گورونانک خالصہ کالج گوجرانوالہ سے اسلامیہ کالج کا سفر (دوسرا حصہ)
گورونانک انٹر میڈیٹ خالصہ کالج گوجرانوالہ 1917 ء تا 1947 ء
گورنمنٹ اسلامیہ گریجوایٹ کالج گوجرانوالہ ( سابقہ گورو نانک انٹر میڈیٹ کالج گوجرانوالہ 1917 ) شہر کا پرانا ترین کالج ہے۔ اپنی عمر کی ایک صدی 2018 ء میں پوری کر چکا ہے۔ دوسری صدی کا چوتھا سال شروع ہو چکا ہے۔ کالج انتظامیہ نے 2018 ء کو صدی سال کے طور پر منایا اور کالج میگزین ”کارواں“ صدی نمبر بھی شائع کیا۔ جو کہنے کو تو صدی نمبر ہے لیکن وہ محض ایک خانہ پری تھی۔ یہ صدی نمبر کم اور چوں چوں کا مربہ زیادہ تھا۔ خیر اگر کوئی وہ صدی نمبر پڑھنا چاہے تو کالج کی لائبریری سے لے کے مطالعہ کر سکتا ہے اور خود ہی فیصلہ کر سکتا ہے کہ یہ صدی نمبر تھا یا کچھ اور تھا۔
گورو نانک انٹر میڈیٹ خالصہ کالج گوجرانوالہ کی بنیاد گوجرانوالہ کے کچھ سکھوں نے گوجرانوالہ خالصہ ٹرسٹ کے زیر سایہ رکھی۔ اس کالج کی بنیاد رکھنے سے پہلے کالج روڈ پر سکھوں نے ایک خالصہ سکول بھی قائم کیا۔ گوجرانوالہ کا علاقہ سکھوں کا تھا۔ یہاں پر زیادہ آبادی سکھوں کی تھی۔ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کے لئے فلاحی ادارے بنائے۔ اپنے لوگوں کی تعلیم کا بھی بندوبست کیا۔ ان لوگوں نے 1889 ء میں گوجرانوالہ میں خالصہ ہائی سکول گوجرانوالہ قائم کیا۔
کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں یہ سکھوں کا قائم کردہ پہلا تعلیمی ادارہ تھا۔ اس کا سنگ بنیاد سر لوئیس ولیم ( 1856۔ 1946 ) گورنر پنجاب نے رکھا تھا۔ 1912 ء میں سکول کی ایک نئی عمارت تعمیر کی گئی اور ساتھ ہی ایک ہال بھی تعمیر کیا گیا۔ یہ ایک اقامتی سکول تھا۔ اس کے ہوسٹل میں 400 طلباء کے قیام کا بندو بست تھا۔ اس سکول کے سربراہ باوا ادھم سنگھ تھے۔ اس دور میں گوجرانوالہ کی تعلیمی ترقی میں درج ذیل سکھ شخصیات کا کردار بہت اہم ہے۔
کنورپرتھی پال سنگھ، سردار منگل سنگھ مان، رئیس کوٹ شیرا، سردار چیت سنگھ سوداگر، سردار دھرم سنگھ ٹھیکیدار دہلی، سردار دھرم سنگھ ریٹائرڈ انجینئر گرجاکھ اور سردار بلونت سنگھ رئیس بوتالہ۔ یہ لوگ گوجرانوالہ کی تعلیمی ترقی کے اہم ستون تھے۔ سردار بلونت سنگھ نے لکڑ والا پل پر لڑکیوں کا ایک سکول بھی قائم کیا۔ 1909 ء میں انہوں نے ڈیڑھ لاکھ روپے کی رقم سے سردار بلونت سنگھ ٹیکنیکل سکالر شپ فنڈ کا بھی آغاز کیا۔
اس سکالر شپ کا مقصد نوجوان سکھوں کو جو تعلیم کے میدان میں اپنے جوہر دیکھا سکیں مدد کرنا تھا۔ اس طرح کے کاموں کے سلسلے میں سردار نرائن سنگھ کا نام بھی قابل ذکر ہے جنہوں نے خالصہ کالج کے قیام کے سلسلے میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ وہ بلونت سنگھ کے ہی پروردہ تھے۔ انہی کی وساطت سے انہوں نے وکالت کا امتحان پاس کیا اور گوجرانوالہ میں ایک قابل وکیل کے طور پر اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ 1915 ء میں سردار نرائن سنگھ سکول کمیٹی کے سیکرٹری اور پرتھی پال سنگھ صدر تھے۔ (مہک گوجرانوالہ نمبر، ص 206 )
یہ سکول آج بھی قائم ہے۔ اب یہ سکول کالج روڈ پر گرلز ہائر سیکنڈری سکول کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اس سکول کی پرانی عمارت اور اس کے اندر موجود بڑے ہال کا فن تعمیر اس کالج کے فن تعمیر سے ملتا ہے۔ سکول اور کالج کی عمارت ایک ہی فن تعمیر کا شاہکار ہیں۔ سکول اور کالج کے درمیان چند فرلانگ کا فاصلہ ہے۔ جس وقت یہ کالج قائم کیا گیا اس وقت خالصہ ٹرسٹ نے کئی ایکڑ زمین اس کالج کے نام وقف کر دی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد انجمن اسلامیہ گوجرانوالہ کو جب یہ کالج ٹرانسفر کیا گیا تو اس کالج کی زمین ایک سو پچھتر
کینال تھی۔ کالج کی یہ زمین کم ہوتے ہوتے بہت کم رہ گئی ہے۔ کالج کے ارد گرد دو محلے سکھوں کے گروؤں کے نام پر آج بھی آباد ہیں۔ ایک محلے کا نام گور و نانک پورہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بابا گورونانک نے اس جگہ پر قیام کیا تھا جس وجہ سے اس محلہ کا نام ”گورونانک پورہ“ رکھا گیا۔ اسی محلے میں برصغیر کی مشہور شاعرہ اور ادیب امرتا پریتم رہتی تھیں۔ انہوں نے تقسیم ہند پر ایک یاد گار نظم لکھی جو آج بھی زبان زد عام ہے اور لوگ اس نظم کو مختلف موقعوں پر پڑھتے ہیں۔
دوسرا محلہ سکھوں کے گرو گوبند سنگھ کے نام سے موسوم ہے اور اس محلے کو ”گوبند گڑھ“ کہا جاتا ہے۔ یہ کالج ان دو محلوں کے درمیان ہی واقع ہے۔ کالج کے سامنے کالج روڈ پر ایک امام بارگاہ ہے جو کبھی سکھوں کا گردوارہ ہوا کرتا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد یہ گردوارہ امام بارگاہ میں تبدیل ہو گیا۔ اس کا اگر اندر سے فن تعمیر دیکھا جائے تو یہ بالکل ایک گردوارے کا فن تعمیر نظر آئے گا جو ابھی بھی اپنی اصلی حا لت میں موجود ہے۔
1917 ءسے 1947 ء تک یہ کالج سکھوں کی بنائی ہوئی انتظامیہ جو کہ خالصہ ٹرسٹ کی شکل میں موجود تھی چلاتی رہی۔ 1947 ء میں پاکستان بن گیا۔ کون جانتا تھا کہ ایسا ہو گا؟ یہ علاقہ سکھوں کا تھا۔ پورے علاقے میں سکھوں کی جاگیریں تھیں۔ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا کہ ہندوستان تقسیم ہو گا۔ ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو سب کچھ تقسیم ہو گیا۔ جو ادارے انہوں نے قائم کیے تھے وہ مسلمانوں کے ہاتھ لگے اور اس کا انتظام بھی مسلمانوں کے پاس آ گیا۔ تقسیم سے پہلے اس کالج کے منتظمین کے نام بالترتیب یہ ہیں۔
1۔ مسٹر ایم۔ یو۔ مور (ایم۔ اے ) 1917 ءتا 1919 ء
2۔ سنت تیجا سنگھ جی (ایم، اے، ایل۔ ایل۔ بی) 1919 ء تا 1920 ء
3۔ بھائی جودھ سنگھ (ایم۔ اے ) 1920 ءتا 1922 ء
4۔ باوا ہرکشن سنگھ (ایم۔ اے ) 1922 ء تا 1947 ء۔
پنجاب یونیورسٹی کے 1927 ء کے تعلیمی کیلنڈر میں درج ریکارڈ کے مطابق درج ذیل شعبہ جات /مضامین میں اس کالج میں تعلیم دی جاتی تھی۔ سکھ تھیالوجی، انٹر میڈیٹ آرٹس فیکلٹی : انگریزی، ریاضی، تاریخ، معاشیات، فلاسفی، فارسی سنسکرت، عربی، اردو، ہندی اور پنجابی شامل تھے۔ سائنس فیکلٹی (ایف۔ ایس۔ سی) انگریزی، ریاضی، کیمیا، فزکس، باٹنی، زوالوجی، اردو، پنجابی اور ہندی شامل تھے۔ اس وقت کالج کے پرنسپل باوا ہرکشن سنگھ تھے۔
کالج کا سٹاف درج ذیل تھا: باوا ہرکشن سنگھ (پرنسپل) ، ایس۔ سندر سنگھ، ایم۔ ایس۔ سی (پنجاب) ، ایس۔ رنجیت سنگھ، ایم۔ اے (پنجاب) ، ایس۔ نرائن سنگھ، ایم۔ اے (پنجاب) ، ایس۔ نرائن سنگھ، ایم۔ ایس۔ سی (پنجاب) ، ایس۔ شیر سنگھ، بی۔ ایس۔ سی (پنجاب) ، باوا نرائن سنگھ، بی۔ اے، ایل۔ ایل۔ بی (پنجاب) ، ایس، صاحب سنگھ، بی۔ اے (پنجاب) ، ایم۔ غلام رسول، منشی فاضل (پنجاب) ، ایم۔ عبدالغفار، منشی فاضل، ایچ۔ پی، اردو (پنجاب) بی۔ ایچ۔ جیوند سنگھ، کلرک اینڈ لائبریرین، اور ڈاکٹر مہان سنگھ، ایس۔ اے۔ ایس، میڈیکل ایڈوائزر۔
گورونانک خالصہ انٹر میڈیٹ کالج ( موجودہ گورنمنٹ گریجوایٹ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ) سکھوں نے اپنی کمیونٹی کے لیے بنایا تھا۔ پھر بعد میں دوسری ذاتوں کے لوگ بھی اس کالج میں تعلیم حاصل کرنے لگے۔ پاکستان کے مشہور بیورو کریٹ الطاف گوہر بھی اسی کالج کے تعلیم یافتہ تھے۔ وہ اپنے ایک انٹرویو میں ذکر کرتے ہیں کہ مسلمان بچوں کو کالج میں سائنس کے مضامین رکھنے کی اجازت نہ تھی۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ کالج میں ہندو اور سکھ استاد تھے۔
ہندو اساتذہ کہتے تھے کہ تم مسلمان گائے کا گوشت کھاتے ہو اس لیے تم سائنس نہیں پڑھ سکتے ہو۔ ( جاوید چوہدری، گئے دنوں کے سورج) 1943 ء میں اس کالج سے تعلیم حاصل کرنے والے ایک طالب علم نے اپنی یادداشتوں میں اس کالج کو کچھ اس طرح یاد کیا ہے۔ ”میں نے کالج میں 1943 ء میں داخلہ لیا۔ میرے مضمون انگلش، اکنامکس، ہسٹری اور فارسی تھے۔ اردو اختیاری مضمون تھا۔ ہمارے کالج کے پرنسپل باوا ہرکشن سنگھ تھے۔ وہ ایک نہایت ہی مرنجاں مرنج انسان تھے۔
میانے قد کا دبلا پتلا آدمی تھا۔ ہر وقت نہایت صاف ستھرے لباس میں رہتا تھا۔ بڑے اعلیٰ ذوق کا انسان تھا اور نہایت ہی قابل اور تجربہ کار استاد تھا۔ پرنسپل صاحب ہمیں انگلش پوئٹری پڑھاتے تھے۔ انہیں انگریزی زبان پر عبور حاصل تھا اور وہ اس قدر اچھے انداز میں پوئٹری پڑھاتے تھے کہ ان کا پڑھا یا ہوا ہر لفظ ہمارے دل میں اتر جاتا۔ نہایت خلیق اور مہذب انسان تھے۔ انگریزی نثر ایک اور استاد پڑھاتے تھے جو مونا سکھ کہلاتے تھے۔
عموماً تمام سکھ لوگ داڑھی رکھتے تھے مگر بعض سکھ داڑھی نہیں رکھتے تھے اور انہیں مونا سکھ کہا جاتا تھا۔ یہ استاد بھی بڑے قابل اور تجربہ کار تھے۔ ہسٹری کے پروفیسر سردار کرپال سنگھ تھے۔ اکنامکس باوا نارائن سنگھ صاحب پڑھاتے تھے جو بڑے دلچسپ آدمی تھے۔ فارسی کے استاد صوفی عبدالعزیز صاحب تھے جو نہایت شریف، سیدھے سادھے لیکن نہایت قابل استاد تھے۔ جب وہ کلاس میں لیکچر دیتے تو چند شرارتی لڑکے منہ کے اندر غوں غوں کرنا شروع کر دیتے۔
کوئی اس کونہ سے اور کوئی اس کونہ سے۔ صوفی صاحب بڑے پریشان ہوتے مگر ایسی حرکت کرنے والے لڑکوں کا پتہ نہیں چلتا تھا، چنانچہ صوفی صاحب تنگ آ کر لیکچر دینا بند کر دیتے اور کہتے کہ“ اللہ کرے تم زمین میں دھنس جاؤ۔ ”اللہ تم پر بجلی گرائے اور اللہ تم پر اپنا عذاب نازل کرے۔“ اردو کے استاد پروفیسر منظور احمد صاحب تھے۔ بڑے قابل اور ذہین آدمی تھے۔ (خواجہ عبدالرشید، حیات مستعار، ص 61 )
یہ ایک اقامتی ادارہ تھا۔ اس کالج کے طلباء کے لئے دو ہوسٹل تعمیر کیے گئے۔ ایک ہوسٹل 1933 ء میں خراداں والے بازار میں تعمیر کیا گیا۔ یہ ہوسٹل 1990 ء تک طلباء کے لئے فعال تھا۔ اس ہوسٹل میں دور دراز کے علاقوں سے داخل ہونے والے طالب علم قیام کرتے تھے۔ اس کا ایک باقاعدہ ہوسٹل انچارج ہوا کرتا تھا جو کالج کا ہی ایک استاد ہوتا تھا۔ پروفیسر زمان چیمہ صاحب ( موجودہ صدر شعبہ اسلامیات ) بھی اس ہوسٹل کے انچارج کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔
اب یہ ہوسٹل خطر ناک حالت میں ہے۔ اس وقت کالج کا ایک چوکیدار صادق وہاں پر اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ اگر اس بلڈنگ کی دیکھ بھال نہ کی گئی تو کوئی نہ کوئی اس پر زبردستی قبضہ جما لے گا۔ اس سے پہلے بھی اس کالج کی بہت سی جگہوں پر قبضہ مافیا نے قبضے کر رکھے ہیں۔ ایک ریٹائرڈ ملازم درجہ چہارم نے بھی کالج کے رہائشی ملازمین کے کوارٹر پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس قبضے کا ایک عرصے سے کیس عدالت میں چل رہا ہے۔ اگر مذکورہ ہوسٹل کی طرف توجہ نہ دی گئی تو پھر کوئی ملازم ہی اس پر قبضہ کر لے گا یا کوئی اور طاقت ور۔
دوسرا ہوسٹل گورونانک پورہ میں تھا۔ یہاں پر بھی طلباء قیام کیا کرتے تھے۔ جلیانوالہ باغ کے واقعہ کے موقع پر اس ہوسٹل پر بھی برطانوی حکومت نے ائر فورس کے ذریعے بمباری کروائی تھی۔ اس واقعہ کی تفصیل سیڈیشن کمیٹی کی رپورٹ میں دیکھ سکتے ہیں۔ دھلے کے علاقے میں بھی بم گرائے گئے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد اس ہوسٹل کو بطور مہاجرین کے کیمپ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ کیمپ خاص طور پر کشمیر سے آنے والے مہاجرین کے لئے بنایا گیا۔
آج تک یہ کیمپ ان لوگوں کے ہی قبضہ میں ہے اور وہ ہی یہاں پر رہائش پذیر ہیں۔ تقسیم کے وقت گوجرانوالہ میں مہاجرین کے قیام کے لئے چار کیمپ قائم کیے گئے تھے۔ دو کیمپ محلہ گورونانک پورہ گوجرانوالہ میں قائم کیے گئے۔ کیمپ نمبر 1 سابقہ خالصہ ہائی سکول میں قائم کیا گیا۔ یہ خالصہ سکول اب ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 کہلاتا ہے جو کالج روڈ پر واقع ہے۔ دوسرا کیمپ جس کو کیمپ نمبر 2 کا نام دیا گیا اس سکول کے بالمقابل جانب جنوب گھنٹہ گھر روڈ پر سابقہ خالصہ بورڈنگ ہاؤس میں قائم کیا گیا۔
(سردار محمد عارف خان، پراوہ اور پریوار، ص 33 ) تقسیم ہند سے پہلے اس کالج کے کچھ فارغ التحصیل طلباء میاں ضیاءالحق، ڈاکٹر محمد یوسف عباسی، محمد رفیق تارڑ، غضنفر علی گوندل، محمد افضل، میاں محمد اکرم، چودھری محمد انور بھنڈر، چودھری سلیم محمود چاہل، چودھری محمد نواز، محمد سلیم، غلام جیلانی، مختار صدیقی، الطاف گوہر، اور احسان اللہ شامل ہیں۔ (مہک گوجرانوالہ نمبر، ص 869 )



بہت ہی باریک بینی سے ریسرچ کر کے یہ مضمون لکھا گیا ہے اور جس طرح مستند تاریخی حوالہ جات دیے گئے ہیں، اس سے لکھنے والے کی محنت اور ریسرچ کا پتا لگتا ہے تو دوسری طرف مصنف اس تاریخی ورثہ کی زبوں حالی پر بے بس اور کڑھتا ہے۔ بیشک میں بھی اسلامیہ کالج کا طالبعلم رہا ہوں اور اس کالج میں پڑھنا میری زندگیی کے حسین لمحات میں سے ہے۔۔۔ اللّه تعالیٰ کرے کہ مصنف کی تحریر کالج کا پرنسپل پڑھے اور وہ بھی اسی درد دل کیساتھ اس تاریخی ورثہ کی حفاظت کے متعلق سوچیں۔ یہ صرف ایک تاریخی ورثہ ہی نہیں، ہزاروں لوگوں کے جذبات اس کے درودیوار اور اینٹوں سے وابستہ ہیں۔۔۔