سندھ میں ٹوڑ کی جنگ اور تاریخی درستگی

سندھ کی تاریخ میں ٹوڑ کی جنگ کو ’کور‘ ، ’کھور‘ یا ’کھوڑ‘ کی جنگ لکھا گیا ہے۔ یہ جنگ مغلوں اور کلہوڑوں کے درمیاں تقریباً 1699 ء یا 1700 ء میں لڑی گئی تھی۔ یہ لڑائی پاکستان کے صوبہ سندھ کے موجودہ ضلع دادو کی تحصیل جوہی کے کاچھو کے صحرا میں موجودہ گاؤں ٹوڑ کے قریب گاج ندی کے کنارے پر لڑی گئی تھی جو اس وقت کلہڑوں کے مرکزی گاؤں گاڑھی کے قریب ہے۔ ٹوڑ گاؤں اب جوہی تحصیل کی یونین کونسل بھی ہے۔
فارسی زبان میں لکھی گئی تاریخوں نے ٹوڑ کا تلفظ بگاڑ کر کور یا کھور لکھا جس کی تقلید میں انگریزی اور اردو میں مورخین نے کور یا کھور لکھا۔ سندھی زبان میں لکھی گئی تاریخوں نے کھوڑ لکھا ہے۔ یہ نام اصل میں کور، کھور یا کھوڑ نہیں بلکہ ٹوڑ ہے۔ مغلوں نے کلہوڑوں پر خراج مقرر کیا تھا۔ وہ خراج نہ ملنے پر اس زمانے میں لاہور اور ملتان کا گورنر شہزادہ محمد معزالدین لشکر لے کر سندھ آیا تو میان دین محمد کلہوڑو جو اپنے باپ میان نصیر محمد کلہوڑو کی 1692 ء میں وفات کے بعد گدی نشین بنا تھا، اس نے اپنے بندے قاسم اور کمال کو صلح کے لئے شہزادے کی پاس بھیجا اور خراج دینا قبول کیا۔
مغل فوج واپس ہونے لگی تو کلہوڑوں کے جرنیل شاہ بہارو کے بھائی مقصودو نے صلح کی خلاف ورزی کرتے ہوئے واپس جانے والی مغل فوج پر حملہ کیا۔ شہزادہ آگ بگولا ہو کر کلہوڑوں کے مرکزی شہر گاڑھی پر ٹوٹ پڑا اور دین محمد کلہوڑو کو ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کیا۔ اس کے بھائی میاں یار محمد کو بھی پکڑنا چاہا مگر میان یار محمد کلہوڑو نے اپنے سپہہ سالاروں کے ساتھ گاج ندی کے کنارے ٹوڑ گاؤں کے مقام پر ڈٹ کہ مقابلہ کیا۔
تاریخ تحفتہ الکرام کے مطابق بڑی خونریزی ہوئی۔ دونوں اطراف سے سپہ سالار مارے گئے۔ اس خونریز لڑائی کا مفصل ذکر فارسی میں کتاب ’تحفتہ الکرام‘ میں میر علی شیر قانع، اردو میں غلام رسول مہر ’سندھ کی تاریخ: کلہوڑا دور‘ اور علی احمد بروہی نے اپنی کتاب ’ٹامبس اسٹون ان سندھ بلوچستان‘ میں کیا ہے۔
پروفیسر عبداللہ مگسی کتاب ’سندھ جی تاریخ جو جدید مطالعو‘ میں بھی ٹوڑ کے بجائے کھوڑ کے مقام کے نام سے ذکر کیا ہے۔ اور میں نے اپنی کتاب ’کاچھو ہک ابھیاس‘ میں بھی مگسی کے حوالے سے کھوڑ کے نام سے ذکر کیا ہے۔ مگر بعد میں جب میں نے بغور جائزہ لیا اور علاقہ دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ مقام کور یا کھوڑ نہیں بلکہ ٹوڑ کا مقام ہے۔ وثوق سے کہتا ہوں کہ ٹوڑ کے مقام پر جو خونریز جنگ لڑی گئی تھی اس جنگ کے پس منظر میں میر الہیار خان تالپور اول کے مقبرے کی دیوار اور میان نصیر محمد کلہوڑو کے قبرستان میں ایک مقبرے کی دیوار پر فریسکو نقش نگاری میں جنگ کی نقش نگاری کی گئی ہے۔ یہ دونوں قبرستان ٹوڑ کے قریب ہیں۔
ٹوڑ کی جنگ میں مغلوں کے سپہہ سالاروں راجا گج سنگھ بھٹی، سورجمل ادھیپوری اور راؤ ادھے سنگھ کھتری اور کلہوڑوں کی طرف سے تاجو لیکھی اول، جادو شہید ببر اور دوسروں نے جان کا نذرانہ دیا۔ میان دین محمد کلہوڑو گرفتار ہوئے اور 28 ساتھیوں کے ساتھ ملتان میں قید کیے گئے۔ میاں یار محمد کلہوڑو نے کنبے کے ساتھ قلات میں پناہ لے لی۔
میاں یار محمد قلات سے 1701 ء میں واپس ہوئے اور میانوال تحریک کو فعال کیا۔ قوت سمیٹ کر مقامی قبیلوں کو مطیع بنایا اور 1718 ء میں مغل سرکار کی رضامندی اور ان کے دیے گئے پروانے (اجازت نامہ) اور خدا یار خان کے لقب ملنے کے بعد سندھ میں باقاعدہ کلہوڑا حکمرانی قائم کی اور خدآباد نامی گادی کا شہر قائم کیا جو آج بھی سندھ کے ضلع دادو۔ میں دادو شہر کے جنوب میں 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
بہرحال جس جنگ کا ذکر کور، کھور یا کھوڑ کے نام سے کیا گیا ہے وہ گاج ندی کے کنارے ٹوڑ کا مقام ہے۔ ٹوڑ کے مقام کو پہلے میر علی شیر قانع نے کتاب تحفتہ الکرام میں کھور کے نام سے غلط درج کیا۔ اردو اور انگریزی میں لکھی گئی تاریخوں میں بھی کھور درج کیا گیا جبکہ سندھی زبان میں لکھی گئی تاریخوں میں کھوڑ کا مقام لکھا گیا۔ سرزمین پر جا کر کسی نے تحقیقی نظر نہیں ڈالی۔ میں پہلے بھی ذکر کر کے آیا ہوں کہ جب غور کیا تو گاؤں گاڑھی کے قریب گاج کے کنارے پر کور، کھور یا کھوڑ نامی کوئی مقام یا علاقہ نہیں۔ ٹوڑ کا مقام آج بھی موجود ہے۔ فارسی میں ’ڑ‘ اور، ٹ ’نہیں ہیں۔ مگر میر علی شیر قانع ٹوڑ کو پتہ نہیں کس خیال سے کھور لکھا۔ ‘ تور ’لکھتے تو بھی کس حد تک بات سمجھ میں آتی۔ بہرکیف جنگ کے مقام کے نام میں درستگی ہونی چاہیے۔ یہ جنگ کھور کے مقام پر نہیں بلکہ ٹوڑ کے مقام پر لڑی گئی تھی۔
فوٹو:دیوار پر فریسکو نقش نگاری میں جنگ کا منظر


