برہمن شیریں مزاری اور اچھوت پولیس والی


ایک خاتون پولیس اہلکار کو ایک سابق خاتون وفاقی وزیر نے اتنی رعونت، نفرت اور حقارت سے کہا؟ Don ’t touch me جب کہ وہ بیچاری اپنے فرض کی ادائیگی کر رہی تھی۔ اس ایک جملے میں وہ ساری سوچ ہے جو یہ اشرافیہ وطن عزیز کے عام شہریوں کے لیے رکھتی ہے۔ یقین جانئیے! اس ملک کے ہر وڈیرے سیاستدان کی نظر میں عام پاکستانی کی اوقات اتنی ہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں۔ جنہیں ہم چھو نہیں سکتے، جنہیں عام پاکستانی ہاتھ نہیں لگا سکتا، جن کے بلیاں، کتے عام پاکستانیوں سے برتر ہیں، یہ وہ برہمن ہیں جن کے نزدیک باقی سب اس دنیا میں ان کی خدمت کرنے آئے ہیں۔ اسی لیے تو اس معتبر عورت نے اتنے سخت لہجے میں منع کیا۔ کیوں کہ اچھوت پولیس اہلکار کے چھونے سے یہ برہمن خاتون ناپاک ہو سکتی تھی۔

اس کے ساتھ برہمن خاتون کا دوسرا جملہ تھا۔
No, you are not going to take my phone.

یہ مجھے پہلی بار پتا چلا کہ برہمنوں کی بے جان اشیا کو بھی اچھوت نہیں چھو سکتے۔ اس بارے کتابوں میں شاید لکھا نہیں گیا یا نظر سے نہیں گزرا۔ بہرحال یہ میرے علم میں اضافہ ہے۔

اب آ گئے سن لیں۔
Who are you to arrest me?

تم ہوتی کون ہو؟ گویا انسانی حقوق کی سابقہ وزیر کا لہجہ یہ بتا رہا ہے۔ کہ تم ایک معمولی سرکاری ملازمہ مجھے کیسے پکڑ سکتی ہو۔ مجھ پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا، کسی قانون کی پاسداری مجھ پر عائد نہیں ہوتی۔ ہم تو قانون بنانے والے ہیں۔ قانون تو غریبوں کے لیے ہوتا ہے۔

اور آخر میں برہمن خاتون کی تربیت سامنے آئی۔
Don ’t you take my phone you Bastard.
اور یوں کوئی ”باسٹرڈ“ ٹھہرا یا ٹھہری۔

سکول کے زمانے میں پہلی بار جب ہندوؤں کے ذات پات بارے پڑھا۔ تو اس چیز سے نفرت ہوئی کہ کوئی اچھوت کیسے ہو سکتا ہے۔ اور کوئی ایک اپنے جیسے انسان کا ہاتھ لگنے سے اس قدر خفا کیوں؟ کیوں کر ایک ذات اس قدر معتبر ہے کہ اسے چھو نہیں سکتا کوئی۔ وقت گزرتے ساتھ اپنے اردگرد ایسی چیزیں دیکھنے کو ملیں اور یہ سمجھ آئی کہ طبقاتی نظام دراصل ایک طبقے کا زبردستی مسلط ہونا ہے۔ ہندوستان کے ہندوؤں سے ہی ملتا جلتا طبقاتی نظام ہم پاکستان کے مسلمانوں کے ہاں بھی پروان چڑھ رہا ہے۔ بس پھر اس طبقاتی تقسیم کو ذہنی طور پر قبول کر لیا کہ بس ہے، صدیوں سے چل رہا، ایسے ہی چلتا رہے گا، ذاتی طور پر سوشیالوجی کی کہیں کتابیں پڑھ چھوڑیں اور اس سسٹم کو ہر جگہ کسی نا کسی صورت پایا۔ مگر شاید اس سسٹم کی بدترین شکل ہم پاکستانیوں یا پھر پڑوسیوں کے حصے میں آئی۔

آج ایک خاتون، ایک سابق استاد، ایک سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق، ایک پی ایچ ڈی اسکالر کے منہ سے ایک عام پاکستانی، ایک عام سرکاری ملازم پولیس والی کے لیے لفظ ”Don ’t touch me“ ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر گیا کہ یہ ان ٹچ ایبل ہوتے کون ہیں؟ اور جو انہیں نہیں چھو سکتے ان میں اور ان میں فرق کیا ہے۔

جس رعونت سے، جس لہجے میں یہ خاتون، پولیس والیوں کو دھتکار رہی تھی کہ مجھے چھونا مت۔ اس حوالے سے نظام ذاتیات (Caste system) پر میری پڑھی ہوئی ساری کتب ایک طرف، نظر سے گزرے آرٹیکل ایک طرف، بچپن میں ہندو نظام ذاتیات بارے پڑھ کر ہوا تجسس و دکھ ایک طرف اور یہ ویڈیو ایک طرف۔ ایک منٹ میں طبقاتی نظام کی سمجھ آئی۔ اس ویڈیو کو تو نصاب کا حصہ ہونا چاہیے۔ جب بھی ذات پات یا نظام ذاتیات سکول کے بچوں کو پڑھایا جائے تو ساتھ یہ ویڈیو دکھائی جائے۔

کہ یہ ہے طبقاتی نظام کا عملی نمونہ۔ عام پاکستانی کی بیٹی جو حق حلال کما رہی ہو، اپنا فرض نبھا رہی ہو۔ وہ باسٹرڈ ہے۔ اور کسی جاگیردار وڈیرے کی سیاستدان بیٹی معتبر ہے خواہ وہ جو مرضی کر لے۔ اور استاد بچوں کو سمجھائے کہ آپ سب اچھوت باسٹرڈ ہو اور آپ کی زندگی کا مقصد ان وڈیرے سیاستدانوں کی خدمت کرنا ہے۔ آپ ان کی خوشی کا سامان ہو۔ کبھی ووٹ دے کر اور کبھی گالیاں کھا کر۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments