کچھ نہ سمجھے، خدا کرے کوٸی


اس بار دھرنے کے لیے اعلان شدہ پچیس لاکھ سے کچھ کم افراد اسلام آباد میں اکٹھے ہو سکے، بس صرف چوبیس لاکھ نوے ہزار افراد کم۔ باقی پورے دس ہزار ساتھ تھے، ان میں سے بھی چار، ساڑھے چار ہزار ”کے پی کے“ کے سرکاری ملازم تھے، جن بے چاروں نے اگلے روز اپنی اپنی نوکری پر بھی جانا ہوتا ہے۔ ویسے خان صاحب چھ دن کے بعد دوبارہ آنے کی دھمکی دے کر گئے ہیں لیکن اتنی مہربانی فرمائی کہ اس بار پچیس لاکھ نہیں بلکہ بیس لاکھ افراد لے کر آئیں گے، گویا ایک ہی رات میں پانچ لاکھ کی رعایت۔

بڑی بات ہے شاید باجوہ صاحب یا چیف جسٹس صاحب نے فون کر کے درخواست کی ہو کہ غصہ جانے بھی دیں، جاندی کرو خان صاب، اور رانا ثناء اللہ سے بچ کر رہیں، کسی کی نہیں سنتا، لہذا اپنی جملہ منقولہ و غیر منقولہ اسیسریز کی حفاظت خود کریں، جیسے کل بھی جب تک سپریم کورٹ سے رانا صاحب کی طرف سے پٹائی نہ کرنے اور گرفتار نہ کرنے کی ضمانت مل جانے کے بعد بھی نیازی صاحب نے اسلام آباد پہنچ جانے کے باوجود بھی، اپنے ہی اعلان کے مطابق ڈی چوک کی طرف منہ کرنے کی کوشش نہیں کی، اور حیرت انگیز طور پر شیخ رشید کی بھی آواز اور دیگر موسیقی مکمل بند رہی، شاید کسی گیٹ کے باہر بنی سنتری پوسٹ سے کوئی تنبیہی فون آ گیا ہو کہ ”بچ جانا، ساڈے تے نہ رہنا۔

آج صبح جب کنفرم ہو گیا کہ رانا ثناءاللہ صاحب سوئے ہوئے ہیں، اور فوجی بھائیوں نے موقع محفوظ بنا لیا ہے، تب خان صاحب کالی ویلڈنگ والی عینک پہنے کسی نامعلوم مقام سے کنٹینر سمیت نمودار ہوئے، اور قاسم سوری کے باآواز بلند تقریر کو“ اسلامی ٹچ ”دینے کے احسن مشورے پر عمل کرتے ہوئے اپنی تقریر کو دیگر مصالحہ جات کے ساتھ ساتھ، حسب معمول اسلامی ٹچ بھی دیا، قاسم سوری ڈپٹی سپیکر شپ تو کھو ہی چکے ہیں، کم از کم اس“ اسلامی ٹچ ”والے مشورے کا ثواب تو ان کو ملے گا ہی، بشرطیکہ موصوف کے دائیں کندھے پر بیٹھا فرشتہ مخلوط ہجوم میں کہیں اور متوجہ نہ ہوا تو، بایاں وال تو ویسے ہی اتنا مصروف رہتا ہے، کہ اسے کان کھجانے تک کی فرصت نہیں ہوتی، یہ واضح نہیں کہ جو کان کھجانے کی اسے فرصت نہیں ہوا کرتی وہ سوری صاحب کا ہے یا اس کا اپنا۔

چلیں کچھ دن کے بعد دیکھتے ہیں کہ نیازی صاحب کون سے صوبے سے بولتے ہیں، خدشہ یہ بھی ہے کہ براہ راست دیرینہ تعلقات کی بنا پر طالبان کے پاس“ سیاسی پناہ ”نہ لے لیں، کیونکہ کبھی ماضی میں موصوف کو طالبان نے حکومت وقت سے مذاکرات کے لیے مرحوم مولانا سمیع الحق کے ہمراہ ان کو بھی اپنا نمائندہ مقرر کیا تھا، لیکن چوں کہ نیازی صاحب“ شرمیلی طبیعت ”کے حامل ہیں لہذا آپ نے ان“ مذاکرات ”میں شرکت سے معذرت کر لی۔ ادھر رانا ایک تو بڑا ظالم ہے ہی، دوسرے غصے میں بھی ہے کہ“ ریجاں ”نہ اتار سکا جی بھر کے، ورنہ انتظام تو انہوں نے ایسے کیا تھا، جیسے ولیمے پر ایک ہزار کا کھانا پکوایا جائے، اور آئیں پچاس مہمان مزدا میں بیٹھ کر۔ اس بار تو نیازی صاحب نے“ بروقت ”پشاور میں پناہ لے لی تھی، کہ امریکی سفیر کو بھی وہیں جا کر علانیہ طور پر“ خفیہ ”ملاقات کرنی پڑی، کہ مزا آیا ای سازش دا، ہور کریے سازش تھوڑی جئی؟ ، بس یہی کہنے آیا تھا سفیر۔ اشکے بھئی اشکے

Facebook Comments HS