ہم اور ہماری قومی ترجیحات


خدا کرے میرے اندیشے غلط ثابت ہوں۔ میرے خیالات جھوٹے ہوں، میرے وہم بے معنی ہوں، میری یہ سوچ دیوانے کا خواب ہو کہ پاکستان گزرتے ہوئے ہر دن کے ساتھ زوال و انحطاط، سیاسی ابتری، معاشی افراتفری، معاشرتی غیر اخلاقی اور نظریاتی دیوالیے کے قریب جا رہا ہے۔ میرے یہ الفاظ سراسر غلط ثابت ہوں کہ پاکستان اپنی سیاسی و معاشی تاریخ کے خوفناک ترین دوراہے پہ کھڑا ہے۔ میں اپنے خیالات کو جھوٹا، بے مقصد، بے معنی، لغو اور فضول اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ میں پاکستان کا فرزند ہوں میں اس کے نام سے لے کر اس کی خاک تک کا عاشق ہوں۔

مگر یہ چیزیں میرے کہنے یا چاہنے سے بدل تو نہیں جائیں گیں۔ حقائق تو وہ ہیں جو دیوار پہ لکھے ہوئے ہیں۔ سچائی تو وہ ہے جو آپ اور مجھ کو اپنی ہتھیلی کی طرح نظر آ رہی ہے۔ میں سب سے پہلے معاشی محاذ پر لڑکھڑاتے ہوئے پاکستان کی طرف آ تا ہوں۔ مجموعی طور پر ہماری موجودہ معاشی صورتحال تیزی سے دیوالیے کی طرف جا رہی ہے۔ ڈالر کی پرواز آ سمان کی وسعتوں میں کھو گئی ہے۔ مہنگائی زمین میں اوندھے منہ گرے ہوئے لوگوں کو دیکھنے تک کو تیار نہیں۔

شرح سود تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ آئی۔ ایم۔ ایف ہاتھ میں تلوار لیے ہمارے گلے کاٹنے کو تیار ہے۔ سرمایہ کاری جو تھوڑی بہت پہلے ہو رہی تھی وہ سیاسی عدم استحکام کی نذر ہو گئی۔ سٹاک مارکیٹ ہر روز کریش کر رہی ہے۔ روپے کی بے قدری مسلسل جاری ہے۔ آئی۔ ایم۔ ایف کی صورت میں ہم ایسے موڑ پہ کھڑے ہیں جہاں آ گے کنواں اور پیچھے کھائی ہے۔

آئی۔ ایم۔ ایف ہم سے چار سخت ترین مطالبات کر رہا ہے۔ نمبر 1۔ پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی ختم کی جائے۔
نمبر 2۔ بجلی کی قیمتیں بڑھائی جائیں۔
نمبر 3۔ ہر قسم کی ایمنیسٹی سکیم ختم کی جائے۔
نمبر 4۔ زیادہ ٹیکس لگائے جائیں۔

اگر ہم یہ شرائط مان لیتے ہیں تو پاکستان میں تاریخ کا سب سے خوفناک ترین مہنگائی کا سیلاب آئے گا جو سیاسی حکومت کو بہا کے لے جائے گا۔ اس کے بعد قیمتیں 5 اور 10 روپے کے حساب سے نہیں بڑھیں گیں بلکہ قیمتیں 100 اور 200 کے حساب سے اوپر جائیں گیں۔ اور اگر ہم یہ شرائط نہیں مانتے تو آئی۔ ایم۔ ایف ہمیں پیسے نہیں دے گا۔ جس کی وجہ سے دیوالیے کی تلوار ہمارے سر پہ لٹک جائے گی۔ کیونکہ پاکستان میں ڈالر کی کمی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ بہر کیف دونوں صورتوں میں پسنا بیچارے عوام نے ہی ہے۔ کیونکہ اشرافیہ کے پاس اتنے وسائل اور اتنی مراعات ہیں کہ ممکنہ مہنگائی اور معاشی بدحالی ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکے گی۔

اب ہم آتے ہیں سیاسی محاذ پر۔ ملک میں کہنے کو تو جمہوری نظام چل رہا ہے۔ جمہوریت سے ہی حکومتیں آتی اور جاتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی جمہوری طریقے سے آ گے بڑھ رہی ہیں۔ پارلیمنٹ کام کر رہی ہے۔ قانون سازی بھی ہو رہی ہے۔ عدالتیں اور دوسرے آئینی ادارے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ قصہ مختصر کہنے کو جمہوریت ہی ملک کی قیادت کر رہی ہے۔ مگر کہنے کو تو بہت کچھ ہے کرنے کو کیا ہے؟ یا عملی طور پر کیا نظام چل رہا ہے؟ یہ سوال آپ خود سے پوچھیے کیونکہ اس سے بہتر، صاف شفاف اور نتیجہ خیز جواب آپ کو کہیں سے نہیں مل سکتا۔

ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام نے پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ آپ غیر مستحکم سیاسی نظام کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ ابھی چند ہفتے قبل قائم ہونے والی حکومت اتنی غیر یقینی کا شکار ہے کہ انہیں شام تک بھی زمام اقتدار اپنے پاس رہنے کا یقین نہیں ہے۔ لہذا صرف نام کی حکومت قائم ہے۔ عملی طور پر شدید ترین غیر یقینی، افراتفری اور بد انتظامی کا نظام چل رہا ہے۔ چند ہفتے قبل حکومت سے فارغ ہونے والی PTIکی جماعت آج سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے۔

عمران خان نے طبل جنگ بجا دیا ہے۔ وہ صرف ایک ہی صورت میں بات سننے کو رضا مند ہیں کہ جلد سے جلد نئے الیکشنز کا اعلان کیا جائے۔ آپ خود اندازہ لگائیں! جس ملک میں حکومت اتنی غیر یقینی کا شکار ہو، سیاسی جماعتیں اتنی انتشار پسند ہوں اور سیاسی ڈائیلاگ بالکل ختم ہو جائے وہاں سیاسی استحکام کیسے آئے گا؟ ایسے افراتفری کے ماحول میں بیرونی سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ملک کی معاشی ترقی سیاسی استحکام سے وابستہ ہے۔ جب تک ملک سیاسی طور پر مستحکم نہیں ہو گا تب تک معاشی ترقی کے خواب دیکھنا دیوانگی ہے۔

یہ میں پاکستان کے سیاسی و معاشی بدحالی کا چھوٹا سا خاکہ پیش کر رہا تھا۔

اب ہم بات کرتے ہیں ترجیحات کی۔ یعنی ہماری اور ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات کیا ہے۔ ہم فطری طور پر پاکستانی قوم مسائل کو حل کرنے میں بڑے نالائق ہیں۔ ہم نے مسائل کیا حل کرنے ہم تو مسائل سمجھنے میں بھی بڑے نا اہل ہیں۔ ہماری سیاسی قیادت نے ہمیشہ لوگوں کے جذبات سے کھیلا ہے۔ اگر آپ موجودہ صورتحال دیکھیں تو ہمارے حکمرانوں کی ترجیح یہ نہیں کہ ”لانگ ٹرم“ پالیسیاں بنا کر ملک و قوم کو قرضوں کی دلدل سے نکالا جائے بلکہ ان کی ترجیح یہ ہے کہ کسی بھی طرح اپنی سیاسی ساکھ بچا کے کرسی اقتدار کو طول دیا جائے۔

موجودہ حکومت جو چند ووٹوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے چاہتی ہے کسی بھی طرح اپنا سیاسی مستقبل محفوظ بنایا جائے ملک و قوم کا مستقبل بے شک جائے بھاڑ میں۔ آپ عمران خان کو دیکھ لیں ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں ناقص کارکردگی کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ اب وہ سڑکوں پر ایک نیا بیانہ لے کر عوام کے جذبات مشتعل کر رہے ہیں۔ وہ جب حکومت میں ہوتے تھے تو کہتے تھے جلسے، جلوسوں اور دھرنوں سے ملکی معیشت تباہ ہوتی ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت بھی ان کے ماضی کے خلاف تھا اور آج یہ گواہی دے رہا ہے کہ ذاتی مفادات ہر صورت مقدم رہنے چاہیے۔

میں صرف ایک جماعت یا ایک فرد کی بات نہیں کر رہا بلکہ یہ ہماری مجموعی سیاسی سوچ ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو عدالتیں صرف اسی وقت اچھی لگتی ہیں جب وہ ان کے حق میں فیصلہ دیں۔ وہ اعلی آئینی اداروں کو صرف اسی وقت ایماندار سمجھتے ہیں جب وہ ان کے لیے اقتدار کا راستہ ہموار کریں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی ہے بلکہ ان کی ترجیحات ذاتی اور جماعتی مفادات کا تحفظ ہیں۔ اس کے لیے چاہے انہیں قومی مفادات ہی قربان کیوں نہ کرنے پڑیں۔

ہم من حیثیت القوم ”نظریاتی“ لحاظ سے بھی بڑے ”نکمے“ ہیں۔ موسم کی طرح ہمارے نظریات بھی وقتاً فوقتاً بدلتے رہتے ہیں۔ ہم مجموعی طور پر اسی انتظار میں رہتے ہیں کہ مارکیٹ میں کوئی ”نیا چورن“ آئے اور ہم اسے بطور ”نظریہ“ قبول کر لیں۔ یہ دو چار دن کے چلتے پھرتے نظریات لے کر ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نظریاتی ہیں۔ نظریہ تو وہ ہوتا ہے جو زندگی کا نصب العین بن جائے۔ بہر حال قصہ مختصر ہماری ترجیحات ہمارے مسائل سے مطابقت نہیں رکھتے۔

پاکستان زندہ باد

Facebook Comments HS