہو گئے ہیں۔ اس لیے بادشاہ کو اولاد کی نعمت سے تو نوازا پر اور نعمتوں سے محروم رکھا۔

صحت کی نعمت کسی کے پاس نہیں تھی، رعایا ہو یا بادشاہ ساری خلقت بیمار تھی۔ کوئی جسمانی تو کوئی ذہنی بیمار تھا۔ ایک اور مصیبت یہ تھی کہ ہر چیز میں ملاوٹ تھی۔ سچ پوچھو تو اسی ملاوٹ نے بادشاہ کی صحت اور رعایا کو بیمار کیا تھا۔ انسانیت ہی میں ملاوٹ نہیں تھی بلکہ ہلدی سے لے کر چائے تک، دودھ سے لے کر شکر تھا ہر شے کو ملاوٹ نے زہر بنا دیا تھا۔ آدم کی آنکھیں پیاسی اور دل لالچی تھا۔ سب کا دین دھرم پیسہ بن گیا تھا۔

حلال حرام دونوں کمائی کے میدان میں تماشائی بن کر تماشا دیکھ رہے تھے۔ جس کا جیب بھاری تھا اس کی بات میں وزن، کردار میں کشش اور لوگوں میں عزت تھی۔ تو میں کہہ رہا تھا کہ جب بھی بادشاہ بیمار ہوتا تھا تو فوراً ڈاکٹر کے پاس جاتا تھا۔ وہاں صبح سے لے کر شام تک ڈاکٹر کا انتظار کرنا پڑتا تھا لیکن بادشاہ کی باری نہیں آتی تھی۔ بادشاہ کو سر درد ہوتا، پیٹ درد یا آنکھ، ناک، کان میں درد ہوتا تو الگ ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا تھا کیونکہ ترقی ہو گئی تھی اور ہر عضو کے لیے الگ الگ ڈاکٹر میسر تھا۔

ڈاکٹر ہی الگ نہ تھا بلکہ ہر ڈاکٹر کے ساتھ ایک دکان تھی جہاں سے مریض جدا جدا قسم کی دوائی خرید کر لے جاتا تھا۔ بادشاہ بیمار ہو کر بھی اس خوف سے بیماری کا علاج نہیں کرتا تھا کہ اگر ڈاکٹر کے پاس گیا تو عظیم اور نامور ڈاکٹر صاحب نہ قلم کی روانی اور نہ کاغذ کی تنگ دامنی کا خیال رکھے گا بلکہ بادشاہ کو دوائی کا بڑا سا تھیلا خرید کر لانا پڑے گا جو ہزاروں میں پڑے گا مگر افاقہ نہ ہو گا۔ بیماریوں کا خوف ختم ہو گیا تھا البتہ ڈاکٹروں کا خوف بادشاہ پر ویسے ہی طاری تھا جیسے اس قیدی کو جلاد کا خوف ہوتا ہے جس کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہو۔

ڈاکٹر کے بجائے بادشاہ حکیم صاحب کے پاس جاتا مگر حکیم صاحب نے حکمت کو چھوڑ کر کاروبار جمایا تھا۔ شفا غائب تھی ہاں دوائیوں کی خرید و فروخت زور و شور سے ہو رہی تھی۔ مریض حکیم صاحب کے پاس بیماری لاتے تھے حکیم صاحب بیماری واپس کیے دیتے تھے اور ساتھ میں تین چار ہزار کے مشوروں اور دو تین ہزار کی دواؤں سے نوازتے۔ بچارے غریب مر جاتے تھے لیکن ڈاکٹر کے پاس جانے سے گریز ہی کرتے تھے۔ غرض بادشاہ کو سو طرح کی پریشانیاں اور مسائل تھے۔

صرف بادشاہ کی حالت ہی غیر نہ تھی بلکہ قوم کی حالت بھی ابتر تھی۔ سب خواب خرگوش میں پڑے اونگھ رہے تھے۔ کوئی بیدار ہوجاتا تو اس کے سر پر ویسے ہی وار کیا جاتا جیسے مچھلی کو بے ہوش کرنے کے لیے سر پر مارا جاتا ہے۔ چار طرف مہنگائی کی آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے عقل مندو! مہنگائی کے دور میں جینا کتنا مشکل ہے یہ خود بھی اندازہ کر لو۔ بادشاہ کو مسائل اور پریشانیوں کا سامنا تو تھا پر بادشاہ نا امید کبھی نہ ہوا کیونکہ محل خانے میں تختی آویزاں تھی کہ مایوسی کفر ہے۔

Facebook Comments HS