پراسرار ٹیلی فون کال اور حکومت کا بڑھا ہوا اعتماد


شاہ محمود قریشی کو آنے والی پراسرار کال کے باوجود عمران خان نے بدھ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا کر دیا۔ البتہ اپنے پسندیدہ ڈی گراؤنڈ کی طرف مارچ کرنے کی بجائے احتجاج و دھرنے کو سری نگر ہائی وے تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف اتحادی حکومت نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ فوری انتخابات کا مطالبہ ماننے کی بجائے آئندہ سال اگست تک اقتدار میں رہے گی۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو لانگ مارچ اور دھرنے کی اجازت دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ راستہ روکنے کی بجائے، شاہراہ سے منسلک گراؤنڈ میں اسٹیج بنالیا جائے اور چاہیں تو دھرنا بھی دے لیں۔ حکومت کی طرف سے موصول ہونے والے اشاروں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اتحادی حکومت کو تحریک انصاف کے پر امن احتجاج سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن کسی بھی قیمت پر بدامنی اور انتشار برپا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ایک بیان میں متنبہ کیا ہے کہ ’لانگ مارچ کے نام پر جتھے اور غنڈہ گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ جو بھی شرافت کے دائرے سے باہر نکلے گا، قانون اسے شرافت کے دائرے میں واپس لائے گا‘ ۔ ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ 2014 میں 126 دن غنڈہ گردی کی گئی، پارلیمنٹ سمیت سرکاری عمارتوں پر حملے ہوئے اور عدلیہ کی دیواروں پر شلواریں لٹکائی گئیں، قبریں کھودی گئیں۔ اس بار اگر عمران نیازی نے جمہوریت کا گورکن بننے کی کوشش کی تو قانون ان سے نمٹے گا۔

حکومت اور سابق حکمران جماعت کے درمیان بداعتمادی دو طرفہ ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ حکومت بظاہر پر امن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وزیر داخلہ کے علاوہ متعدد دوسرے وزیروں نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ منصوبہ کے بارے میں بداعتمادی کا اظہار کیا ہے۔ حتی کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی گزشتہ روز اس حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان ملک میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ عوام دشمن معاہدہ کرنے کے بعد اب ملک میں انتشار پھیلانا چاہتی ہے لیکن انہیں کسی قیمت پر قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے بتایا ہے کہ حکومت پر امن احتجاج کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر سکتی ہے۔ پیش بندی کے طور پر پارٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے تاکہ حکومت کو لانگ مارچ کا راستہ اور کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا کرنے سے روکا جائے۔

عمران خان نے لانگ مارچ کے سلسلہ میں تند و تیز ماحول پیدا کیا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران انہوں نے لگاتار جلسے کیے ہیں اور موجودہ حکومتی قائدین کو ملک دشمن اور بدعنوان ثابت کرنے کی اپنی سی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ ان کا یہ موقف رہا ہے کہ یہ حکومت امریکی سازش کے نتیجہ میں قائم کی گئی ہے جو پاکستان کی خود مختاری پر حملہ ہے۔ اسی لئے اپنے لانگ مارچ کو ’حقیقی آزادی مارچ‘ کہنے کے علاوہ گزشتہ دنوں عمران خان یہ اپیل کرتے رہے ہیں کہ یہ صرف تحریک انصاف کا احتجاج نہیں ہے بلکہ پوری پاکستانی قوم اس میں شامل ہوگی۔ کیوں کہ امریکہ نے 22 کروڑ پاکستانیوں کی خود مختاری و آزادی پر حملہ کیا ہے اور جائز طور سے منتخب حکومت کو ’سازش اور رشوت ستانی‘ کے ذریعے اقتدار سے محروم کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مارچ میں لاکھوں لوگ شامل ہوں گے اور ہر پارٹی کے ’محب وطن‘ اس کا حصہ بنیں گے۔ عمران خان اور ان کے معاونین تو اس لانگ مارچ میں شرکا کی تعداد 20 سے 30 لاکھ بتاتے ہیں لیکن عام اندازہ ہے کہ اگر وہ تیس چالیس ہزار لوگ بھی اسلام آباد لانے میں کامیاب ہو گئے تو حکومت کے لئے بڑا چیلنج بن سکیں گے۔ البتہ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ مئی کی شدید گرمی میں وہ اپنے حامیوں کو کتنے دن تک دھرنا دینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

2014 کا دھرنا اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا تھا لیکن اس کے باوجود یہ 126 دن تک جاری رہا تھا۔ البتہ اس جزوی کامیابی کا سہرا زیادہ تر علامہ طاہر القادری اور ان کی پارٹی پاکستان عوامی تحریک کے سر باندھا جاتا ہے۔ یا پھر اسٹبلشمنٹ کی غیر مشروط حمایت اور اس کے اشارے پر ملکی میڈیا کی بھرپور توجہ اور یک طرفہ کوریج نے بھی اس احتجاج کو ملکی سیاست میں انقلابی قدم قرار دیا تھا۔ طاہر القادری کے ساتھ آئے ہوئے مریدین کی تعداد دس ہزار کے قریب تھی جنہوں نے وفاقی دارالحکومت میں دھرنا بھی دیا اور وہاں مقیم بھی رہے لیکن تحریک انصاف کے حامی محض رات کو اپنے لیڈر کی تقریر یا موسیقی کا پروگرام سننے کے لئے وہاں جمع ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ یہ احتجاج اگست میں شروع ہوا تھا اور گرمیوں کا سخت موسم تقریباً بیت چکا تھا۔ تاہم اب مئی کا مہینہ ہے اور بھرپور گرمی کے کئی ماہ باقی ہیں۔ اسی وجہ سے ماہرین اور تجزیہ نگار یہ قیاس آرائیاں کر رہے تھے کہ عمران خان لانگ مارچ اور دھرنے کو اگست تک مؤخر کریں گے اور اس دوران حکومت پر دباؤ قائم رکھنے کے لئے جلسے، جلوسوں، انٹرویوز اور سوشل میڈیا کے ذریعے مہم جوئی جاری رکھیں گے۔ البتہ 25 مئی سے ہی اپنے احتجاج کا فائنل راؤنڈ شروع کرنے کا ایک ہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان کو کسی بات کی جلدی ہے۔

معاملات پر گہری نگاہ رکھنے والے اور اقتدار کی راہداریوں سے خبریں نکالنے والے رپورٹر اور تجزیہ نگار بھی البتہ یہ حتمی قیاس کرنے سے قاصر ہیں کہ عمران خان اتنی عجلت میں کیوں ہیں۔ کچھ ایسی ہی بے یقینی کی کیفیت حکومتی پالیسی کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔ شہباز شریف کو حکومت سنبھالے ڈیڑھ ماہ ہو چکا ہے لیکن وہ کوئی اہم فیصلہ کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے اگرچہ سے سلسلہ جنبانی جاری ہے۔ دوحہ میں ہونے والے تازہ مذاکرات 18 مئی کو شروع ہوئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذاکرات کا یہ دور بدھ 25 مئی کو ہی ختم ہو گا۔ اگر یہ بات چیت کامیاب ہوئی تو آئی ایم ایف کی طرف سے 6 ارب ڈالر کے موجودہ امدادی پیکیج کی اگلی قسط ادا ہو سکتی ہے اور اضافی 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کے لئے کوئی پیش رفت دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ تاہم وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت فوری طور سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ آئی ایم ایف پیٹرولیم پر دی جانے والی کثیر سبسڈی ختم کیے بغیر پاکستان کے لئے امدادی پروگرام جاری رکھنے سے معذوری ظاہر کرتا رہا ہے۔ اسٹیٹ بنک نے آج شرح سود میں اضافہ کیا ہے جس سے افراط زر پر قابو پانے کی کوشش کی جا سکتی ہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ اس ایک فیصلہ کا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر کیا اثر ہو گا۔

حکومتی بے عملی کی بنیادی وجہ اسٹبلشمنٹ اور اتحادی پارٹیوں کے درمیان حکمت عملی کے حوالے سے پایا جانے والا اختلاف ہے۔ اسٹبلشمنٹ چاہتی ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو جائے، جون میں ’معقول‘ بجٹ بھی پیش کر دیا جائے لیکن اس کے بعد تازہ انتخابات کا اعلان کر دیا جائے۔ اتحادی پارٹیاں سمجھتی ہیں کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ اور عوام کے لئے ایک مشکل بجٹ پیش کرنے کے جو سیاسی اثرات ہوں گے موجودہ حکومت میں شامل پارٹیوں کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ عالمی فنڈ کی شرائط اور ملکی معیشت کی بدحالی کی وجہ سے عام آدمی کی جیب پر جو بوجھ پڑے گا، وہ اس کا ذمہ دار صرف حکومت کو ہی سمجھے گا۔ اقتدار پر قابض پارٹیاں خاص طور سے مسلم لیگ (ن) یہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اسی لئے ایک روز پہلے ہی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ یہ کہہ رہے تھے کہ اگر ہمارے ہاتھ پاؤں باندھے گئے تو ہمارے پاس عوام کے پاس جانے سے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔

حیرت ہے کہ ایک روز میں ہی ایسا کون سا عجوبہ رونما ہوا ہے کہ اب وزیر داخلہ لانگ مارچ کو پوری قوت سے روکنے کے دعوے کر رہے ہیں؟ اس سوال کا ایک جواب اس پراسرار ٹیلی فون کال میں تلاش کیا جاسکتا ہے جو کل تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو اس وقت موصول ہوئی تھی جب وہ پشاور میں عمران خان کے ساتھ پریس کانفرنس میں شریک تھے اور جس میں لانگ مارچ کے لئے 25 مئی کی تاریخ کا حتمی اعلان بھی کیا گیا تھا۔ بی بی سی اردو نے اس واقعہ کی رپورٹ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ’اس اعلان (لانگ مارچ) سے کچھ دیر قبل عمران خان کی دائیں جانب بیٹھے شاہ محمود قریشی کا فون بجنا شروع ہو گیا۔ عمران خان نے انہیں یہ فون کال سننے سے منع کیا اور فون بند کرنے کا کہا۔ اس کے باوجود شاہ محمود قریشی نے نہ صرف یہ فون کال سنی بلکہ اس کے بعد وہ عمران خان کے کان میں یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ‘ وہ کہتے ہیں کہ پھر آپ کو ٹریپ کر دیں گے ’۔ یہ سن کر عمران خان جواب دیتے ہیں کہ‘ کر لیں، کر لیں ’۔ اب شاہ محمود قریشی یہ بتانے سے گریز کر رہے ہیں کہ یہ کال کس کی تھی اور اس میں کیا‘ مشورہ یا دھمکی ’دی گئی تھی۔ البتہ اس نامعلوم کال کا ایک اثر تو تحریک انصاف کی طرف سے ڈی گراؤنڈ کی بجائے سری نگر ہائی وے پر جمع ہونے کے فیصلہ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس کا دوسرا اثر حکومتی نمائندوں کے پر اعتماد بیانات میں دیکھا جاسکتا ہے جو بہر صورت اس احتجاج کو پر امن رکھنے اور‘ حد ’سے باہر نہ نکلنے کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں۔

شاید یہ اسی پراسرار کال یا مختلف لوگوں کو کی گئی ایسی ہی کالز کا نتیجہ ہے کہ اتحادی حکومت کے شرکا جو پہلے حکومت چھوڑ کر انتخاب کی تیاری کی بات کر رہے تھے، اب ایک بار پھر دعویٰ کر رہے ہیں کہ انتخابی اصلاحات، نیب قانون میں ترمیم اور معاشی صورت حال سنبھالنے سے پہلے انتخابات نہیں ہوں گے۔ انتخابات کے لئے مقررہ وقت کا انتظار کیا جائے۔ کیا اس دبنگ اعلان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت اسٹبلشمنٹ سے جو ضمانتیں مانگ رہی تھی، وہ اسے فراہم کردی گئی ہیں؟ کوئی بھی مبصر اس سوال کا دو ٹوک جواب دینے کا حوصلہ نہیں کر سکتا لیکن آئندہ چند روز میں رونما ہونے والے واقعات ضرور اس طرف نشاندہی کریں گے۔

البتہ ایک بات واضح ہے کہ اگر عمران خان چالیس پچاس ہزار لوگوں کو اسلام آباد لانے اور انہیں وہاں دھرنا دینے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو حکومت ہی نہیں اسٹبلشمنٹ بھی مسلسل دباؤ میں رہے گی۔ اس دباؤ میں اندازے کی کوئی غلطی بھی ہو سکتی ہے اور کوئی ایسا غلط فیصلہ بھی سرزد ہو سکتا ہے جس سے ملک میں سیاسی صورت حال ابتر ہو جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2209 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments