شوکت شورو: جدید سندھی ادب کے لیجنڈ لکھاری


شوکت حسین شورو اپنے مزاج اور شخصیت میں خاموش سمندر تھے۔ بہت کم اور دھیرج کے ساتھ بولتے تھے۔ مگر جب بولتے تھے تب اس کی باتوں میں موضوع کے لحاظ سے سمندر کی گہرائی اور ساون میں بہتے دریا کی تغیانی ہوتی تھی۔ وہ اپنی روش اور باتوں میں شہد کی مٹھاس رکھتے تھے۔ شوکت شورو سے کوئی نیا ادیب یا شخص ملتا تھا تو شوکت شورو کی خاموش طبع اور کم بولنے کی وجہ سے حیران و پریشان ہو جاتا تھا اور سمجھتا تھا کہ شوکت شورو مغرور ہیں مگر جب شوکت شورو اس سے باتیں کرنا شروع کرتے تھے تب اسے لگتا تھا جیسے شوکت شورو کی اس ادیب یا شخص سے برسوں سے شناسائی ہو۔

سراپا خاموشی، خلوص، سادگی اور محبت شوکت حسین شورو جدید سندھی ادب کے آسمان کے چمکتے ستارے تھے۔ شوکت شورو جسمانی طور پر ہم میں نہیں رہے مگر اپنے لازوال ادبی کام کے حوالے سے جدید سندھی ادب کے وہ ایسے ادبی سورج ہیں جس کی روشنی صدیوں تک رہے گی۔ شوکت شورو کے شاہکار تخلیقی کام کی قزح قوس کے رنگ آنے والی ہر صدی میں بکھرتے رہیں گے۔

شوکت حسین شورو بہ یک وقت سندھی زبان کے نمائندہ جدید افسانہ نگار، ڈرامہ نگار اور کالم نگار تھے۔ شوکت شورو کا وسیع مطالعہ اور سماجی مشاہدہ تھا۔ اسے سندھی زبان پر بھی بڑا عبور حاصل تھا۔ شوکت شورو افسانہ اور ڈرامہ کے فنی پہلوؤں پر بڑی دسترس اور مہارت رکھتے تھے۔ نثر کی ان اصناف پر بولنے اور تنقیدی جائزہ لینے کے حوالے سے شوکت شورو جدید سندھی ادب میں سند کی حیثیت رکھتے تھے۔

شوکت حسین شورو منفرد اسلوب کے افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار تھے۔ ان کے افسانوں میں زبان کی شائستگی کی خوبی اعلی نظر آتی ہے۔ ان کے افسانوں اور ڈراموں میں جاندار مکالموں اور حقیقت نگاری کا عنصر بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس نے جدید سندھی ادب میں اپنا الگ مقام حاصل کیا اور شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔

شوکت حسین شورو کے افسانوں کی کئی کتابیں شایع ہوئی ہیں۔ ان کے کئی ڈرامے پاکستان ٹیلیوژن کراچی سینٹر سے ٹیلی کاسٹ ہوئے اور عوام میں بہت بڑی مقبولیت اور پذیرائی حاصل کی۔ آج بھی لوگوں کو ان کے ڈرامے اور ان ڈراموں کے کردار یاد ہیں۔

شوکت حسین شورو بڑا عرصہ ڈائریکٹر سندھیالوجی رہے۔ علاوہ ازیں انسٹیٹیوٹ آف سندھی لینگویج اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز باڈی کے آخری دم تک ممبر رہے۔ جب کبھی بھی جدید سندھی افسانے اور ڈرامے کی بحث چھڑے گی تب سرفہرست جدید افسانہ نگاروں اور ڈرامہ نگاروں میں شوکت حسین شورو کا نام اور کام زیر بحث ہو گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments