منتخب، غیر منتخب اور منتخب کا کھیل


آصف زرداری اور نواز شریف کا اتحادی حکومت قائم کرنا ایسا واقعہ ہے کہ غیر منتخب حکمرانوں کے کانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنا لازم ہے۔ اوپر سے مولانا فضل الرحمن کی موجودگی کا تڑکا سونے پر سہاگہ ہے۔ آصف زرداری کا تعلق اس جماعت سے ہے جس کی عمر اب 45 سال ہونے کو آئی ہے اور مین سٹریم پارٹیز میں اسے سب سے سینئر قرار دیا جا سکتا ہے۔ وہ خود بھی اقتدار کی غلام گردشوں کے 88 ء سے موجود ہیں۔ نواز شریف 83 ء میں پہلی دفعہ صوبائی وزیر خزانہ بنے اور اس کے بعد ان کے خاندان نے حکمرانی کے بہت سے سرد و گرم ادوار دیکھے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن بھی کم تجربہ کار نہیں۔ ان کے ایک اشارے پر سب کچھ قربان کرنے کو تیار بیٹھے کارکنوں کی وسیع تعداد مولانا کی اہمیت کو دوچند کر دیتی ہے۔

اسی لئے حکومت سے نکالے جانے کے بعد آغاز میں سابقہ منتخب حکمرانوں کی رسی دراز چھوڑ دی گئی تھی کہ کہیں اتحادیوں کا یہ خطرناک اشتراک غیر منتخب مقتدرہ کو بھی بہا کر نہ لے جائے۔ دوسری جانب سابقہ منتخب بھی اپنے جامے اور اوقات سے کچھ زیادہ ہی باہر ہوتے جا رہے تھے۔ اس لئے بڑا سوچ سمجھ کر بندوبست کیا گیا۔ فیصلہ آ گیا کہ کسی پارٹی کے منحرف ارکان اگر دوسری پارٹی کو ووٹ ڈالیں گے تو ان کو شمار ہی نہیں کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد شہباز حکومت ایم کیو ایم، بی اے پی، جمہوری وطن پارٹی اور ق لیگ جیسی پارٹیوں کے رحم وکرم پر قائم رہ گئی ہے جو عموماً غیر منتخب حکمرانوں کے اشارہ ابرو کے منتظر رہتے ہیں۔ چنانچہ منتخب کی ضرورت اور اہمیت کافی کم ہو گئی ہے جسے شاید وہ ابھی سمجھنے اور قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

البتہ اب نظر یہی آتا ہے کہ حکومت سے بے دخل ہونے والے منتخب کا شور و غلغلہ وقت کے ساتھ ساتھ کم سے کم ہوتا چلا جائے گا۔ لاڈلا ہونے کا تاثر بھی بتدریج کم ہو گا۔ جس کے نتیجے میں محفوظ سیاست کرنے والے پرندے اپنے نئے ٹھکانوں کی تلاش میں پرواز بھرنے لگیں گے۔ لیکن اگر کوئی سوچ رہا کہ منتخب کو بالکل بے اثر کر کے سیاسی منظر نامے سے غائب کر دیا جائے تو شاید ایسا ممکن نہیں ہو سکے گا۔ غیر منتخب حکمرانوں کو ہمیشہ ایسے متبادل منتخب کی ضرورت رہتی ہے جو منتخب افراد کو بے لگام ہونے سے روکنے میں مددگار ہو سکے۔

مئی 2006 ء میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے میثاق جمہوریت کر لیا اور اس کے مطابق دونوں پارٹیوں نے دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر 2011 ء میں 18 ویں آئینی ترمیم بھی کر ڈالی۔ اس موقع پر غیر منتخب حکمرانوں نے متبادل کے لئے سنجیدگی سے سوچا اور اسے کھڑا بھی کر دیا۔ میثاق جمہوریت والے سابقہ اتحادی اب مزید تجربہ کار اور غیر منتخب حکمرانوں کے نزدیک مزید خطرناک بھی ہوچکے ہیں۔ اس لئے ان کی نکیل ہاتھ میں رکھنے کے لئے ایک متبادل کی ضرورت رہے گی اور یہی ضرورت سابقہ حکمران کو ملکی سیاست میں زندہ رکھے گی۔

اتحادی فوری طور پر محض انتخابی اور نیب قوانین میں ہی ترامیم کر پائیں گے اور شاید انہیں اس کی اجازت مل بھی چکی ہے۔ اس کے بعد ان کی کوشش ہوگی کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرسکیں۔ اس کے انہیں دو فائدے ہوں گے۔ ایک تو موجودہ وزیراعظم آرمی چیف کی تقرری کرسکے گا۔ دوسرے ستمبر 2023 ء میں موجودہ چیف جسٹس سپریم کورٹ ریٹائر ہو جائیں گے اور نئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ مقرر ہوجائیں گے۔ اتحادیوں کی حکومت نئے چیف جسٹس کے موجودگی میں الیکشن کرواتے ہوئے زیادہ اطمینان محسوس کرے گی۔

نئی منتخب حکومت تازہ مینڈیٹ کے بعد مزید آئینی ترامیم کی جانب قدم بڑھائے گی جو اتحادیوں کے خیال میں آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لئے ضروری ہے۔ یہ متوقع منصوبہ بندی تو نئی منتخب حکومت کی ہو سکتی ہے لیکن غیر منتخب حکمران بھی اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنے کی خاطر ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ سیاسی یا معاشی طور پر مشکل وقت آتا ہے تو وہ وقتی طور پر کچھوے کی طرح اپنی گردن خول کے اندر چھپا لیتے ہیں اور مناسب وقت آتے ہی پھر سے پوری قوت اور طاقت کے ساتھ متحرک ہو جاتے ہیں۔ ایسے وقت پر منتخب ان کا پوری طرح مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے نون لیگ نے 2011 ء میں آئینی عدالت اور نیب کے حوالے سے ہونے والی آئینی و قانونی ترامیم کے حوالے سے تعاون کرنے سے انکار کر کے ان کا ساتھ دیا تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

حسن رشید رئیس کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments