پی ٹی آئی کے 2014 دھرنے پر کتنا خرچہ آیا اور اسلام آباد مارچ پر کتنا پیسہ خرچ ہو سکتا ہے؟

احمد اعجاز - صحافی، مصنف


پی ٹی آئی
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد کی کامیابی نے پاکستان کی سیاست میں ایک نئے تلاطم کا آغاز کیا۔ تحریک انصاف کی جانب سے ملک گیر جلسوں کے اختتام پر پی ٹی آئی چیئرمین 25 مئی کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کر چکے ہیں۔

عمران خان کے مطابق نئے الیکشن کی تاریخ کے اعلان تک اس مارچ کے شرکا اسلام آباد میں ہی رہیں گے۔ ادھر وفاقی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا کہ جلد انتخابات کا اعلان کیا جائے گا۔ ایسی صورتحال میں تحریک انصاف کا مارچ ایک دھرنے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

یہ دھرنا کتنی دیر تک برقرار رہے گا؟ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن اسی سے جڑا ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا دھرنے کی طوالت کے لیے درکار معاشی وسائل تحریک انصاف کے پاس موجود ہیں اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ دھرنا پی ٹی آئی کی جیب پر کتنا بھاری پڑ سکتا ہے؟

اس ضمن میں یہاں جلسوں، مارچ اور دھرنوں پر اخراجات کے جائزہ کی ایک تصویر پیش کی گئی ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چھوٹے بڑے جلسوں اور دھرنوں پر کتنا اور کس کس مَد میں پیسہ خرچ ہوتا ہے۔

2014 کے پی ٹی آئی دھرنے پر کتنے اخراجات ہوئے تھے؟

پاکستان میں دھرنوں اور لانگ مارچ کی حالیہ سیاسی تاریخ میں 2014 میں ہونے والا پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کا دھرنا بے حد اہمیت کا حامل ہے جس کا ایک پہلو دھرنے کا دورانیہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ دھرنا 126 دن جاری رہا تھا جس کا آغاز بھی ایک لانگ مارچ کی صورت میں لاہور سے 14 اگست کو ہوا اور 15 اگست اسلام آباد پہنچنے کے بعد 18 اگست کو عمران خان نے وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون (وہ علاقہ جہاں اہم سرکاری عمارات موجود ہیں) میں داخل ہونے کا اعلان کیا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے 2014 کے دھرنے کے شرکا کے کھانے پینے کے انتظامات اور اخراجات اٹھانے والوں میں جڑانوالہ سے تعلق رکھنے والے خان بہادر ڈوگر بھی شامل تھے جنھوں نے 2018 میں جڑانوالہ کے صوبائی حلقہ پی پی 100 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا۔

جب اِن سے پوچھا گیا کہ 2014 کے دھرنے میں روازنہ کی بنیاد پر کھانے پینے کی مد میں کتنا خرچہ ہو رہا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’جس وقت میں نے یہ ذمہ داری سنبھالی تو شرکا کی تعداد 35 سے 40 ہزار کے درمیان تھی جن کے کھانے پینے کا خرچہ لگ بھگ 20 لاکھ روپے روزانہ کی بنیاد پر ہو رہا تھا۔ لیکن آخری دِنوں میں عوام کی تعداد کم ہونے سے روزانہ کا خرچہ کم ہو گیا تھا۔‘

واضح رہے کہ 19 اگست کو عمران خان اور طاہرالقادری نے اپنے کارکنوں سمیت پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا اور 30 اگست کو دھرنے کے شرکا کی پولیس سے اس وقت جھڑپ ہوئی جب انھوں نے مبینہ طور پر پارلیمنٹ ہاؤس اور پی ٹی وی کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

اس دھرنے کے انتظامی اُمور دیکھنے والے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’30 اگست کے واقعے کے بعد دھرنے کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ اگلے دِن پی ٹی آئی کے لوگ دھرنے میں شریک ہوئے، مگر وہ لیڈروں کی تقریریں سننے کے بعد گھروں کو چلے گئے، پھر یہی معمول رہا۔ یوں دھرنے کے روزانہ کے خرچے میں بھی فرق آ گیا۔‘

صدر پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد ریجن علی نواز اعوان سے جب سنہ 2014 دھرنے پر روزانہ کے اخراجات سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ’2014 کے دھرنے کے شروع میں شاید 20 لاکھ تک روزانہ، جبکہ آخری دنوں میں 5 لاکھ تک خرچ آتا تھا۔‘

علی نواز اعوان کے بقول پی ٹی آئی کے جلسوں اور دھرنوں میں شامل ہونے والی عوام زیادہ تر اپنا خرچ خود اٹھاتے ہیں کیوںکہ ’لوگ عمران خان سے پیار کرتے ہیں اور ان کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں۔‘

لیکن دھرنے میں کھانے پینے کا خرچ تو صرف ایک حصہ ہے۔ ایسے کئی اور عوامل بھی ہیں جو کسی بھی قسم کے بڑے سیاسی اجتماع کا لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں اور خرچے کی بڑی وجہ بھی بنتے ہیں۔

ایسا ہی ایک معاملہ ساوئنڈ سسٹم کا بھی ہے جس کے بغیر کوئی بھی بڑا سیاسی اجتماع نامکمل تصور ہوتا ہے۔

تحریک انصاف کے چھ سال قبل ہونے والے دھرنے میں آصف نذر (ڈی جے بٹ) نے ساؤنڈ سسٹم کے انتظامات سنبھالے تھے۔ ساؤنڈ سسٹم کا 126 دِن کا بِل کتنا بنا تھا؟ اس حوالے سے آصف نذر (ڈی جے بٹ)نے بتایا کہ ’یہ بِل 14 کروڑ کا تھا۔‘

آصف نذر (ڈی جے بٹ) فائل فوٹو

آصف نذر (ڈی جے بٹ) فائل فوٹو

اسلام آباد مارچ پر کتنا خرچہ آ سکتا ہے؟

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق اسلام آباد مارچ اور ممکنہ دھرنے سے عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ جلد از جلد عام انتخابات کا اعلان کرے۔

لیکن اسلام آباد مارچ پر کتنا پیسہ خرچہ ہو سکتا ہے؟

اسلام آباد مارچ میں خدمات دینے والے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اگر 50 ہزار لوگ اسلام آباد میں اکھٹے ہو جاتے ہیں اور یہ دھرنا پانچ دِن تک رہتا ہے تو اس میں تمام اخراجات کا تخمینہ 15 کروڑ سے 20 کروڑ تک ہو سکتا ہے۔‘

’لیکن یہ محض اسلام آباد پڑاؤ ڈالنے کا خرچہ ہے۔ اُن گاڑیوں کے کرائے، پیٹرول و ڈیزل اور عملے کا خرچہ شامل نہیں جو منصوبے کے مطابق گلگت بلتستان، کشمیر، سندھ، پنجاب یا خیبر پختونخوا سے آنی ہیں۔‘

’اس مارچ اور دھرنے کے لیے ابتدائی پانچ دِن کے انتظامات میں محض ساؤنڈ سسٹم پر جو خرچہ آ رہا ہے، وہ روزانہ 1 کروڑ 73 لاکھ بنتا ہے۔‘

’لائٹس، ٹرک اورجنریٹر کا خرچہ الگ ہے۔ واضح رہے کہ ٹرکوں پر ساؤنڈ سسٹم انسٹال ہوتا ہے اور ہر ٹرک پر لائٹس لگائی جاتی ہے اور ایک جنریٹر بھی موجود ہوتا ہے۔‘

’پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے لیے لگ بھگ ایسے 122 ٹرک تیار کیے گئے ہیں اور ایک ٹرک کا خرچہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 24 ہزار روپے بنتا ہے۔‘

’یہ ٹرک پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع، جہاں سے اسلام آباد کی طرف قافلے آنے ہیں، بھیجے جائیں گے جن میں خیبرپختونخوا سے ڈی آئی خان، بنوں، کوہاٹ، پشاور، ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور چارسدہ جب کہ پنجاب سے چکوال، جہلم، گجرات، گوجرانولہ، سیالکوٹ، لاہور، اوکاڑہ اور ملتان شامل ہیں۔‘

دھرنے کے دوران بڑی تعداد میں جنریٹرز بھی استعمال ہوتے ہیں۔

مختلف دھرنوں، جلسوں اور اجتماعات میں جنریٹرز مہیا کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ ’ایک جنریٹر کا روزانہ کا کرایہ 15 ہزار تک ہوتا ہے۔ ایک بڑا جنریٹر فی گھنٹہ 20 لیٹر تیل استعمال کرتا ہے اور اس دھرنے میں ایک سو سے زائد جنریٹر استعمال ہو سکتے ہیں۔‘

یہ پیسہ آئے گا کہاں سے؟ اس سوال پر صدر پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد ریجن علی نواز اعوان کا کہنا تھا کہ ’سارا خرچہ پارٹی کے چاہنے والے خود برداشت کر رہے ہیں اور ’نامنظور ڈاٹ کام‘ ویب سائٹ پر ہمارے پاس اس ضمن میں اچھی خاصی رقم جمع ہو چکی ہے۔‘

دھرنوں اورجلسوں کے وہ خرچے جو لوگوں کو نظر نہیں آتے

پی ٹی آئی

آصف نذر (ڈی جے بٹ) نے ہم سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’جب دوسرے شہر میں جاتے ہیں تو کچھ دن پہلے روانہ ہونا پڑتا ہے۔اُس شہر تک پہنچنے کے لیے اگر ایک دن کا سفر ہے تو ایونٹ سے تقریباً تین دن پہلے روانہ ہونا پڑتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا خرچہ زیادہ پڑتا ہے، لیبر کاسٹ بھی زیادہ آتی ہے، ٹرانسپورٹیشن کاسٹ بھی بڑھ جاتی ہے اور جو تین لاکھ روپے کا کام ہوتا ہے وہ چار سے پانچ لاکھ روپے پر چلا جاتا ہے۔ اگر لاہور سے اسلام آباد جا کر ساؤنڈ سسٹم نصب کیا جائے تو فی دِن خرچے کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ کتنا بڑا سسٹم لگنا ہے، کیونکہ یہ دیکھنا ہو گا کہ جلسہ کتنا بڑا ہے،عوام کی تعداد کتنی ہے۔‘

پی ٹی آئی جلسوں کے انتظامی اُمور دیکھنے والے ایک عہدیدار نے بتایا ’جس شہر میں جلسہ ہو رہا ہوتا ہے، اُس شہر کا کوئی شخص جب جلسہ گاہ یا دھرنے کے مقام پر پہنچے تو وہ خود اپنی جیب سے کھا پی رہا ہوتا ہے۔ لیکن جلسہ گاہ میں موجود ہر شخص اپنی جیب سے کھا اور پی نہیں رہا ہوتا۔‘

ان کے مطابق ’جلسہ گاہ اور دھرنے میں دوسرے شہروں سے آئے ہوئے لوگوں میں سے ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو انتظامیہ کا حصہ ہوتے ہیں، کوئی سکیورٹی پر مامور ہے، کوئی ڈرائیور ہے، تو اِن لوگوں کے کھانے پینے اور دیگر ضروری اشیا کا خرچہ کہیں سے کوئی اُٹھا رہا ہوتا ہے۔‘

اسی طرح جلسہ گاہ میں آنے والی گاڑیوں کا پیٹرول، ہیلی کاپٹر کا خرچہ، جنریٹرز، انٹرنیٹ ڈیوائسز، کنٹینرز کا عملہ اور اس میں بیٹھے ہوئے سوشل میڈیا کے لوگ یہ سب ایسے خرچے ہوتے ہیں جو دکھائی نہیں دیتے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں لانگ مارچ: وزرا کے گھروں پر توپوں سے عمران خان کے ’حقیقی آزادی مارچ‘ تک

کیا ادارے عمران خان کی عوامی مقبولیت کا دباؤ محسوس کر رہے ہیں؟

جلد انتخابات کس کے مفاد میں اور کس کے لیے نقصان دہ ہیں؟

پاکستان تحریکِ انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے اخراجات کا تخمینہ کیا ہو سکتا ہے؟ اس سوال کی کھوج میں صبغت اللہ (ہیڈ سینٹرل میڈیا ڈیپارٹمنٹ، پی ٹی آئی، اسلام آباد) سے رابطہ کیا گیا تو اِن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان تحریک انصاف کی ہر شہر میں سوشل میڈیا ٹیم ہے جو بغیر کسی معاوضے کے کام کرتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جلسے جلوسوں میں مجمع کی تعداد کے مطابق انتظامات کیے جاتے ہیں اور پی ٹی آئی اسلام آباد کی سوشل میڈیا انتظامیہ میں 50 ممبر ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد میں پریڈ گراؤنڈ 27 مارچ جلسے کے انتظامات سوشل میڈیا سکریٹری جو کہ امریکا میں رہتے ہیں، اپنے خرچ پر آئے اور یہاں انتظامات دیکھے۔‘

تاہم ان کی اس بات سے ہر کوئی اتفاق نہیں کرتا۔ اس ضمن میں ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ’کوئی اتنا فارغ نہیں ہوتا کہ مفت میں کام کرتا رہے۔ لازمی طورپر سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر کام کرنے والے لوگ معاوضہ لیتے ہیں۔‘

جھنڈے کسی بھی جلسے کا لازمی جزو ہوتے ہیں۔ مگر اِن جھنڈوں پر کتنی لاگت آتی ہے اور یہ کہاں تیار کیے جاتے ہیں؟ اس جانب عام لوگوں کا دھیان نہیں جاتا۔

جھنڈے تیار کرنے والے ایک کاریگر مطابق ’گذشتہ تین ہفتوں کے اندر 5 ملین (پچاس لاکھ) کے قریب جھنڈے تیار کیے گئے ہیں۔ تین ہفتے قبل کی لاگت فی جھنڈے پر 280 روپے بنتی ہے۔‘

جلسوں کی انتظامیہ میں سے ایک شخص کا کہنا تھا کہ ’جھنڈوں کا خرچہ اس طرح سے بھی بڑھ جاتا ہے کہ اگر بیس لاکھ جھنڈوں کا آرڈر دیا جائے تو وہاں سے کم جھنڈے تیار کیے جاتے ہیں کیونکہ اِن کی گنتی کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘

ملتان جلسے اور اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ جلسے پر کتنا خرچہ آیا؟

پی ٹی آئی کے ملتان جلسے کے انتظامات کی ذمہ داری ایک مقامی ادارے گرین لینڈ کے سپرد تھی۔ اس جلسے کا تخمینہ شروع میں 45 لاکھ لگایا گیا۔ لیکن جلسہ بڑھ گیا اور خرچہ بھی اور یہ رقم 65 لاکھ تک چلی گئی۔

اس 65 لاکھ میں محض سٹیڈیم کے اندر کے اخراجات شامل ہیں جس میں 14 ہزار کرسیاں، ساؤنڈ سسٹم (ڈی جے لاہور اور ملتان سے لیا گیا)، سکینر گیٹ، تین جگہوں پر سکرین لگنے کے ساتھ پانی، ٹینٹ اور سٹیج کے اخراجات شامل تھے۔

لیکن سٹیڈیم سے باہر کے اخراجات کا کوئی تخمینہ نہیں۔

ملتان کے سینیئر صحافی شاکر حسین شاکر کہتے ہیں کہ ’ملتان جلسے میں جو اخراجات کا تخمینہ ابتدا میں لگایا گیا وہ غلط ثابت ہوا کیونکہ یہ ایک کامیاب شو تھا جس میں ملتان، بہاولپور، ساہیوال، ڈیرہ غازی خان ڈویژن سے عوام نے شرکت کی اور لگ بھگ ایک لاکھ کے قریب لوگ تھے۔‘

27 مارچ کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں تحریک انصاف جلسے کے انتظامی اُمور کی نگرانی کرنے والے ایک شخص نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اُس جلسے پر 2 کروڑ 35 لاکھ خرچہ آیا تھا۔ اس میں ہر چیز کی لاگت شامل تھی جس میں کرسیوں، صوفے، لائٹس، کنٹینر وغیرہ کا خرچہ شامل ہے۔ لیکن اس جلسے میں باہر سے آنے والی ٹرانسپورٹ، اس میں استعمال ہونے والا پیٹرول و ڈیزل اور عملے کا خرچہ شامل نہیں اور نہ ہی اس میں جڑواں شہروں میں لگنے والے پینافلیکس اور جھنڈوں کی لاگت شامل ہے۔‘

اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں 27 مارچ کے جلسے کے حوالے سے صدر پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد ریجن علی نواز اعوان کا کہنا تھا کہ ’اس پر لاگت لگ بھگ ایک کروڑ تک ہو سکتی ہے اور کراچی میں ہونے والے جلسے کی لاگت ایک کروڑ ساٹھ لاکھ تک آئی جب کہ لوگ زیادہ تر اپنا پیسہ خود خرچ کرتے ہیں۔‘

چیف ایڈمنسٹریٹر پاکستان تحریکِ انصاف زاہد کاظمی کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے جلسوں کو رائے ونڈ میں ہونے والے تبلیغی اجتماع سے تشبیہہ دی جا سکتی ہے، اسی طرز پر پی ٹی آئی کا یہ سیاسی اجتماع ہوتا ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24718 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments