عمران یا مولانا: پشاور جلسہ کس کا بڑا تھا


اکیس مئی کی شام کو پشاور میں مولانا فضل الرحمن کا جلسہ جاری تھا اور گھنٹہ بھر میں مولانا کو خطاب بھی کرنا تھا

ایک صحافی دوست کے ساتھ پروگرام یہی تھا کہ مولانا سے مل لیا جائے لیکن ایک ضروری کام کے پیش نظر واپس آنا پڑا۔ تاہم جلسے کے حجم اور موڈ کا اندازہ ہو چکا تھا۔

رات ڈیڑھ بجے میں نے ٹویٹ کیا کہ مولانا فضل الرحمن کا جلسہ عمران خان کے پچھلے جلسے سے کم از کم تین گنا بڑا تھا اور ٹویٹ کر کے سو گیا۔

صبح کو سوشل میڈیا پر نظر پڑی تو یہ ”خبر“ معمول سے کچھ زیادہ وائرل ہو گئی تھی

ظاہر ہے کہ ایک طرف اگر مولانا کے پیروکاروں سمیت عمران مخالف دوسری جماعتوں سے وابستہ سیاسی کارکن اس خبر کی داد و تحسین کر رہے تھے تو دوسری طرف عمران خان کے ہمدرد بھی حسب توقع گالم گلوچ پر اتر آئے تھے۔

اس دوران ایک مشہور ٹی وی چینل سے فون آیا اور تھوڑی دیر بعد ان کی ٹیم مائیک اور کیمرے سے لیس متعلقہ ٹویٹ پر ”وضاحت“ مانگنے گھر پہنچی تو جذبات کو دلیل بنانے کی بجائے میں نے ٹھوس ثبوتوں اور حقائق کو بنیاد بنا کر عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کے جلسوں کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ۔

عمران خان کا جلسہ موٹروے ٹول پلازہ کے کنارے جس میدان میں ہوا اس میدان کا کل رقبہ پشاور کے ممتاز صحافی طارق آفاق کے مطابق ایک سو پانچ کنال ہے اور اتنے رقبے میں زیادہ سے زیادہ بیس سے پچیس ہزار تک لوگ سما سکتے ہیں تاہم میدان سے باہر بھی گنجائش موجود ہے

گویا چالیس ہزار تک حد دی جا سکتی ہے

دوسری بات یہ کہ عمران خان کا جلسہ روزوں میں نماز تراویح کے بعد منعقد ہوا تھا اور ظاہر ہے کہ نوجوانوں کو جلسے کی طرف کھینچنے کا یہ بہت مناسب وقت تھا کیونکہ اس وقت نوجوان عمومی طور پر بائیک ریس سے کرکٹ میچ تک کسی نہ کسی ہنگامے کی تلاش میں ہوتے ہیں

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ اس جلسے کے لئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے مختلف اضلاع سے گیارہ سو پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا تھا

جبکہ جلسہ موٹروے کے کنارے ہونے کے سبب اہم اضلاع (جہاں سے تحریک انصاف کو کثرت سے عوامی نمائندگی حاصل ہے ) جن میں پشاور چارسدہ نوشہرہ مردان اور صوابی شامل ہیں کے لئے بہت حد تک قابل رسائی بھی تھا۔ جس کا بھر پور فائدہ بھی اٹھایا گیا۔

لیکن ان باتوں سے بالاتر عمران خان داد کے مستحق ہیں کہ وہ اپنے حلقہ اثر (یوتھ ) کی نفسیات کا بہت گہرا مشاہدہ رکھتے ہیں

اسی لئے وہ ایک جارحانہ رویہ بلکہ گالم گلوچ کے ساتھ ساتھ جلسوں میں ڈی جیز لائٹنگ اور ہیلی کیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بری کارکردگی کے باوجود بھی اپنی مقبولیت گرنے نہیں دیتا۔

مختصر یہ کہ عمران خان کا جلسہ یقیناً ایک کامیاب جلسہ تھا لیکن اس کا حجم چالیس ہزار سے اوپر ہرگز نہ تھا۔

اب آتے ہیں گزشتہ روز ہونے مولانا فضل الرحمن کے جلسے کی طرف جو بنیادی طور پر جلسہ نہیں بلکہ تحفظ حرمین کانفرنس ہی تھا

یا یوں کہہ لیں کہ اس کانفرنس کی آڑ میں اپنی سیاسی طاقت کا اظہار تھا۔
یہ جلسہ شہر سے ملحقہ علاقے پتنگ چوک (جسے کبوتر چوک بھی کہا جاتا ہے ) میں منعقد ہوا

پتنگ چوک سے رنگ روڈ تک کم از کم تین کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور یہ دو رویہ روڈ ہے جسے جلسہ گاہ بنایا گیا تھا

اس روڈ کی مجموعی چوڑائی تقریباً سو فٹ ہے۔

گویا یہ مجموعی رقبہ تقریباً دو سو کنال کا بنتا ہے جو موٹر وے والے میدان (جہاں عمران خان نے جلسہ کیا تھا ) کی نسبت دگنا بڑا ہے۔

جبکہ پتنگ چوک والی روڈ سے ملحقہ ذیلی سڑکوں پر بھی ہزاروں کی تعداد میں جلسے کے شرکاء موجود تھے۔

یہی وہ ٹھوس حقائق اور شواہد تھے جو اس ٹویٹ کی بنیاد بنا اور انہی حقائق کو آگے چل کر میں میڈیا کے سامنے اپنی دلیل بھی بناتا رہا۔

لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کئی گنا بڑا جلسہ کرنے کے باوجود پروپیگنڈے کے محاذ پر جمیعت علماء اسلام ( دوسری جماعتوں کو بھی ) کو عمران خان کے مقابل ناکامی کا سامنا کیوں ہے؟

بدلتے ہوئے زمانے اور وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک جماعت اور اس کی لیڈر شپ آگے بڑھے تو یہ مقبولیت کے راستے کھلنے میں دیر نہیں لگتی

عمران خان کو داد دینی پڑے گی کہ اس نے نفسیاتی اور عملی طور پر ان تکنیک کا استعمال کیا اور تباہ کن کارکردگی کے باوجود بھی اپنے کارکنوں کو جذباتی سطح پر ہموار رکھا

عمران خان کی کل طاقت کیا ہے؟
ظاہر ہے کہ کارکردگی کے حوالے سے وہ ایک ناکام سیاسی لیڈر ہیں
لیکن وہ نوجوان طبقے کی نفسیات سے کھیلنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں

اور یہی ”ہنر“ اس کے رویے میں اشتعال اور جلسوں میں ڈی جیز لائٹنگ ہیلی کیم میوزک خواتین اور ( ان پر کیمروں کی زومنگ) کو جنم دیتا ہے

ان ”معاملات“ کو عمران خان خود ہی بہت باریک بینی کے ساتھ دیکھتا ہے
کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اسی میں اس کی سیاسی کامیابیاں اور مقبولیت پوشیدہ ہیں۔
لیکن دوسری جماعتیں قدرے روایتی انداز سے کھیل رہے ہیں
جو مضبوط تنظیمی صلاحیت اور عوامی پذیرائی کے باوجود لائم لائٹ میں میرٹ کی مناسبت سے جگہ نہیں پاتے۔

میں اب بھی اپنی اس بات پر قائم ہوں کہ مولانا فضل الرحمن کا جلسہ عمران خان کے جلسے سے تین گنا بڑا تھا لیکن جدید تکنیک کے استعمال کے فقدان نے اس ”لہر“ کو قدرے عنقا کر دیا

اور یہ بھر حال جماعت کی تنظیمی ناکامی اور وژن کے فقدان سے پھوٹا۔

میڈیا کے ساتھ ٹاپ لیڈر شپ کے روابط نہ ہونے کے برابر ہیں حتی کہ مولانا فضل الرحمن کا بیٹا اور بھائی بھی اس سلسلے میں خوفناک لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ”دوسرے معاملات“ میں مصروف نظر آتے ہیں جن سے بھر حال بہت سی قیاس آرائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔

اس سلسلے میں (میڈیا کے ساتھ روابط ) تحریک انصاف کو جمیعت العلماء اسلام پر واضح برتری حاصل ہے
البتہ مولانا ذاتی طور پر اس حوالے سے حد درجہ حساس اور ذمہ دار ہیں۔

لیکن جب تمام تر ذمہ داریاں بھی پارٹی لیڈر کے کندھوں پر ڈالی جائیں اور ہر کوئی خود کو بری الذمہ سمجھتے ہوئے کہیں اور مصروف ہو جائے

تو پھر کامیاب ترین جلسے اور عوامی پذیرائی بھی پردہ اخفا میں چلی جاتی ہیں اور اس کے نتائج وہی نکلتے ہیں

جیسا کہ اگلے دن مولانا فضل الرحمن کی شدید محنت اور دلیر سیاست کے ساتھ ہوا۔

Facebook Comments HS