میں کراچی ہوں
کرہ ارض کے نقشہ میں ایک مسلم حیثیت رکھنے والا شہر جہاں بانیان پاکستان اور ان کی اولادوں کی جائے رہائش ہے یہ وہ ہی قوم ہے جس نے بابائے قوم کا خواب شرمندہ تعبیر کیا۔ 74 سال قبل ہندوستان سے ہجرت کرنے والے لاکھوں مہاجرین جنہوں نے نا صرف اپنی جان و مال کا نذرانہ دے کر نظریہ پاکستان کو زندہ رکھنے کے لئے اس پاک سر زمین کی طرف ہجرت کی۔ اس تاریخی ہجرت میں نا صرف فنون لطیفہ، علم و ہنر کے ایسے جوہر لائے جس نے نئے معرض وجود میں آنے والے مملکت خداداد کی ترقی میں اپنی مثال آپ رکھتا ہے اگرچہ اس بٹوارے میں مہاجرین ملک کے گوشے گوشے میں رہائش پذیر ہوئے جن میں سے اکثریت نے لاہور اور کراچی میں نقل مکانی کی آنے والے مہاجرین نے خاص کر کراچی کو اپنا مرکز بنایا۔
نومولود ملک میں محدود وسائل کے باوجود اپنی تعلیم، تجربے ہنر اور انتھک محنت کے باعث کراچی کو ایسا بے نظیر خطہ بنانے میں کامیاب ہوئے کہ قیام پاکستان کے بعد 1947 سے لے کر 1958 تک کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت ہونے کا بھی شرف حاصل رہا جو بعد ازاں عارضی طور پر راولپنڈی اور پھر مستقل اسلام آباد کو مرکز بنا دیا گیا کراچی میں نقل مکانی کرنے والوں کی اکثریت اردو زبان بولنے والوں کی تھی جنہوں نے تہذیب و تمدن کا ایسا روشن چراغ جلایا کہ اس کے اثرات باقی صوبوں میں بھی پھیلتے چلے گئے اپنی تعلیم و ہنر کی بدولت کراچی کو روشنیوں کا شہر کہلانے میں کامیاب ہوئے چونکہ یہاں کی اکثریت اردو بولنے والوں کی رہی اور دوسرے صوبوں میں بسنے والے دیگر قومیت کے مقدار میں کم مانی جاتی ہے مگر چونکہ یہ ہنرمند، اور تعلیم سے زیور سے آراستہ تھی اور لہٰذا بہت سی وجوہات کی بناء پر کچلنے کے لئے کبھی کوٹہ سسٹم نافذ کر کے کبھی لسانی بنیادوں کبھی سیاسی بنیادوں تو کبھی اپنے جائز حقوق مانگنے کے پاداش پر کئی خونی آپریشن مسلط کیے گئے بلکہ ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگی کا سلسلہ بھی چلتا رہا تاکہ کسی طرح اپنے جائز حقوق سے دستبردار ہو جائیں یا ان کے جائز مطالبات کی شدت میں کمی لائی جا سکے کراچی کے مقامی باسیوں کا اصل مطالبہ کیا رہا وہ اپنے جائز حقوق جس میں پانی، بجلی، سرکاری ہسپتال، امن و امان کی صورتحال ہے ساتھ روزگار کا تھا کیونکہ کراچی کے ڈومیسائل یافتہ کو کوئی اچھی سرکاری نوکری میسر نہیں نا زندگی کے بنیادی وسائل جس پر کراچی باسیوں کا قانونی اور آئینی حق ہے شدید احساس محرومی کے باوجود کراچی کے مقامی باشندوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے نہیں کیے ۔
کسی سرکاری املاک کو نقصان پہنچا کر اپنے حقوق کے لئے ریاستی اداروں کو چیلنج نہیں کیا۔ نا ہی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے شہر کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ کراچی میں موجودہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور انارکی پھیلانے میں جہاں غیرملکی عناصر کے ساتھ ساتھ ملک دشمن عناصر کے ہاتھ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس بات کا اظہار قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مقتدر شخصیات بل واسطہ یا بلاواسطہ ظاہری اور ڈھکے چھپے لفظوں میں کر چکے ہیں کہ کراچی میں چوری ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کے پیچھے غیر مقامی کا بڑا ہاتھ ہے جن میں سے اکثر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے سے کراچی میں داخل ہوتے ہیں اور بڑی بڑی وارداتیں کرنے کے بعد باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
یا پھر کچی آبادیوں اور گوٹھ میں جا کر چھپ جاتے ہیں جہاں انہیں لسانی اور سیاسی بنیادوں پر حمایت حاصل رہتی ہے۔ سب سے بڑا لمحہ فکریہ یہ ہے کہ سب کو سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود کوئی مربوط حکمت عملی تیار نہیں کی گئی جس کے سبب اسٹریٹ کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات پر کمی نا لائی جا سکی۔ موبائل فون کے چھینے اور چوری شدہ موبائل فون کے دوبارہ مارکیٹ میں فروخت ہونے کے باعث کراچی الیکٹرانک ڈیلر ایسوسی ایشن اور قانون نافذ کرنے والوں نے متفقہ طور پر حکمت عملی بناتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ کوئی بھی غیر مقامی شخص موبائل فون فروخت نہیں کر سکتا مگر اس حکم نامے پر کتنا عمل ہو رہا ہے اس کا اندازہ ہر ماہ موبائل فون چھینے کے واقعات سے اندازہ لگایا جا سکتا کہ رواں برس کے صرف پانچ ماہ کے دوران شہریوں سے 11 ہزار سے زائد موبائل فون چھین یا چوری کر لئے گئے۔ جس کی تعداد گزشتہ 2021 میں 25 ہزار سے زائد تھی ہزاروں ایسے واقعات ہیں جس میں شہری اپنا قیمتی موبائل چھن جانے کے بعد تفتیش کے روایتی رویہ کے باعث رپورٹ کرانے یا تھانے جانے سے گریزاں رہتا ہے۔ تاہم اگر اس ساری صورتحال کا بغور جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کے طرح عیاں ہے کہ کراچی میں لاقانونیت کا دور دورہ ہے کیونکہ کراچی ایسی سونے کی چڑیا کی مانند سمجھا جاتا ہے جہاں سے اپنے عہدے اور تعلقات کی بنیاد پر راتوں رات امیر بننے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔
اگر کراچی کے امن کو بحال رکھنے میں اگر ٹھوس بنیادوں پر کام کرنا ہے تو کراچی کے مقامی باشندوں کو ان کے جائز حقوق اور جن میں سب سے زیادہ روزگار کا مسئلہ ہے دے دیے جائیں اور مقامی سطح پر محلہ کمیٹی بنائیں جائیں جس کی سربراہی کراچی کا غیر سیاسی مقامی باشندہ کر رہا ہو جس کا قانون نافذ کرنے والے اہم افسران سے رابطہ ہو تو یقینی طور پر کراچی میں جاری لاقانونیت کا مستقل سدباب کیا جاسکتا ہے۔


